وَ لَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ؕ وَ لَئِنۡ جِئۡتَہُمۡ بِاٰیَۃٍ لَّیَقُوۡلَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُبۡطِلُوۡنَ ﴿۵۸﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال بیان کی ہے اور یقینا اگر تو ان کے پاس کوئی نشانی لائے تو یقینا وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ضرور ہی کہیں گے کہ تم نہیں ہو مگر جھوٹے۔
En
اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے اور اگر تم اُن کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو یہ کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو
En
بیشک ہم نےاس قرآن میں لوگوں کے سامنے کل مثالیں بیان کر دی ہیں۔ آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی ﻻئیں، یہ کافر تو یہی کہیں گے کہ تم (بے ہوده گو) بالکل جھوٹے ہو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 58) ➊ { وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ:} سورت کے آخر میں فرمایا کہ ہم نے اپنے وجود، اپنی وحدانیت، اپنی قدرت، کائنات کی تخلیق اور اسے دوبارہ پیدا کرنے کی دلیل کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کردی ہیں اور رسول نے اپنا فریضہ ادا کر دیا ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص مزید کسی معجزے کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ ضد اور عناد کی وجہ سے ایسا کرتا ہے، کیونکہ جب کوئی شخص ایک واضح دلیل کو جھٹلا دے تو اس کے لیے دوسری دلیلوں کو جھٹلانا کچھ مشکل نہیں ہوتا۔
➋ {وَ لَىِٕنْ جِئْتَهُمْ بِاٰيَةٍ لَّيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا …:} اس لیے فرمایا کہ اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی معجزہ لے آئیں یہ یہی کہیں گے کہ تم تو محض جھوٹے ہو۔ اس آیت کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۱۱) اور یونس (۹۶، ۹۷)۔
➋ {وَ لَىِٕنْ جِئْتَهُمْ بِاٰيَةٍ لَّيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا …:} اس لیے فرمایا کہ اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی معجزہ لے آئیں یہ یہی کہیں گے کہ تم تو محض جھوٹے ہو۔ اس آیت کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۱۱) اور یونس (۹۶، ۹۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
58-1جن سے اللہ کی توحید کا اثبات اور رسولوں کی صداقت واضح ہوتی ہے اور اسی طرح شرک کی تردید اور اس کا باطل ہونا نمایاں ہوتا ہے۔ 58-2وہ قرآن کریم کی پیش کردہ کوئی دلیل ہو یا ان کی خواہش کے مطابق کوئی معجزہ وغیرہ 58-3یعنی جادو وغیرہ کے پیروکار، مطلب یہ ہے کہ بڑی سے بڑی نشانی اور واضح سے واضح دلیل بھی اگر وہ دیکھ لیں، تب بھی ایمان بہرحال نہیں لائیں گے، کیوں؟ اس کی وجہ آگے بیان کردی گئی ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ ان کا کفر و طغیان اس آخری حد کو پہنچ گیا ہے جس کے بعد حق کی طرف واپسی کے تمام راستے ان کے لیے مسدود ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
58۔ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثالیں بیان [64] کر دیں ہیں۔ اور اگر آپ ان کے پاس کوئی معجزہ بھی لے آئیں تو کافر لوگ یہی کہیں گے کہ تم تو جعلسازی کر رہے ہو
[64] یعنی موت کے بعد دوسری زندگی میں پیش آنے والے ہر طرح کے حالات سے قرآن کے ذریعہ لوگوں کو خبردار کر دیا ہے۔ اب بھی اگر کوئی بد بخت اپنے انجام سے بے خبر رہنا چاہتا ہے تو اس کی مرضی ہے۔ اللہ نے تو ہر طرح سے لوگوں پر حجت تمام کر دی ہے اور ان بد بختوں کی تو یہ حالت ہو چکی ہے کہ اگر آپ انھیں کوئی حسی معجزہ بھی دکھا دیں تو یہ کہنے لگیں گے کہ یہ بھی کوئی شعبدہ اور فریب کاری ہی معلوم ہوتی ہے جسے پیغمبر اور اس کے پیروکاروں نے ملی بھگت سے لوگوں کے سامنے پیش کر دیا ہے اور وہ آپس میں ہی ایک دوسرے کی تائید و توثیق کر کے دوسروں کو الو بنا رہے ہیں۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق ٭٭
’ حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کر دیا ہے اور مثالیں دےدے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ ان کے پاس تو کوئی بھی معجزہ آ جائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے ‘۔ دیکھئیے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔
خود قرآن کریم کی آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:96] میں ہے کہ ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آ جائیں یہاں تک کہ وہ درد ناک عذاب کا معائنہ کر لیں ‘۔
پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ بے علم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا، اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیئے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں ‘۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ «وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:65] آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت «فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:60] تلاوت فرمائی“۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/10:] (وہ حدیث جس سے اس مبارک سورۃ کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے)۔
خود قرآن کریم کی آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:96] میں ہے کہ ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آ جائیں یہاں تک کہ وہ درد ناک عذاب کا معائنہ کر لیں ‘۔
پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ بے علم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا، اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیئے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں ‘۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ «وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:65] آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت «فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:60] تلاوت فرمائی“۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/10:] (وہ حدیث جس سے اس مبارک سورۃ کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے)۔
ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم سا ہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے { تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:471/3:حسن]
اس کی سند حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اس میں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خبر ہے اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورہ روم کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس کی سند حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اس میں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خبر ہے اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورہ روم کی تفسیر ختم ہوئی۔