(آیت 57) {فَيَوْمَىِٕذٍلَّايَنْفَعُالَّذِيْنَظَلَمُوْامَعْذِرَتُهُمْ …:} یعنی اس دن ان کا یہ عُذر کہ ہمیں وقت ہی نہیں ملا، انھیں کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ہی انھیں معافی مانگنے یا اپنے رب کو راضی کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
57-1یعنی انھیں دنیا میں بھیج کر یہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہاں توبہ و اطاعت کے ذریعے سے عتاب الٰہی کا ازالہ کرلو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
57۔ پس اس دن ظالموں کو نہ ان کی معذرت کچھ فائدہ دے گی اور نہ ہی ان سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے [63] پروردگار کو راضی کر لیں
[63] قیامت کا دن دنیا میں کئے ہوئے اعمال کے بدلہ کا دن ہو گا، عذر معذرت کا دن نہیں ہو گا۔ دنیا میں تو انھیں کہا جاتا تھا کہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لو۔ توبہ استغفار کر لو اور اپنے پروردگار کو راضی اور خوش کر لو۔ لیکن اس دن ان ظالموں کو یہ بات بھی کوئی نہ کہے گا۔ کیونکہ عذر معذرت اور توبہ تائب کا وقت صرف دنیا میں ہے اور موت تک ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔