ترجمہ و تفسیر — سورۃ الروم (30) — آیت 41

ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۴۱﴾
خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ وہ انھیں اس کا کچھ مزہ چکھائے جو انھوں نے کیا ہے، تاکہ وہ باز آجائیں۔ En
خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا اُن کو اُن کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں
En
خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعﺚ فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وه باز آجائیں۔ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41) ➊ { ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ …:} خشکی سے مراد زمین کے میدان، پہاڑ اور صحرا وغیرہ ہیں اور سمندر سے مراد سمندری جزیرے، ساحلوں پر آباد شہر اور بستیاں اور سمندروں میں سفر کرنے والے جہاز اور کشتیاں ہیں۔ فساد (خرابی) سے مراد ہر آفت اور مصیبت ہے، چاہے وہ جنگ و جدال اور قتل و غارت کی صورت میں نازل ہو یا قحط، بیماری، فصلوں کی تباہی، بدحالی، سیلاب اور زلزلے وغیرہ کی صورت میں ہو۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے بحر و بر میں جو فتنہ و فساد بپا ہے اور آسمان کے نیچے جو ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں، یہ سب شرک کی وجہ سے ہیں۔ جب سے لوگوں نے توحید اور دین فطرت کو چھوڑ کر شرک کی راہیں اختیار کی ہیں اس وقت سے یہ ظلم و فساد بھی بڑھ گیا ہے۔ شرک جیسے قولی اور اعتقادی ہوتا ہے اسی طرح شرک عملی بھی ہے، جو فسق و فجور اور معاصی کا روپ دھار لیتا ہے۔ اس بات کی تعیین کہ آیت میں { بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ } (جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا) سے مراد شرک ہے، اگلی آیت کے ساتھ ہوتی ہے، فرمایا: «{ قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلُ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِيْنَ [الروم: ۴۲] کہہ دے زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، ان کے اکثر مشرک تھے۔ ان اقوام کی دوسری خرابیاں، جن کا قرآن نے ذکر فرمایا ہے اور جن کی وجہ سے ان پر عذاب آیا، ان کا اصل بھی شرک تھا، اگر وہ ایک اللہ پر ایمان لاتے تو ہر گز ایسے گناہوں کے اجتماعی طور پر مرتکب نہ ہوتے۔
➋ اس کے برعکس جس معاشرے کی بنیاد اللہ کی توحید اور اس کے احکام و حدود کی اقامت پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے شمار برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۶۵، ۶۶) اور اعراف (۹۶)۔
➌ { لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا …:} پوری سزا تو آخرت میں ملے گی، مگر یہ تھوڑے سے عذاب کا نمونہ ہے، تاکہ لوگ شرک اور نافرمانی چھوڑ کر توحید اور فرماں برداری کی راہ اختیار کر لیں۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۲۱) اور توبہ (۱۲۶)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

41-1خشکی سے مراد، انسانی آبادیاں اور تری سے مراد سمندر، سمندری راستے اور ساحلی آبادیاں ہیں فساد سے مراد ہر وہ بگاڑ ہے جس سے انسانوں کے معاشرے اور آبادیوں میں امن و سکون تہ وبالا ہوجاتا ہے اور ان کے عیش و آرام میں خلل واقع ہو۔ اس لیے اس کا اطلاق معاصی وسیئات پر بھی صحیح ہے کہ انسان ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہیں اللہ کی حدوں کو پامال اور اخلاقی ضابطوں کو توڑ رہے ہیں اور قتل و خونریزی عام ہوگئی ہے اور ان ارضی و سماوی آفات پر بھی اس کا اطلاق صحیح ہے جو اللہ کی طرف سے بطور سزا و تنبیہ نازل ہوتی ہیں جیسے قحط، کثرت موت، خوف اور سیلاب وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اللہ کی نافرمانیوں کو اپنا وطیرہ بنالیں تو پھر مکافات عمل کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے اعمال و کردار کا رخ برائیوں کی جانب پھرجاتا ہے اور زمین فساد سے بھر جاتی ہے امن و سکون ختم اور اس کی جگہ خوف و دہشت، سلب و نہب اور قتل و غارت گری عام ہوجاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ بعض دفعہ آفات ارضی و سماوی کا بھی نزول ہوتا ہے۔ مقصد اس سے یہی ہوتا ہے کہ اس عام بگاڑ یا آفات الہیہ کو دیکھ کر شاید لوگ گناہوں سے باز آجائیں توبہ کرلیں اور ان کا رجوع اللہ کی طرف ہوجائے۔ اس کے برعکس جس معاشرے کا نظام اطاعت الہی پر قائم ہو اور اللہ کی حدیں نافذ ہوں، ظلم کی جگہ عدل کا دور دورہ ہو۔ وہاں امن و سکون اور اللہ کی طرف سے خیر برکت کا نزول ہوتا ہے۔ جس طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ زمین میں اللہ کی ایک حد کو قائم کرنا وہاں کے انسانوں کے لیے چالیس روز کی بارش سے بہتر ہے۔ اسی طرح یہ حدیث ہے کہ جب ایک بدکار آدمی فوت ہوجاتا ہے تو بندے ہی اس سے راحت محسوس نہیں کرتے شہر بھی اور درخت اور جانور بھی آرام پاتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ بحر و بر میں فساد پھیل گیا ہے جس کی وجہ لوگوں کے اپنے کمائے [47] ہوئے اعمال ہیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے کچھ اعمال [48] کا مزا چکھا دے۔ شاید وہ ایسے کاموں سے باز آجائیں
[47] فساد فی الارض کا اصل سبب:۔
یہاں بر و بحر سے مراد پورا مشرق وسطی بھی ہو سکتا ہے جو ان دنوں روم اور فارس کی جنگوں کی وجہ سے ظلم اور فساد کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ اور عرب کا علاقہ بھی۔ کیونکہ اکثر عربی قبائل کا پیشہ ہی مار دھاڑ، لوٹ کھسوٹ اور قتل غارت تھا۔ اور اس فساد سے محفوظ اگر کوئی جگہ تھی تو وہ صرف حرم مکہ کی حدود تھیں۔ اور اس ظلم و فساد اور طغیانی کی اصل وجہ یہی تھی کہ وہ لوگ نہ بعث بعد الموت کے قائل تھے اور نہ اللہ کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی اور جزاء و سزا کے۔ لہٰذا ہر شخص اپنے ذاتی اور دنیوی مفادات کی خاطر دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے ہر وقت مستعد رہتا تھا اور نتیجتاً یہ سرزمین ظلم و جور سے بھر گئی تھی۔
[48] یعنی یہ فساد ان کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ظہور پذیر ہوا تھا۔ اور یہ ان کے اعمال کا بدلہ تھا۔ بلکہ اللہ کی طرف سے تھوڑا سا بدلہ تھا۔ اور اس تھوڑے سے بدلہ سے عام لوگ سخت پریشان حال تھے اور ان کے لئے زندگی اجیرن بن گئی تھی۔ اور یہ تھوڑی سی سزا اللہ نے انھیں اس لئے دی کہ شاید اب بھی وہ غور کر کے اس ظلم و فساد کی اصل وجہ تلاش کر لیں۔ اور اصل دین فطرت کی طرف لوٹ آئیں۔ آخرت کی جوابدہی سے ڈر جائیں اور اللہ کے فرمانبردار بن جائیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

زمین کی اصلاح اللہ تعالٰی کی اطاعت میں مضمر ہے ٭٭
ممکن ہے «بَرِّ» یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور «بَحْرِ» یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات ہوں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بر کہتے ہیں خشکی کو اور بحر کہتے ہیں تری کو خشکی کے فساد سے مراد بارش کا نہ ہونا پیداوار کا نہ ہونا قحط سالیوں کا آنا ہے۔ تری کے فساد سے مراد بارش کا رک جانا جس سے پانی کے جانور اندھے ہو جاتے ہیں۔ انسان کا قتل اور کشتیوں کا جبر چھین جھپٹ لینا یہ خشکی تری کا فساد ہے۔
«بَحْرِ» سے مراد جزیرے اور «بَرِّ» سے مراد شہر اور بستیاں ہیں۔ لیکن اول قول زیادہ ظاہر ہے اور اسی کی تائید محمد بن اسحاق کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلہ کے بادشاہ سے صلح کی اور اس کا بحر یعنی شہر اسی کے نام کر دیا }۔ ۱؎ [طبقات ابن سعد:220/1:]‏‏‏‏
پھلوں کا اناج کا نقصان دراصل انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہے اللہ کے نافرمان زمین کے بگاڑنے والے ہیں۔ آسمان و زمین کی اصلاح اللہ کی عبادت و اطاعت سے ہے۔
ابوداؤد میں حدیث ہے کہ { زمین پر ایک حد کا قائم ہونا زمین والوں کے حق میں چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2538، قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏۔
یہ اس لیے کہ حد قائم ہونے سے مجرم گناہوں سے باز رہیں گے۔ اور جب گناہ نہ ہونگے تو آسمانی اور زمینی برکتیں لوگوں کو حاصل ہونگی۔ چنانچہ آخر زمانے میں جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے اور اس پاک شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے مثلا خنزیر کا قتل، صلیب کی شکست، جزئیے کا ترک یعنی اسلام کی قبولیت یا جنگ پھر جب آپ علیہ السلام کے زمانے میں دجال اور اس کے مرید ہلاک ہو جائیں گے یاجوج ماجوج تباہ ہو جائیں گے تو زمین سے کہا جائے گا کہ اپنی برکتیں لوٹادے اس دن ایک انار لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہوگا اتنا بڑا ہوگا کہ اس کے چھلکے تلے یہ سب لوگ سایہ حاصل کرلیں۔ ایک اونٹنی کا دودھ ایک پورے قبیلے کو کفایت کرے گا۔
یہ ساری برکتیں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے جاری کرنے کی وجہ سے ہونگی جیسے جیسے عدل و انصاف مطابق شرع بڑھے گا ویسے ویسے خیر و برکت بڑھتی چلی جائے گی۔ اس کے برخلاف فاجر شخص کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ { اس کے مرنے پر بندے، شہر، درخت اور جانور سب راحت پالیتے ہیں } ۱؎ [صحیح بخاری:6512]‏‏‏‏
مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ زیاد کے زمانے میں ایک تھیلی پائی گئی جس میں کھجور کی بڑی گھٹلی جیسے گہیوں کے دانے تھے اور اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانے میں اگتے تھے جس میں عدل وانصاف کو کام میں لایا جاتا تھا۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:296/2:ضعیف]‏‏‏‏ سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فساد سے شرک ہے لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ مال اور پیداوار کی اور پھر اناج کی کمی بطور آزمائش کے اور بطور ان کے بعض اعمال کے بدلے کے ہے ‘۔
جیسے اور جگہ ہے آیت «وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:168]‏‏‏‏ ’ ہم نے انہیں بھلائیوں برائیوں میں مبتلاکیا تاکہ وہ لوٹ جائیں ‘۔
’ تم زمین میں چل پھر کر آپ ہی دیکھ لو کہ تم سے پہلے جو مشرک تھے اس کے نتیجے کیا ہوئے؟ رسولوں کی نہ ماننے اللہ کے ساتھ کفر کرنے کا کیا وبال ان پر آیا؟ یہ دیکھو اور عبرت حاصل کرو ‘۔