اور جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو اچانک وہ نا امید ہو جاتے ہیں۔
En
اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اُس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر اُن کے عملوں کے سبب جو اُن کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی گزند پہنچے تو نااُمید ہو کر رہ جاتے ہیں
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزه چکھاتے ہیں تو وه خوب خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تو ایک دم وه محض ناامید ہو جاتے ہیں
En
(آیت 36) ➊ {وَاِذَاۤاَذَقْنَاالنَّاسَرَحْمَةًفَرِحُوْابِهَا …:} اس آیت میں لوگوں کو رحمت چکھانے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، یعنی ”جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں“ اور برائی پہنچنے کا سبب ان کے ہاتھوں کی کمائی یعنی ان کے اعمال کو قرار دیا ہے۔ اس کی تفسیر کے لیے سورۂ نساء کی آیت (۷۹): «{ مَاۤاَصَابَكَمِنْحَسَنَةٍفَمِنَاللّٰهِوَمَاۤاَصَابَكَمِنْسَيِّئَةٍفَمِنْنَّفْسِكَ}» کی تفسیر پر نظر ڈال لیں۔ اسی طرح رحمت چکھانے کے لیے {”اِذَاۤ“} (جب) کا لفظ فرمایا اور برائی پہنچنے کے لیے {”اِنْ“} (اگر) کا لفظ فرمایا جو شک کے لیے آتا ہے۔ اس میں رحمت کے مقابلے میں تکلیف کے بہت ہی کم ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ (رازی) ➋ آیت میں انسان کی ناشکری، تنگ ظرفی اور تھڑدلی کا بیان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی تھوڑی سی نعمت بھی ({”رَحْمَةً“} کی تنوین تنکیر و تقلیل کے لیے ہے) عطا ہوتی ہے تو وہ اس پر پھول جاتا ہے۔ اس کی چال ڈھال اور ہر حرکت سے اس کی نخوت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس وقت نہ وہ خالق کو خاطر میں لاتا ہے نہ اس کی مخلوق کو اور نہ اسے یہ یاد رہتا ہے کہ یہ نعمت دائمی نہیں بلکہ ہر حال میں چھننے والی ہے اور اگر اپنے ہی اعمال کی وجہ سے کوئی برائی آ پہنچے تو اچانک (فوراً ہی) ناامید ہو جاتا ہے اور ہمت ہار بیٹھتا ہے کہ اب کوئی نہیں جو میری مصیبت ٹال سکے۔ یہ کافر کی حالت ہے کہ سختی کے وقت مایوس ہو جاتا ہے اور عیش و آرام کے وقت تکبر و غرور کرنے لگتا ہے۔ بہت سے کمزور ایمان والوں کا بھی یہی حال ہے۔ مگر صحیح مومن کا حال اس کے برعکس ہے، اسے عیش و آرام میسر ہوتا ہے تو اللہ کا شکر بجا لاتا ہے اور جب مصیبت یا تنگی پہنچتی ہے تو صبر و تحمل سے کام لیتا ہے۔ (دیکھیے سورۂ ہود: ۹تا ۱۱) صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [عَجَبًالِأَمْرِالْمُؤْمِنِإِنَّأَمْرَهُكُلَّهُخَيْرٌوَلَيْسَذَاكَلِأَحَدٍإِلَّالِلْمُؤْمِنِإِنْأَصَابَتْهُسَرَّاءُشَكَرَفَكَانَخَيْرًالَّهُوَإِنْأَصَابَتْهُضَرَّاءُصَبَرَفَكَانَخَيْرًالَّهُ][مسلم، الزھد والرقائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹]”مومن کے ہر حال پر تعجب ہے، کیونکہ اس کا ہر معاملہ ہی خیر ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے توصبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے خیر ہوتا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
36-1یہ وہی مضمون ہے جو سورة ہود میں گزرا اور جو انسانوں کی اکثریت کا شیوہ ہے کہ راحت میں وہ خوش ہوتے ہیں اور مصیبت میں ناامید ہوجاتے ہیں۔ اہل ایمان اس سے مستشنٰی ہیں۔ وہ تکلیف میں صبر اور راحت میں اللہ کا شکر یعنی عمل صالح کرتے ہیں۔ یوں دونوں حالتیں ان کے لئے خیر اور اجر وثواب کا باعث بنتی ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ اور جب ہم انھیں اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو یہ اترانے [40] لگتے ہیں۔ اور جب ان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو آس توڑ بیٹھتے ہیں۔
[40] انسان کی تنگ ظرفی اور چھچھورا پن :۔
اس آیت میں انسان کی نا شکری، تنگ ظرفی اور چھچھورے پن کا ذکر ہے۔ انسان کی عادت ہے کہ جب اس پر خوشحالی کے دن آتے ہیں تو پھولا نہیں سماتا۔ اس کی وضع قطع چال ڈھال اور گفتگو سے ہی اس کی نخوت کا پتہ چل جاتا ہے۔ اس وقت وہ نہ اپنے خالق کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ خلق خدا کو اور یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اسے ہی سرخاب کے پر لگے ہوئے تھے جو اسے یہ عیش و آرام میسر ہے۔ پھر جب کسی وقت اس پر برے دن آجاتے ہیں۔ تو بھی اللہ کی نا شکری ہی کرنے لگتا ہے اور اللہ کی رحمت سے مایوسی کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس مومن کی حالت اس کے بالکل الٹ ہوتی ہے۔ اس پر خوشحالی کے دن آئیں تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اس کے آگے پہلے سے زیادہ جھک جاتا ہے۔ اور جب سختی کے دن آئیں تو نہایت صبر و تحمل سے یہ زمانہ گزارتا ہے اور اللہ کا شکر ہر حال میں ادا کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔