(آیت 35) {اَمْاَنْزَلْنَاعَلَيْهِمْسُلْطٰنًا …: ”اَمْ“} کلام کے درمیان آتا ہے، اس سے پہلے ہمزہ استفہام والا جملہ ہوتا ہے، یہاں وہ جملہ کیا ہے؟ رازی نے فرمایا: ”تو کیا وہ بلا دلیل محض خواہش نفس کی پیروی میں شریک کر رہے ہیں، یا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے…؟“ ہمارے استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں: ”یعنی آخر شرک کی دلیل کیا ہے؟ کیا ان کی عقل یہ کہتی ہے یا (ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے اور) ہماری کسی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ تمھارے فلاں بزرگ کو ہم نے اپنے اختیارات میں شریک کر لیا ہے، لہٰذا تم انھیں بھی اپنی حاجت روائی کے لیے پکار سکتے ہو؟“ مزید دیکھیے سورۂ احقاف (۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
35-1یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ جن کو اللہ کا شریک گردانتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں، یہ بلا دلیل ہے، اللہ نے اس کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ بھلا اللہ تعالیٰ شرک کے اثبات و جواز کے لئے کس طرح کوئی دلیل اتار سکتا تھا۔ جب کہ اس نے سارے پیغمبر بھیجے ہی اس لئے تھے کہ وہ شرک کی تردید اور توحید کا اثبات کریں۔ چناچہ ہر پیغمبر نے آکر سب سے پہلے اپنی قوم کو توحید ہی کا وعظ کیا۔ اور آج اہل توحید مسلمانوں کو بھی نام نہاد مسلمانوں میں توحید و سنت کا وعظ کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ مسلمان عوام کی اکثریت شرک و بدعت میں مبتلا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
35۔ یا ہم نے ان پر کوئی سند اتاری [39] ہے جو اس شرک کو صحیح بتاتی ہو جو یہ لوگ کر رہے ہیں
[39] کیا ان لوگوں کے پاس کوئی ایسی دلیل ہے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ فلاں مصیبت سے اللہ نے نہیں بلکہ فلاں حضرت نے نجات دی تھی۔ یا یہ خوشحالی کے دن اللہ کی مہربانی سے نہیں بلکہ فلاں حضرت کی نظر کرم کی وجہ سے میسر آئے ہیں۔ کیا کسی آسمانی کتاب میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اللہ نے اپنے فلاں فلاں کے اختیارات و تصرفات فلاں فلاں حضرت کو یا فلاں دیوتا کو یا بت کو تفویض کر دیئے ہیں اور ان کاموں کے لئے تم ان کی طرف رجوع کر سکتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔