(آیت 15) {فَاَمَّاالَّذِيْنَاٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ …: ”رَوْضَةٍ“} میں تنوین تعظیم اور تفخیم کے لیے ہے، عظیم اور عالی شان باغ، مراد جنت ہے۔ {”يُحْبَرُوْنَ“”حَبَرَهُيَحْبُرُهُ“} جب کسی کو ایسا خوش کیا جائے کہ اس کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھے اور {”تَحْبِيْرٌ“} مزین کرنا، چمکا دینا۔ یعنی ایمان اور عمل صالح والے لوگ عظیم اور عالی شان باغ یعنی جنت میں خوش کیے جائیں گے، انھیں کھانے پینے، رہنے اور دوستوں، بیویوں اور دل میں آنے والی ہر خواہش پوری ہونے کی خوشی عطا کی جائے گی اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی زیارت کی خوشی نصیب ہو گی، جس سے بڑی کوئی خوشی نہیں ہو گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15-1یعنی انھیں جنت میں اکرام و انعام سے نوازا جائے گا، جن سے وہ مذید خوش ہونگے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ تو جنت کے باغیچوں میں شاداں و فرحان ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔