(آیت 14) {وَيَوْمَتَقُوْمُالسَّاعَةُيَوْمَىِٕذٍيَّتَفَرَّقُوْنَ:} دنیا میں مومن و کافر اور موحد و مشرک اکٹھے رہ رہے ہیں، ان کے درمیان وطن، نسب، کاروبار، پیشے اور دوستی وغیرہ کے تعلقات بھی ہوتے ہیں، مگر قیامت کے دن ان کے درمیان ایسی جدائی واقع ہو جائے گی کہ پھر کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے، چنانچہ کہا جائے گا: «{ وَامْتَازُواالْيَوْمَاَيُّهَاالْمُجْرِمُوْنَ}»[یٰس: ۵۹]”اور الگ ہو جاؤ آج اے مجرمو!“ اور تمام اہل محشر دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے، فرمایا: «{ فَرِيْقٌفِيالْجَنَّةِوَفَرِيْقٌفِيالسَّعِيْرِ }»[الشورٰی: ۷]”ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ بھڑکتی آگ میں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14-1اس سے مراد ہر فرد کا دوسرے فرد سے الگ ہونا نہیں ہے۔ بلکہ مطلب مومنوں کا اور کافروں کا الگ الگ ہونا ہے اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے اور ان کے درمیان دائمی جدائی ہوجائے گی، یہ دونوں پھر کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے یہ حساب کے بعد ہوگا۔ چناچہ اسی علیحدگی کی وضاحت اگلی آیات میں کی جارہی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ اور جس دن قیامت قائم ہو گی لوگ الگ الگ گروہوں میں بٹ جائیں گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس روز اہل خیر اور اہل شر علیحدہ علیحدہ کھڑے ہوں گے جس طرح دنیا میں ان کے اعمال علیحدہ علیحدہ تھے۔﴿فَاَمَّاالَّذِیْنَاٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کی ﴿فَهُمْفِیْرَوْضَةٍ ﴾”تو وہ باغ میں“ جس میں ہر قسم کے درخت، پودے اور تمام دل پسند چیزیں ہوں گی ﴿یُّحْبَرُوْنَ ﴾”خوش ہوں گے۔“ یعنی ان کو خوش رکھا جائے گا اور نعمتوں سے نوازا جائے گا، مثلاً: نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، خوبصورت حوریں، خدام، خدمت گار لڑکے، طرب انگیز آوازیں، سرور انگیز نغمے، خوبصورت و خوش کن مناظر، بہترین خوشبوئیں، فرحت و سرور اور لذت و نعمت وغیرہ جن کے اوصاف بیان کرنے کی کوئی شخص قدرت نہیں رکھتا۔
﴿وَاَمَّاالَّذِیْنَكَفَرُوْا ﴾”اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا“ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کیا، ان کے مقابلے میں کفر کیا ﴿وَؔكَذَّبُوْابِاٰیٰتِنَا ﴾”اور ہماری (ان) آیتوں کو جھٹلایا“ جنھیں ہمارے رسول لے کر آئے تھے ﴿فَاُولٰٓىِٕكَفِیالْعَذَابِمُحْضَرُوْنَ ﴾”تو وہ لوگ عذاب میں ڈالے جائیں گے۔“ جہنم ان کو ہر طرف سے گھیر لے گی، دردناک عذاب ان کے دلوں تک پہنچ جائے گا، ابلتا ہوا پانی ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ دونوں گروہوں کے درمیان کتنا فرق ہے؟ نعمتوں سے سرفراز اور عذاب میں مبتلا دونوں گروہوں کے مابین کہاں برابری ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وفي ذلك اليوم يفترق أهل الخير والشرِّ كما افترقتْ أعمالهم في الدنيا. {فأمَّا الذين آمنوا وعملوا الصالحاتِ}: آمنوا بقلوبِهِم وصدَّقوا ذلك بالأعمال الصالحة {فهم في روضةٍ}: فيها سائرُ أنواع النبات وأصنافِ المشتَهَياتِ {يُحْبَرونَ}؛ أي: يُسَرَّون، وينعَّمون بالمآكل اللذيذة والأشربة والحور الحسان والخدم والوِلْدان والأصوات المطربات والسماع المشجي والمناظر العجيبة والروائح الطيبة والفرح والسرور واللَّذَّة والحبور، مما لا يقدِرُ أحدٌ أن يصفه. {وأما الذين كفروا}: وجَحَدوا نعمه، وقابلوها بالكفر، {وكذَّبوا بآياتنا}: التي جاءتهم بها رسُلُنا {فأولئكَ في العذاب مُحْضَرونَ}: فيه، قد أحاطتْ بهم جهنَّم من جميع جهاتهم، واطَّلع العذابُ الأليمُ على أفئدتهم، وشوى الحميمُ وجوهَهم، وقطَّع أمعاءَهم؛ فأين الفرق بين الفريقين؟! وأين التساوي بين المنعمين والمعذبين؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔