(آیت 13) ➊ { وَلَمْيَكُنْلَّهُمْمِّنْشُرَكَآىِٕهِمْشُفَعٰٓؤُا:} یعنی مشرکین نے جن ہستیوں کو اللہ کا شریک بنا رکھا تھا ان میں سے کوئی بھی ان کی شفاعت نہیں کرے گی، کیونکہ اس دن نہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر سفارش کر سکے گا اور نہ کسی ایسے شخص کے حق میں سفارش ہو سکے گی جس کے لیے شفاعت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اذن نہ ہو۔ دیکھیے آیت الکرسی اور سورۂ طٰہٰ (۱۰۹)۔ ➋ { وَكَانُوْابِشُرَكَآىِٕهِمْكٰفِرِيْنَ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۷) اور سورۂ انعام (۲۲، ۲۳)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
13-1شریکوں سے مراد معبودان باطلہ ہیں جن کی مشرکین، یہ سمجھ کر عبادت کرتے تھے کہ یہ اللہ کے ہاں ان کے سفارشی ہوں گے، اور انھیں اللہ کے عذاب سے بچالیں گے۔ لیکن اللہ نے یہاں وضاحت فرما دی کہ اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے اللہ کے ہاں کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔13-2یعنی وہاں ان کی الوہیت کے منکر ہوجائیں گے کیونکہ وہ دیکھ لیں گے کہ یہ تو کسی کو کوئی فائدہ پہنچانے پر قادر نہیں ہیں دوسرے معنی ہیں کہ یہ معبود اس بات سے انکار کردیں گے کہ یہ لوگ انھیں اللہ کا شریک گردان کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ کیونکہ وہ تو ان کی عبادت سے ہی بیخبر ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
13۔ اور ان کے شریکوں میں کوئی بھی ان کا سفارشی نہ بنے گا اور وہ خود بھی اپنے شریکوں [12] کے منکر ہو جائیں گے
[12] معبودان باطل کی تین اقسام :۔
دنیا میں جن چیزوں کو اللہ کا شریک سمجھا جاتا رہا ہے یا اس کی صفات و اختیارات میں شریک بنایا جاتا رہا ہے ان کی تین ہی قسمیں ہو سکتی ہیں۔ ایک بے جان اشیاء جیسے پتھر کے بت یا شمس و قمر اور ستارے یا دوسرے شجر و حجر۔ دوسرے ایسے جاندار جنہوں نے کبھی اپنی خدائی کا دعویٰ نہ کیا ہو۔ جیسے ملائکہ، انبیاء، اولیاء اور صالحین۔ نیز بعض جاندار حیوانات، جیسے سانپ اور گائے وغیرہ۔ ان میں انبیاء اور صالحین تو ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کو شرک سے سختی سے منع بھی کرتے رہے چہ جائیکہ وہ خود خدائی اختیارات کے طالب ہوں اور تیسرے وہ جاندار جو اپنی خدائی لوگوں سے منوانا چاہتے ہیں جیسے شیاطین، اللہ کے نافرمان بادشاہ، ادارے یا حکومتیں اور وہ اولیاء حضرات جنہوں نے اپنے مریدوں کی سفارش کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے یا یہ کہتے ہیں کہ پیر اپنے مریدوں کے اعمال و احوال سے ہر وقت با خبر رہتا ہے اور مشکل کے وقت انھیں پکارنے پر وہ فریاد کو بھی پہنچ جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی سفارش نہ کر سکے گا: اب دیکھئے پہلی قسم کے یعنی بے جان معبودوں سے تو سفارش کی توقع ہی عبث ہے۔ البتہ ان پتھروں اور شجر و حجر کو بھی مشرکوں کے ساتھ جہنم میں ڈال دیا جائے گا تاکہ ایسے احمقوں کی حسرت میں اضافہ ہو نیز یہ اشیاء جہنم کی آگ کو مزید بھڑکا کر ان کے لئے مزید عذاب کا باعث بن جائے۔ دوسری قسم کے معبود اللہ کے حضور صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو ان کمبختوں کو شرک سے منع ہی کرتے رہے ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ بد بخت ہماری ہی عبادت شروع کر دیں گے۔ لہٰذا یہ لوگ بھی اپنے عابدوں سے سخت بیزار ہوں گے۔ وہ ان کی سفارش کیا کریں گے۔ تیسری قسم کے لوگ جو فی الواقع مجرم ہوں گے۔ وہ تو خود گرفتار بلا اور عذاب میں ماخوذ ہوں گے۔ وہ اس بات کو غنیمت سمجھیں گے کہ اپنے عابدوں کے گناہوں کا کچھ حصہ ان پر نہ ڈالا جائے گا لہٰذا وہ ایسے دلائل دینا شروع کر دیں گے جن سے یہ ثابت کر سکیں کہ یہ عابد حضرات اپنے جرائم کے خود ہی ذمہ دار تھے۔ اور اس طرح ان کے دشمن بن جائیں گے اور اپنے آپ کو ان سے چھڑانا چاہیں گے۔ اس حال میں بھلا وہ کیا سفارش کر سکیں گے۔ غرض کہ مشرکوں کے شریکوں میں سے کوئی بھی اللہ کے ہاں ان کی سفارش نہ کرے گا یا کرنے کے قابل ہی نہ ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔