فِیۡہِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبۡرٰہِیۡمَ ۬ۚ وَ مَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ؕ وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۷﴾
اس میں واضح نشانیاں ہیں، ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور جو کوئی اس میں داخل ہوا امن والا ہوگیا اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج (فرض) ہے، جو اس کی طرف راستے کی طاقت رکھے اور جس نے کفر کیا تو بے شک اللہ تمام جہانوں سے بہت بے پروا ہے۔
En
اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جو شخص اس (مبارک) گھر میں داخل ہوا اس نے امن پا لیا اور لوگوں پر خدا کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو خدا بھی اہلِ عالم سے بے نیاز ہے
En
جس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ہے، اس میں جو آ جائے امن واﻻ ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا گیا ہے۔ اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ (اس سے بلکہ) تمام دنیا سے بے پرواه ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 97) ➊ {وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس کی (شہادت) کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ [بخاری، الإیمان، باب دعاؤکم إیمانکم: ۸، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما] ہر عاقل و بالغ مسلمان پر جو کعبہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہے، اس پر عمر بھر میں ایک مرتبہ حج فرض ہے۔ [مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر: ۱۳۳۷]
➋ {مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا:} استطاعت کی تفسیر حدیث میں زادِ راہ اور سواری سے کی گئی ہے۔ [ترمذی، الحج، باب ما جاء من التغلیظ…: ۸۱۲، عن علی رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم] شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الترغیب میں اسے حسن قرار دیا ہے اور ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔ [ہدایۃ المستنیر]
استطاعت کے مفہوم میں راستے کا پر امن ہونا، جان و مال کے تلف ہونے کا اندیشہ نہ ہونا بھی شامل ہے اور عورت کے لیے محرم کا ساتھ ہونا بھی ضروری ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مالی استطاعت ہو مگر جسمانی نہ ہو تو کوئی دوسرا اس کی جگہ حج کرلے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت آئی، اس نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! اللہ کا اپنے بندوں پر جو فریضۂ حج ہے، وہ میرے والد پر اس حال میں آیا ہے کہ وہ بہت بوڑھا ہے، سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟“ فرمایا: ”ہاں!“ اور یہ حجۃ الوداع کی بات ہے۔ [بخاری، جزاء الصید، باب حج المرأۃ عن الرجل: ۱۸۵۵]
اسی طرح اگر کسی صاحب پر حج فرض تھا، جو سستی سے رہ گیا اور وہ فوت ہو گیا تو اس کی میراث میں سے حج ادا کیا جائے گا، ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَاقْضِ اللّٰهَ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ] ”اللہ کا قرض ادا کرو، کیونکہ وہ پورا کیے جانے کا زیادہ حق دار ہے۔“ [بخاری، الأیمان والنذور، باب من مات و علیہ نذر: ۶۶۹۹۔ مسلم: ۱۱۴۸] ایک صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے کی طرف سے وہ شخص حج کرے جو پہلے اپنا حج کر چکا ہو۔ [أبو داوٗد، المناسک، باب الرجل یحج عن غیرہ: ۱۸۱۱، عن ابن عباس رضی اللہ عنہما]
➌ {وَ مَنْ كَفَرَ:} اس سے معلوم ہوا کہ استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا کفر ہے اور جو کفر کرے تو اس بے چارے کی کیا اوقات ہے، اللہ تعالیٰ تو سارے جہانوں سے بے پروا ہے۔ اسلام کی پانچ بنیادوں کے ترک اور دوسری چیزوں کے ترک کا یہی فرق ہے کہ ان پانچوں میں سے کسی کے ترک سے اسلام کی بنیاد ڈھے جاتی ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ابو بکر اسماعیلی الحافظ رحمہ اللہ کی سند سے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”جو شخص حج کی طاقت رکھے اور پھر حج نہ کرے تو اس پر برابر ہے کہ یہودی ہونے کی حالت میں مرے یا نصرانی ہونے کی حالت میں۔“ امام ابن کثیر نے فرمایا: ”یہ سند عمر رضی اللہ عنہ تک صحیح ہے۔“
➋ {مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا:} استطاعت کی تفسیر حدیث میں زادِ راہ اور سواری سے کی گئی ہے۔ [ترمذی، الحج، باب ما جاء من التغلیظ…: ۸۱۲، عن علی رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم] شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الترغیب میں اسے حسن قرار دیا ہے اور ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔ [ہدایۃ المستنیر]
استطاعت کے مفہوم میں راستے کا پر امن ہونا، جان و مال کے تلف ہونے کا اندیشہ نہ ہونا بھی شامل ہے اور عورت کے لیے محرم کا ساتھ ہونا بھی ضروری ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مالی استطاعت ہو مگر جسمانی نہ ہو تو کوئی دوسرا اس کی جگہ حج کرلے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت آئی، اس نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! اللہ کا اپنے بندوں پر جو فریضۂ حج ہے، وہ میرے والد پر اس حال میں آیا ہے کہ وہ بہت بوڑھا ہے، سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟“ فرمایا: ”ہاں!“ اور یہ حجۃ الوداع کی بات ہے۔ [بخاری، جزاء الصید، باب حج المرأۃ عن الرجل: ۱۸۵۵]
اسی طرح اگر کسی صاحب پر حج فرض تھا، جو سستی سے رہ گیا اور وہ فوت ہو گیا تو اس کی میراث میں سے حج ادا کیا جائے گا، ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَاقْضِ اللّٰهَ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ] ”اللہ کا قرض ادا کرو، کیونکہ وہ پورا کیے جانے کا زیادہ حق دار ہے۔“ [بخاری، الأیمان والنذور، باب من مات و علیہ نذر: ۶۶۹۹۔ مسلم: ۱۱۴۸] ایک صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے کی طرف سے وہ شخص حج کرے جو پہلے اپنا حج کر چکا ہو۔ [أبو داوٗد، المناسک، باب الرجل یحج عن غیرہ: ۱۸۱۱، عن ابن عباس رضی اللہ عنہما]
➌ {وَ مَنْ كَفَرَ:} اس سے معلوم ہوا کہ استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا کفر ہے اور جو کفر کرے تو اس بے چارے کی کیا اوقات ہے، اللہ تعالیٰ تو سارے جہانوں سے بے پروا ہے۔ اسلام کی پانچ بنیادوں کے ترک اور دوسری چیزوں کے ترک کا یہی فرق ہے کہ ان پانچوں میں سے کسی کے ترک سے اسلام کی بنیاد ڈھے جاتی ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ابو بکر اسماعیلی الحافظ رحمہ اللہ کی سند سے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”جو شخص حج کی طاقت رکھے اور پھر حج نہ کرے تو اس پر برابر ہے کہ یہودی ہونے کی حالت میں مرے یا نصرانی ہونے کی حالت میں۔“ امام ابن کثیر نے فرمایا: ”یہ سند عمر رضی اللہ عنہ تک صحیح ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
97۔ 1 اس میں قتال، خون ریزی، شکار حتٰی کہ درخت تک کاٹنا ممنوع ہے۔ 97۔ 2 راہ پاسکتے ہوں کا مطلب زاد راہ کی استطاعت اور فراہمی ہے۔ یعنی اتنا خرچ کہ سفر کے اخراجات پورے ہوجائیں۔ علاوہ ازیں استطاعت کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ راستہ پر امن ہو اور جان و مال محفوظ رہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ صحت اور تندرستی کے لحاظ سے سفر کے قابل ہو نیز عورت کے لئے محرم بھی ضروری ہے۔ یہ آیت ہر صاحب استطاعت کے لئے وجوب حج کی دلیل ہے اور احادیث سے امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ یہ عمر میں صرف ایک دفعہ فرض ہے۔ 97۔ 3 استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے کو قرآن نے کفر سے تعبیر کیا ہے جس سے حج کی فرضیت میں اور اس کی تاکید میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ احادیث میں بھی ایسے شخص کے لئے وعید آئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
97۔ اس میں کئی کھلی نشانیاں ہیں [85] (جن میں سے ایک) حضرت ابراہیم کا مقام عبادت ہے۔ جو شخص اس گھر میں داخل ہوا وہ مامون و محفوظ ہو گیا۔ اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو شخص اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا [86] حج کرے اور جو شخص اس حکم کا انکار کرے (وہ خوب سمجھ لے کہ) اللہ تعالیٰ تمام دنیا والوں سے [87] بے نیاز ہے
[85] آب زمزم اور چاہ زمزم کی صفات:۔
آیات بینات سے مراد ایسی واضح نشانیاں جنہیں سب لوگ دیکھتے یا دیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہ گھر ایک لق و دق میدان میں تعمیر کیا گیا۔ اسی جگہ اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر زمزم کا چشمہ پیدا فرمایا اور اس سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان وہاں جا کر یہ پانی استعمال کرتے اور اپنے گھروں میں لاتے ہیں، مگر اس چشمہ کا پانی ختم ہونے میں نہیں آتا۔ نیز یہ پانی بھوک اور پیاس دونوں کو دور کرتا اور کئی بیماریوں کے لیے شفا ہے پھر اس گھر کو اللہ نے ایسا مامون بنا دیا کہ اگر کسی کا جانی دشمن بھی کعبہ میں داخل ہو جائے تو وہ اسے ایذا پہچانے کی جرات نہیں کر سکتا۔ نیز اللہ نے کعبہ کے علاوہ اس پورے علاقہ کو پر امن حرم بنا دیا۔
بیت اللہ کی برکات معجزات اور حرم کی صفات:۔
ڈھائی ہزار برس سے سارا ملک عرب جاہلیت کی وجہ سے انتہائی بدامنی، لوٹ مار، قتل و غارت میں مبتلا رہا، مگر ملک بھر میں کعبہ ہی ایک ایسا خطہ تھا، جہاں امن قائم رہا۔ یہ کعبہ ہی کی برکت تھی کہ سال بھر میں چار مہینہ کے لیے پورے ملک کو اس کی بدولت امن میسر آجاتا تھا۔ سارے ملک میں لوٹ مار کا بازار گرم رہا۔ مگر قریش کے قافلے محض کعبہ کے متولی ہونے کی بنا پر بلاخطر سفر کرتے تھے۔ حتیٰ کہ جو تجارتی قافلے قریش کی امان میں آجاتے۔ ان سے بھی کسی کو تعرض کرنے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ نیز نصف صدی پیشتر بھی جب ابرہہ نے کعبہ کی تخریب کے لیے مکہ پر جو حملہ کیا تھا تو ابابیلوں (چھوٹے چھوٹے پرندوں) کے لشکر نے ان ہاتھیوں والی فوج کا جس طرح ستیاناس کر دیا تھا، اسے بھی سب لوگ دیکھ چکے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ لق و دق اور پتھریلے میدان کے بسنے والوں کے لیے اللہ نے رزق رسانی کا ایسا بہترین انتظام کر دیا کہ اطراف و جوانب سے ہر قسم کے پھل اور غلے معجزانہ طور پر کھنچے چلے آتے ہیں اور مکہ کو ایک مرکزی تجارتی منڈی کی حیثیت حاصل ہے اور یہ ایسی باتیں ہیں جنہیں سب لوگ بچشم خود ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں کعبہ کے پاس مقام ابراہیم وہ پتھر بھی بدستور موجود ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیمؑ نے کعبہ کو تعمیر کیا تھا اور صفا و مروہ کی پہاڑیاں بھی جن کے درمیان حضرت ہاجرہ دوڑی تھیں۔ اور یہ مقامات شعائر اللہ میں شمار ہوتے ہیں۔ مناسک حج ادا کرنے کے لیے دنیا بھر کے لوگوں کو اسی مقام کی طرف دعوت دی گئی۔ انبیاء سابقین بھی حج کی ادائیگی کے لیے یہیں تشریف لاتے اور ان شعائر کی غیر معمولی تعظیم اور احترام کرتے رہے۔ مکہ کے «حرماً آمناً» ہونے کی تفسیر درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے۔
فتح مکہ کے بعد ہجرت کی فرضیت کا خاتمہ:۔
1۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جس دن مکہ فتح ہوا، اس سے دوسرے دن آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا: آج کے بعد ہجرت (فرض) نہیں رہی۔ البتہ جہاد اور اس کی نیت بدستور باقی ہے اور جب تم سے جہاد کے لیے کہا جائے تو نکل کھڑے ہو۔ یہ وہ شہر ہے کہ جس دن سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ اسی دن سے اس کو حرمت دی اور اللہ کی یہ حرمت قیامت تک قائم رہے گی، اور وہاں مجھ سے پہلے کسی کو لڑنا درست نہیں ہوا اور مجھے بھی ایک گھڑی کے لیے درست ہوا۔ پھر اس کی حرمت قیامت تک کے لیے قائم ہو گئی۔ نہ وہاں سے کانٹے کاٹے جائیں، نہ شکار کو ہانکا جائے، نہ گری پڑی چیز کو اٹھایا جائے۔ الا یہ کہ اٹھانے والا مالک کو پہچانتا ہو اور وہ اسے پہنچا دے اور نہ وہاں سے سبزہ کاٹا جائے۔ حضرت عباسؓ نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اذخر گھاس کاٹنے کی اجازت دیجئے کہ وہ لوہاروں کے لیے اور گھروں میں کام آنے کی چیز ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اذخر کی اجازت ہے۔“
[بخاری ابواب العمرة، باب لایحل القتال بمکۃ]
اس حدیث سے مکہ کی حرمت اور تعظیم سے متعلق درج ذیل امور کا پتہ چلتا ہے۔
➊ حرم مکہ میں فوج کشی اور جدال و قتال ممنوع ہے اور مکہ کی یہ حرمت تا قیامت بحال رہے گی۔ اسی طرح آپس میں جدال و قتال بھی ممنوع ہے۔
➋ حرم مکہ کے شکاری جانور بھی محفوظ و مامون ہیں۔ ان کو نہ شکار کیا جا سکتا ہے نہ شکار کے لیے انہیں ہانکا جا سکتا ہے۔
➌ حرم مکہ کے درخت اور پودے بھی محفوظ و مامون ہیں۔ انہیں بھی کاٹنا ممنوع ہے۔ البتہ بعض اقتصادی ضرورتوں کے پیش نظر اذخر گھاس کاٹنے کی اجازت ہے۔
➍ حرم مکہ میں گری پڑی چیز اٹھانا ممنوع ہے۔ الا یہ کہ اٹھانے والا چیز کے مالک کو جانتا ہو۔ اور وہ چیز مالک کو پہچانے کا ذمہ دار بنتا ہو وہ اٹھا سکتا ہے۔
2۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ: تم سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ مکہ میں ہتھیار لگائے ہوئے پھرے۔
[مسلم، کتاب الحج، باب النھی عن حمل السلاح بمکۃ من غیر حاجۃ]
3۔ البتہ موذی جانوروں کو حرم مکہ میں مار ڈالنے کی اجازت ہے۔ چنانچہ ہم منا میں مقیم تھے کہ ایک سانپ ہم پر کودا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو۔“
[بخاری، ابواب العمرة، باب ما یقتل المحرم من الدواب]
نیز حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ پانچ جانور بد ذات ہیں۔ انہیں حرم میں بھی مار ڈالنا چاہئے۔ کوا (چتکبرا)، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔ [بخاري۔ باب ايضاً] اور دور صحابہ میں یہ تعامل رہا ہے کہ اگر کوئی مجرم بیت اللہ میں پناہ لے لیتا تو جب تک وہ حرم میں رہتا اس سے تعرض نہیں کیا جاتا تھا۔ خواہ وہ کسی حد والے گناہ کا مجرم ہو۔ یزید نے جب حضرت امام حسینؓ کو اپنی بیعت کے لیے مجبور کیا تو آپ نے حرم مکہ میں آ کر ہی پناہ لی تھی۔
[بخاری ابواب العمرة، باب لایحل القتال بمکۃ]
اس حدیث سے مکہ کی حرمت اور تعظیم سے متعلق درج ذیل امور کا پتہ چلتا ہے۔
➊ حرم مکہ میں فوج کشی اور جدال و قتال ممنوع ہے اور مکہ کی یہ حرمت تا قیامت بحال رہے گی۔ اسی طرح آپس میں جدال و قتال بھی ممنوع ہے۔
➋ حرم مکہ کے شکاری جانور بھی محفوظ و مامون ہیں۔ ان کو نہ شکار کیا جا سکتا ہے نہ شکار کے لیے انہیں ہانکا جا سکتا ہے۔
➌ حرم مکہ کے درخت اور پودے بھی محفوظ و مامون ہیں۔ انہیں بھی کاٹنا ممنوع ہے۔ البتہ بعض اقتصادی ضرورتوں کے پیش نظر اذخر گھاس کاٹنے کی اجازت ہے۔
➍ حرم مکہ میں گری پڑی چیز اٹھانا ممنوع ہے۔ الا یہ کہ اٹھانے والا چیز کے مالک کو جانتا ہو۔ اور وہ چیز مالک کو پہچانے کا ذمہ دار بنتا ہو وہ اٹھا سکتا ہے۔
2۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ: تم سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ مکہ میں ہتھیار لگائے ہوئے پھرے۔
[مسلم، کتاب الحج، باب النھی عن حمل السلاح بمکۃ من غیر حاجۃ]
3۔ البتہ موذی جانوروں کو حرم مکہ میں مار ڈالنے کی اجازت ہے۔ چنانچہ ہم منا میں مقیم تھے کہ ایک سانپ ہم پر کودا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو۔“
[بخاری، ابواب العمرة، باب ما یقتل المحرم من الدواب]
نیز حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ پانچ جانور بد ذات ہیں۔ انہیں حرم میں بھی مار ڈالنا چاہئے۔ کوا (چتکبرا)، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔ [بخاري۔ باب ايضاً] اور دور صحابہ میں یہ تعامل رہا ہے کہ اگر کوئی مجرم بیت اللہ میں پناہ لے لیتا تو جب تک وہ حرم میں رہتا اس سے تعرض نہیں کیا جاتا تھا۔ خواہ وہ کسی حد والے گناہ کا مجرم ہو۔ یزید نے جب حضرت امام حسینؓ کو اپنی بیعت کے لیے مجبور کیا تو آپ نے حرم مکہ میں آ کر ہی پناہ لی تھی۔
[86] حج کی فرضیت اور شرائط:۔
حج اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر حق اور ارکان اسلام سے پانچواں رکن ہے اور یہ صرف اس شخص پر زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ استطاعت سے مراد یہ ہے کہ بیت اللہ شریف جانے اور واپس آنے کا خرچ اس کے پاس موجود ہو۔ اس سفر حج میں اپنی گھر سے غیر موجودگی کے دوران اہل خانہ کو معمول کے مطابق خرچ دے کر جائے۔ نیز راستہ پر خطر نہ ہو یعنی اسے اپنی جان و مال کا خطرہ نہ ہو اور اس کی جسمانی صحت اس قابل ہو کہ حج اور سفر حج کی صعوبتوں کو برداشت کر سکتا ہو۔ اگر کسی کے پاس حج کا اور اہل خانہ کا خرچ موجود ہو اور راستہ بھی پرامن ہو مگر جسمانی صحت ساتھ نہ دے سکتی ہو تو کسی تندرست شخص سے اپنی طرف سے حج کروا سکتا ہے جو پہلے خود اپنا فریضہ حج ادا کر چکا ہو اور اسے حج بدل کہتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی نے حج کی نذر مانی ہو اور نذر پوری کرنے سے پیشتر مر جائے تو اس کے پس ماندگان پر اس نذر کو پورا کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ خود اس پر فرض ہو چکا تھا۔ خواہ یہ نفلی حج ہو۔ اگر راستہ پرخطر ہے تو جب تک خطرہ دور نہ ہو حج ساقط ہو جاتا ہے۔ قرضہ اٹھا کر یا مانگ کر یا سواری مہیا ہونے کے باوجود پیدل سفر حج کرنا کوئی نیکی کا کام نہیں اور اگر کسی نے ایسی غلط قسم کی نذر مانی ہو تو اسے ایسی نذر توڑ کر درست کام کرنا چاہئے۔
[87] یعنی جو شخص استطاعت رکھتا ہو پھر جان بوجھ کر حج کا ارادہ نہ کرے اور اس سے غافل رہے تو ایسے شخص کے لیے حدیث شریف میں بڑے سخت الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ یعنی یہ کہ ”اللہ کو کچھ پروا نہیں کہ ایسا شخص یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔“
[ترمذی، ابواب الحج، باب فی التغلیظ فی ترک الحج]
یعنی وہ بہر طور مسلمان نہیں اور اس کا مسلمان ہونے کا دعویٰ غلط ہے۔
[87] یعنی جو شخص استطاعت رکھتا ہو پھر جان بوجھ کر حج کا ارادہ نہ کرے اور اس سے غافل رہے تو ایسے شخص کے لیے حدیث شریف میں بڑے سخت الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ یعنی یہ کہ ”اللہ کو کچھ پروا نہیں کہ ایسا شخص یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔“
[ترمذی، ابواب الحج، باب فی التغلیظ فی ترک الحج]
یعنی وہ بہر طور مسلمان نہیں اور اس کا مسلمان ہونے کا دعویٰ غلط ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ذکر بیت اللہ اور احکامات حج ٭٭
یعنی لوگوں کی عبادت،قربانی،طواف، نماز،اعتکاف وغیرہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کے بانی سیدنا ابراہیم خلیل علیہ السلام ہیں، جن کی تابعداری کا دعویٰ یہود و نصاریٰ مشرکین اور مسلمان سب کو ہے وہ اللہ کا گھر جو سب سے پہلے مکہ میں بنایا گیا ہے، اور بلاشبہ خلیل اللہ ہی حج کے پہلے منادی کرنے والے ہیں تو پھر ان پر تعجب اور افسوس ہے جو ملت حنیفی کا دعویٰ کریں اور اس گھر کا احترام نہ کریں حج کو یہاں نہ آئیں بلکہ اپنے قبلہ اور کعبہ الگ الگ بناتے پھریں۔ اس بیت اللہ کی بنیادوں میں ہی برکت و ہدایت ہے اور تمام جہان والوں کے لیے ہے،
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا مسجد الحرام، پوچھا پھر کون سی؟ فرمایا مسجد بیت المقدس پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا وقت ہے؟ فرمایا چالیس سال پوچھا پھر کون سی؟ آپ نے فرمایا جہاں کہیں نماز کا وقت آ جائے نماز پڑھ لیا کرو ساری زمین مسجد ہے [مسند احمد وبخاری مسلم]۔[صحیح بخاری:3366] ۱؎
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا مسجد الحرام، پوچھا پھر کون سی؟ فرمایا مسجد بیت المقدس پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا وقت ہے؟ فرمایا چالیس سال پوچھا پھر کون سی؟ آپ نے فرمایا جہاں کہیں نماز کا وقت آ جائے نماز پڑھ لیا کرو ساری زمین مسجد ہے [مسند احمد وبخاری مسلم]۔[صحیح بخاری:3366] ۱؎
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گھر تو پہلے بہت سے تھے لیکن خاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا گھر سب سے پہلا یہی ہے، کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ زمین پر پہلا گھر یہی بنا ہے؟ تو آپ نے فرمایا نہیں ہاں برکتوں اور مقام ابراہیم اور امن والا گھر یہی پہلا ہے، بیت اللہ شریف کے بنانے کی پوری کیفیت سورۃ البقرہ کی آیت «وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّاىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ» [2-البقرة:125]، کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے وہیں ملاحظہ فرما لیجئے۔ یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں سب سے پہلے روئے زمین پر یہی گھر بنا، لیکن صحیح قول سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہی ہے اور وہ حدیث جو ییہقی میں ہے جس میں ہے کہ آدم و حواء نے بحکم الہ بیت اللہ بنایا اور طواف کیا اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تو سب سے پہلا انسان ہے اور یہ سب سے پہلا گھر ہے
یہ حدیث ابن لہیعہ کی روایت سے ہے اور وہ ضعیف راوی ہیں، ممکن ہے یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہو اور یرموک والے دن انہیں جو دو پورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے انہی میں یہ بھی لکھا ہوا ہو۔ ”مکہ“ مکہ شریف کا مشہور نام ہے چونکہ بڑے بڑے جابر شخصوں کی گردنیں یہاں ٹوٹ جاتی تھیں ہر بڑائی والا یہاں پست ہو جاتا تھا، اس لیے اسے مکہ کہا گیا اور اس لیے بھی کہ لوگوں کی بھیڑ بھاڑ یہاں ہوتی ہے اور ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا ہے اور اس لیے بھی کہ یہاں لوگ خلط ملط ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ کبھی عورتیں آگے نماز پڑھتی ہوتی ہیں اور مرد ان کے پیچھے ہوتے ہیں اور ایسا معاملہ کہیں اور نہیں ہوتا۔
یہ حدیث ابن لہیعہ کی روایت سے ہے اور وہ ضعیف راوی ہیں، ممکن ہے یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہو اور یرموک والے دن انہیں جو دو پورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے انہی میں یہ بھی لکھا ہوا ہو۔ ”مکہ“ مکہ شریف کا مشہور نام ہے چونکہ بڑے بڑے جابر شخصوں کی گردنیں یہاں ٹوٹ جاتی تھیں ہر بڑائی والا یہاں پست ہو جاتا تھا، اس لیے اسے مکہ کہا گیا اور اس لیے بھی کہ لوگوں کی بھیڑ بھاڑ یہاں ہوتی ہے اور ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا ہے اور اس لیے بھی کہ یہاں لوگ خلط ملط ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ کبھی عورتیں آگے نماز پڑھتی ہوتی ہیں اور مرد ان کے پیچھے ہوتے ہیں اور ایسا معاملہ کہیں اور نہیں ہوتا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”فج“ سے ”تنعیم“ تک مکہ ہے بیت اللہ سے بطحاء تک بکہ ہے بیت اللہ اور مسجد کو «بکہ» کہا گیا ہے، بیت اللہ اور اس آس پاس کی جگہ کو بکہ اور باقی شہر کو مکہ بھی کہا گیا ہے، اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں مثلاً بیت العتیق، بیت الحرام، بلد الامین، بلد المامون، ام رحم، ام القری، صلاح، عرش، قادس، مقدس، ناسبہ، ناسسہ، حاطمہ، راس، کوثا البلدہ البینۃ و الکعبہ۔
اس میں ظاہر نشانیاں ہیں جو اس کی عظمت و شرافت کی دلیل ہیں اور جن سے ظاہر ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی بناء یہی ہے اس میں مقام ابراہیم بھی ہے جس پر کھڑے ہو کر سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے پتھر لے کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی دیواریں اونچی کر رہے تھے، یہ پہلے تو بیت اللہ شریف کی دیوار سے لگا ہوا تھا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے ذرا ہٹا کر مشرق رخ کر دیا تھا کہ پوری طرح طواف ہو سکے اور جو لوگ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان کے لیے پریشانی اور بھیڑ بھاڑ نہ ہو، اسی کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور اس کے متعلق بھی پوری تفسیر آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [2-البقرة:125] کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے فالحمدللہ۔
اس میں ظاہر نشانیاں ہیں جو اس کی عظمت و شرافت کی دلیل ہیں اور جن سے ظاہر ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی بناء یہی ہے اس میں مقام ابراہیم بھی ہے جس پر کھڑے ہو کر سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے پتھر لے کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی دیواریں اونچی کر رہے تھے، یہ پہلے تو بیت اللہ شریف کی دیوار سے لگا ہوا تھا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے ذرا ہٹا کر مشرق رخ کر دیا تھا کہ پوری طرح طواف ہو سکے اور جو لوگ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان کے لیے پریشانی اور بھیڑ بھاڑ نہ ہو، اسی کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور اس کے متعلق بھی پوری تفسیر آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [2-البقرة:125] کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے فالحمدللہ۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آیات بینات میں سے ایک مقام ابراہیم بھی ہے باقی اور بھی ہیں، مجاہد فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جو مقام ابراہیم پر تھے یہ بھی آیات بینات میں سے ہیں، کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکان حج کو بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے ابن عباس فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا اور جگہ ہے آیت «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ» [29۔ العنکبوت: 67]، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا اور جگہ ہے آیت «فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَـٰذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» [106-قريش: 3، 4]، ہم نے انہیں خوف سے امن دیا نہ صرف انسان کے لیے امن ہے بلکہ شکار کرنا بلکہ شکار کو بھگانا اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے اس کے درخت کاٹنا یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت «وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» [2-البقرہ: 125]، کی تفسیر میں سورۃ البقرہ میں گذر چکی ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آیاتِ بینات میں سے ایک مقامِ ابراہیم بھی ہے باقی اور ہیں،[تفسیر ابن جریر الطبری:26/7] ۱؎
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جا مقامِ ابراہیم پر تھے یہ بھی آیاتِ بینات میں سے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27/7] ۱؎
کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکانِ حج کو بھی مقامِ ابراہیم کی تفسیر میں مفسرین نے داخل کیا ہے۔ اس میں آنے والا امن میں آجاتا ہے جاہلیت کے زمانے میں بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا۔ اور جگہ ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [29-العنكبوت:67]کیا ہی نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا۔
اور جگہ ہے «وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» [106-قريش:4] ہم نے انہیں خوف سے امن دیا۔ نہ صرف انسان کے لیے امن ہے بلکہ شکار کرنا، بلکہ شکار کو بھگانا، اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے، اسکے درخت کاٹنا، یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے۔ اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت «وَعَھِدْنَا» [2-البقرة:125] الخ، کی تفسیر میں سورہ بقرہ میں گزر چکی ہیں۔
مسند احمد ترمذی اور نسائی میں حدیث ہے جسے امام ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے بازار حرورہ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کو ساری زمین سے بہتر اور پیارا ہے اگر میں زبردستی تجھ سے نہ نکالا جاتا تو ہرگز تجھے نہ چھوڑتا،[سنن ترمذي:3925،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
اور اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو اس گھر میں داخل ہوا وہ جہنم سے بچ گیا، بیہقی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جو بیت اللہ میں داخل ہوا وہ نیکی میں آیا اور برائیوں سے دور ہوا، اور گناہ بخش دیا گیا [بیهقی فی السنن:158/5:ضعیف] ۱؎ لیکن اس کے ایک راوی عبداللہ بن مؤمل قوی نہیں ہیں۔
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جا مقامِ ابراہیم پر تھے یہ بھی آیاتِ بینات میں سے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27/7] ۱؎
کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکانِ حج کو بھی مقامِ ابراہیم کی تفسیر میں مفسرین نے داخل کیا ہے۔ اس میں آنے والا امن میں آجاتا ہے جاہلیت کے زمانے میں بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا۔ اور جگہ ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [29-العنكبوت:67]کیا ہی نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا۔
اور جگہ ہے «وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» [106-قريش:4] ہم نے انہیں خوف سے امن دیا۔ نہ صرف انسان کے لیے امن ہے بلکہ شکار کرنا، بلکہ شکار کو بھگانا، اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے، اسکے درخت کاٹنا، یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے۔ اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت «وَعَھِدْنَا» [2-البقرة:125] الخ، کی تفسیر میں سورہ بقرہ میں گزر چکی ہیں۔
مسند احمد ترمذی اور نسائی میں حدیث ہے جسے امام ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے بازار حرورہ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کو ساری زمین سے بہتر اور پیارا ہے اگر میں زبردستی تجھ سے نہ نکالا جاتا تو ہرگز تجھے نہ چھوڑتا،[سنن ترمذي:3925،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
اور اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو اس گھر میں داخل ہوا وہ جہنم سے بچ گیا، بیہقی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جو بیت اللہ میں داخل ہوا وہ نیکی میں آیا اور برائیوں سے دور ہوا، اور گناہ بخش دیا گیا [بیهقی فی السنن:158/5:ضعیف] ۱؎ لیکن اس کے ایک راوی عبداللہ بن مؤمل قوی نہیں ہیں۔
آیت کا یہ آخری حصہ حج کی فرضیت کی دلیل ہے بعض کہتے ہیں آیت «وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي» [2-البقرة:196]، والی آیت دلیل فرضیت ہے لیکن پہلی بات زیادہ واضح ہے، کئی ایک احادیث میں وارد ہے کہ حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اس کی فرضیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ استطاعت والے مسلمان پر حج فرض ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو تم پر اللہ تعالیٰ نے حج فرض کیا ہے تم حج کرو ایک شخص نے پوچھا حضور کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے اس نے تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے فرمایا اگر میں ہاں کہ دیتا تو فرض ہو جاتا پھر بجا نہ لا سکتے میں جب خاموش رہوں تو تم کرید کر پوچھا نہ کرو تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء سے سوالوں کی بھرمار اور نبیوں پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے میرے حکموں کو طاقت بھر بجا لاؤ۔ اور جس چیز میں منع کروں اس سے رک جاؤ [مسند احمد:508/2:صحیح] ۱؎ [مسند احمد] صحیح مسلم شریف[صحیح مسلم:1337] ۱؎ کی اس حدیث شریف میں اتنی زیادتی ہے کہ یہ پوچھنے والے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب یہ بھی فرمایا کہ عمر میں ایک مرتبہ فرض ہے اور پھر نفل۔[سنن ابوداود:1721،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ایک روایت میں ہے کہ اسی سوال کے بارے میں آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ» [5-المائدة:101]، یعنی زیادتی سوال سے بچو نازل ہوئی [مسند احمد:113/1:صحیح] ۱؎ [مسند احمد]
ایک اور روایت میں ہے اگر میں ہاں کہتا تو ہر سال حج واجب ہوتا تم بجا نہ لا سکتے تو عذاب نازل ہوتا [سنن ابن ماجہ:2885،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ [ابن ماجہ]
ہاں حج میں تمتع کرنے کا جواز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سائل کے سوال پر ہمیشہ کے لیے جائز فرمایا تھا،[صحیح بخاری:2505] ۱؎
ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں امہات المؤمنین یعنی اپنی بیویوں سے فرمایا تھا حج ہو چکا اب گھر سے نہ نکلنا،[سنن ابوداود:،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ رہی استطاعت اور طاقت سو وہ کبھی تو خود انسان کو بغیر کسی ذریعہ کے ہوتی ہے کبھی کسی اور کے واسطے سے جیسے کہ کتب احکام میں اس کی تفصیل موجود ہے، ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ حاجی کون ہے؟ آپ نے فرمایا پراگندہ بالوں اور میلے کچیلے کپڑوں والا ایک اور نے پوچھا یا رسول اللہ کون سا حج افضل ہے، آپ نے فرمایا جس میں قربانیاں کثرت سے کی جائیں اور لبیک زیادہ پکارا جائے۔
ایک اور روایت میں ہے اگر میں ہاں کہتا تو ہر سال حج واجب ہوتا تم بجا نہ لا سکتے تو عذاب نازل ہوتا [سنن ابن ماجہ:2885،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ [ابن ماجہ]
ہاں حج میں تمتع کرنے کا جواز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سائل کے سوال پر ہمیشہ کے لیے جائز فرمایا تھا،[صحیح بخاری:2505] ۱؎
ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں امہات المؤمنین یعنی اپنی بیویوں سے فرمایا تھا حج ہو چکا اب گھر سے نہ نکلنا،[سنن ابوداود:،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ رہی استطاعت اور طاقت سو وہ کبھی تو خود انسان کو بغیر کسی ذریعہ کے ہوتی ہے کبھی کسی اور کے واسطے سے جیسے کہ کتب احکام میں اس کی تفصیل موجود ہے، ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ حاجی کون ہے؟ آپ نے فرمایا پراگندہ بالوں اور میلے کچیلے کپڑوں والا ایک اور نے پوچھا یا رسول اللہ کون سا حج افضل ہے، آپ نے فرمایا جس میں قربانیاں کثرت سے کی جائیں اور لبیک زیادہ پکارا جائے۔
ایک اور شخص نے سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبیل سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا توشہ بھتہ کھانے پینے کے لائق سامان خرچ اور سواری [سنن ترمذي:813،قال الشيخ الألباني:ضعیف جدا] ۱؎، اس حدیث کا ایک راوی گو ضعیف ہے مگر حدیث کی متابعت اور سند بہت سے صحابیوں سے مختلف سندوں سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا» [3-آل عمران:97] کی تفسیر میں زادو راحلہ یعنی توشہ اور سواری بتائی ہے۔[سنن ابن ماجہ:2897،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرض حج جلدی ادا کر لیا کرو نہ معلوم کل کیا پیش آئے،[مسند احمد:214/1:حسن] ۱؎ ابوداؤد وغیرہ میں ہے حج کا ارادہ کرنے والے کو جلد اپنا ارادہ پورا کر لینا چاہیئے۔[مسند احمد:225/1:حسن] ۱؎
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جس کے پاس تین سو درہم ہوں وہ طاقت والا ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد صحت جسمانی ہے
پھر فرمایا جو کفر کرے یعنی فرضیت حج کا انکار کرے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری کہ دین اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور دین پسند کرے اس سے قبول نہ کیا جائے گا تو یہودی کہنے لگے ہم بھی مسلمان ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مسلمانوں پر تو حج فرض ہے تم بھی حج کرو تو وہ صاف انکار بیٹھے جس پر یہ آیت اتری کہ اس کا انکاری کافر ہے اور اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بے پرواہ ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جس کے پاس تین سو درہم ہوں وہ طاقت والا ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد صحت جسمانی ہے
پھر فرمایا جو کفر کرے یعنی فرضیت حج کا انکار کرے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری کہ دین اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور دین پسند کرے اس سے قبول نہ کیا جائے گا تو یہودی کہنے لگے ہم بھی مسلمان ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مسلمانوں پر تو حج فرض ہے تم بھی حج کرو تو وہ صاف انکار بیٹھے جس پر یہ آیت اتری کہ اس کا انکاری کافر ہے اور اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بے پرواہ ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کھانے پینے اور سواری پر قدرت رکھتا ہو اور اتنا مال بھی اس کے پاس ہو پھر حج نہ کرے تو اس کی موت یہودیت یا نصرانیت پر ہو گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کے لیے لوگوں پر حج بیت اللہ ہے جو اس کے راستہ کی طاقت رکھیں اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےپرواہ ہے [سنن ترمذي:812،قال الشيخ الألباني:ضعیف]۱؎ اس کے راوی پر بھی کلام ہے،
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں طاقت رکھ کر حج نہ کرنے والا یہودی ہو کر مرے گا یا نصرانی ہو کر، اس کی سند بالکل صحیح ہے [حافظ ابوبکر اسماعیلی] [الحلیہ لابی نعیم:252/9]۱؎
مسند سعید بن منصور میں ہے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا مقصد ہے کہ میں لوگوں کو مختلف شہروں میں بھیجوں وہ دیکھیں جو لوگ باوجود مال رکھنے کے حج نہ کرتے ہوں ان پر جزیہ لگا دیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں طاقت رکھ کر حج نہ کرنے والا یہودی ہو کر مرے گا یا نصرانی ہو کر، اس کی سند بالکل صحیح ہے [حافظ ابوبکر اسماعیلی] [الحلیہ لابی نعیم:252/9]۱؎
مسند سعید بن منصور میں ہے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا مقصد ہے کہ میں لوگوں کو مختلف شہروں میں بھیجوں وہ دیکھیں جو لوگ باوجود مال رکھنے کے حج نہ کرتے ہوں ان پر جزیہ لگا دیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔