ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 82

فَمَنۡ تَوَلّٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۸۲﴾
پھر جو اس کے بعد پھر جائے تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔ En
تو جو اس کے بعد پھر جائیں وہ بد کردار ہیں
En
پس اس کے بعد بھی جو پلٹ جائیں وه یقیناً پورے نافرمان ہیں۔ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 82) {فَمَنْ تَوَلّٰى …:} اس آیت میں اہل کتاب کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لا کر دراصل اس عہد کی خلاف ورزی کر رہے ہو جو تمھارے انبیاء سے اور ان کے ذریعے تم سے لیا گیا ہے، اب بتاؤتمھارے فاسق ہونے میں کوئی شک و شبہ ہو سکتا ہے؟ (رازی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

82۔ 1 یہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور دیگر اہل مذہب کو تنبہہ ہے کہ بعثت محمدی کے بعد بھی ان پر ایمان لانے کے بجائے اپنے اپنے مذہب پر قائم رہنا اس عہد کے خلاف ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے واسطے سے ہر امت سے لیا اور اس عہد سے انحراف کفر ہے۔ فسق یہاں کفر کے معنی میں ہے کیونکہ نبوت محمدی سے انکار صرف فسق نہیں سراسر کفر ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

82۔ پھر اس کے بعد جو بھی اس عہد سے پھر جائے تو ایسے ہی لوگ [72] فاسق ہیں
[72] بائبل کیوں ناقابل اعتبار ہے:۔
اس پختہ عہد اور بشارتوں کے بعد بھی جو شخص تعصب کی راہ اختیار کرے اور اپنے آپ کو دین کا اجارہ دار سمجھے اور مخالفت پر کمر بستہ ہو جائے تو اس سے زیادہ نافرمانی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ جب عیسائیوں سے کہا جاتا ہے کہ تمہیں قرآن پر ایمان لانا چاہئے کیونکہ یہ تمہاری کتاب انجیل کی تصدیق کرتا ہے؟ تو وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ قرآن نہ تو عقیدہ الوہیت مسیح کی تصدیق کرتا ہے نہ مسیح کی ابنیت کو تسلیم کرتا ہے، نہ عقیدہ تثلیث کو اور نہ کفارہ مسیح کو تسلیم کرتا ہے۔ حالانکہ ہماری اناجیل سے یہ سب کچھ ثابت ہے۔ پھر ہم آپ کے قرآن پر کیسے ایمان لائیں اور کیوں کر اسے الہامی کتاب سمجھ سکتے ہیں؟ گویا جن غلط اور گمراہ کن عقائد کی اصلاح اور صحیح عقیدہ توحید کو پیش کرنے کے لیے قرآن نازل ہوا تھا اور حق و باطل کو نکھار کر ان کے اختلافات کا فیصلہ کرنے آیا تھا۔ یہ لوگ ان غلط عقائد سے کچھ اس طرح چمٹے ہوئے ہیں اور مذہبی تعصب کی پٹی ان کی آنکھوں پر کچھ اس طرح بندھی ہوئی ہے کہ وہ انہیں غلط عقائد کو اصل بنیاد قرار دے کر قرآن کی ہی تکذیب شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ایسے غلط عقائد صدیوں بعد ان کے علماء کی طرف سے اناجیل میں شامل کر دیئے گئے، اور یہ مجموعہ کچھ اس طرح الہامی مضامین اور الحاقی مضامین میں گڈمڈ ہو گیا کہ بعد میں آنے والے علماء کے لیے یہ معاملہ مشتبہ ہو گیا اور ان میں سے اصل الہامی مضامین کو الگ کرنا مشکل ہو گیا۔ یہی حال تورات کا بھی ہوا۔ بائیبل میں کئی ایسی داخلی شہادتیں آج بھی موجود ہیں جن سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ عبارت الہامی نہیں ہو سکتی۔ بلکہ لوگوں کی طرف سے شامل کی گئی ہے اور ایسی شہادتوں کا ہم نے کسی دوسرے مقام پر ذکر بھی کر دیا ہے۔ ان کے مقابلہ میں قرآن کی سالمیت غیر مذاہب میں بھی مسلم ہے۔ پھر یہ کس قدر اندھیر کی بات ہے کہ ایسی تحریف شدہ کتابوں کو اصلی معیار قرار دے کر قرآن کریم کی تکذیب کی جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انبیاء سے عہد و میثاق ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک کے تمام انبیاء کرام علیہم السلہم سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ لیا کہ جب کبھی ان میں سے کسی کو بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کتاب و حکمت دے اور وہ بڑے مرتبے تک پہنچ جائے پھر اس کے بعد اسی کے زمانے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم آ جائے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی نصرت و امداد کرنا اس کا فرض ہو گا۔ یہ نہ ہو کہ اپنے علم و نبوت کی وجہ سے اپنے بعد والے نبی کی اتباع اور امداد سے رک جائے، پھر ان سے پوچھا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو؟ اور اسی عہد و میثاق پر مجھے ضامن ٹھہراتے ہو۔ سب نے کہا ہاں ہمارا اقرار ہے تو فرمایا گواہ رہو اور میں خود بھی گواہ ہوں۔ اب اس عہد و میثاق سے جو پھر جائے وہ قطعی فاسق، بیحکم اور بدکار ہے
، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں٠ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے عہد لیا کہ اس کی زندگی میں اگر اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجے تو اس پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لائے اور آپ کی امداد کرے اور اپنی امت کو بھی وہ یہی تلقین کرے کہ وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کی تابعداری میں لگ جائے، طاؤس، حسن بصری اور قتادہ فرماتے ہیں نبیوں سے اللہ نے عہد لیا کہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں، کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ تفسیر اوپر کی تفسیر کے خلاف ہے بلکہ یہ اس کی تائید ہے اسی لیے سیدنا طاؤس رحمہ اللہ سے ان کے لڑکے کی روایت مثل روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بھی مروی ہے۔
مسند احمد کی روایت میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ میں نے ایک دوست قریظی یہودی سے کہا تھا کہ وہ تورات کی جامع باتیں مجھے لکھ دے اگر آپ فرمائیں تو میں انہیں پیش کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نہیں دیکھتے کہ آپ کے چہرہ کا کیا حال ہے؟ تو عمر کہنے لگے میں اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر محمد کے رسول ہونے پر خوش ہوں (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دور ہوا اور فرمایا قسم ہے اس اللہ تعالیٰ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر موسیٰ تم میں آ جائیں اور تم ان کی تابعداری میں لگ جاؤ اور مجھے چھوڑ دو تو تم سب گمراہ ہو جاؤ تمام امتوں میں سے میرے حصے کی امت تم ہو اور تمام نبیوں میں سے تمہارے حصے کا نبی میں ہوں۔[مسند احمد:266/4:ضعیف]‏‏‏‏ ۱؎
مسند ابو یعلیٰ میں لکھا ہے اہل کتاب سے کچھ نہ پوچھو وہ خود گمراہ ہیں تو تمہیں راہ راست کیسے دکھائیں گے بلکہ ممکن ہے تم کسی باطل کی تصدیق کر لو یا حق کی تکذیب کر بیٹھو اللہ کی قسم اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تم میں زندہ موجود ہوتے تو انہیں بھی بجز میری تابعداری کے اور کچھ حلال نہ تھا،[مسند احمد:338/3:ضعیف]‏‏‏‏ ۱؎
بعض احادیث میں ہے اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا،[کسی بھی حدیث میں عیسٰی کا ذکر نہیں، صرف موسٰی کا ہی ذکر ہے جیسا کہ سابقہ حدیث میں ہے]‏‏‏‏ ۱؎
پس ثابت ہوا کہ ہمارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور امام اعظم ہیں جس زمانے میں بھی آپ کی نبوت ہوتی آپ واجب الاطاعت تھے اور تمام انبیاء علیہم السلہم کی تابعداری پر جو اس وقت ہوں آپ کی فرمانبرداری مقدم رہتی، یہی وجہ تھی کہ معراج والی رات بیت المقدس میں تمام انبیاء علیہم السلہم کے امام آپ ہی بنائے گئے، اسی طرح میدان محشر میں بھی اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو انجام تک پہنچانے میں آپ ہی شفیع ہوں گے یہی وہ مقام محمود ہے جو آپ کے سوا اور کو حاصل نہیں تمام انبیاء علیہم السلہم اور کل رسول اس دن اس کام سے منہ پھیر لیں گے بالاخر آپ ہی خصوصیت کے ساتھ اس مقام میں کھڑے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اپنے درود و سلام آپ پر ہمیشہ ہمیشہ بھیجتا رہے قیامت کے دن تک آمین۔