تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ”اِصْرٌ“ } کسی چیز کے باندھنے اور زبردستی بند کرنے کو کہتے ہیں، یعنی بھاری بوجھ۔ اسی طرح مؤکد عہد کو بھی {”اِصْرٌ“} کہتے ہیں، کیونکہ وہ انسان کو باندھ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء سے یہ عہد اور اقرار لیا، انھیں اس کی شہادت کا حکم دیا اور خود بھی شہادت دی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں٠ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے عہد لیا کہ اس کی زندگی میں اگر اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجے تو اس پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لائے اور آپ کی امداد کرے اور اپنی امت کو بھی وہ یہی تلقین کرے کہ وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کی تابعداری میں لگ جائے، طاؤس، حسن بصری اور قتادہ فرماتے ہیں نبیوں سے اللہ نے عہد لیا کہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں، کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ تفسیر اوپر کی تفسیر کے خلاف ہے بلکہ یہ اس کی تائید ہے اسی لیے سیدنا طاؤس رحمہ اللہ سے ان کے لڑکے کی روایت مثل روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بھی مروی ہے۔
بعض احادیث میں ہے اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا،[کسی بھی حدیث میں عیسٰی کا ذکر نہیں، صرف موسٰی کا ہی ذکر ہے جیسا کہ سابقہ حدیث میں ہے] ۱؎
پس ثابت ہوا کہ ہمارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور امام اعظم ہیں جس زمانے میں بھی آپ کی نبوت ہوتی آپ واجب الاطاعت تھے اور تمام انبیاء علیہم السلہم کی تابعداری پر جو اس وقت ہوں آپ کی فرمانبرداری مقدم رہتی، یہی وجہ تھی کہ معراج والی رات بیت المقدس میں تمام انبیاء علیہم السلہم کے امام آپ ہی بنائے گئے، اسی طرح میدان محشر میں بھی اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو انجام تک پہنچانے میں آپ ہی شفیع ہوں گے یہی وہ مقام محمود ہے جو آپ کے سوا اور کو حاصل نہیں تمام انبیاء علیہم السلہم اور کل رسول اس دن اس کام سے منہ پھیر لیں گے بالاخر آپ ہی خصوصیت کے ساتھ اس مقام میں کھڑے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اپنے درود و سلام آپ پر ہمیشہ ہمیشہ بھیجتا رہے قیامت کے دن تک آمین۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا إخبار منه تعالى أنه أخذ عهد النبيين وميثاقهم كلِّهم بسبب ما أعطاهم، ومنَّ به عليهم من الكتاب والحكمة المقتضي للقيام التام بحق الله وتوفيته، أنه إن جاءهم رسول مصدق لما معهم بُعِثَ بما بعثوا به من التوحيد والحق والقسط والأصول التي اتفقت عليها الشرائع أنهم يؤمنون به وينصرونه، فأقروا على ذلك، واعترفوا، والتزموا، وأشهدهم، وشهد عليهم، وتوعد من خالف هذا الميثاق.
وهذا أمر عام بين الأنبياء أن جميعهم طريقهم واحد وأن دعوة كل واحد منهم قد اتفقوا وتعاقدوا عليها، وعموم ذلك أنه أخذ على جميعهم الميثاق بالإيمان والنصرة لمحمد - صلى الله عليه وسلم -، فمن ادعى أنه من أتباعهم فهذا دينهم الذي أخذه الله عليهم وأقروا به واعترفوا، فمن تولى عن اتباع محمد ممن يزعم أنه من أتباعهم فإنه فاسق خارج عن طاعة الله مكذب للرسول الذي يزعم أنه من أتباعه مخالف لطريقه، وفي هذا إقامة الحجة والبرهان على كل من لم يؤمن بمحمد - صلى الله عليه وسلم - من أهل الكتب والأديان، وأنه لا يمكنهم الإيمان برسلهم الذين يزعمون أنهم أتباعهم حتى يؤمنوا بإمامهم وخاتمهم - صلى الله عليه وسلم -.