تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نجران کے نصرانیوں کے پاس یہودیوں کے علماء آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کا جھگڑا شروع ہو گیا، ہر فریق اس بات کا مدعی تھا کہ سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام ہم میں سے تھے اس پر یہ آیت اتری کہ اے یہودیو تم خلیل اللہ کو اپنے میں سے کیسے بتاتے ہو؟ حالانکہ ان کے زمانے میں نہ موسیٰ تھے نہ توراۃ،سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور کتاب تورات شریف تو خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد آئے، اسی طرح اے نصرانیو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو نصرانی کیسے کہہ سکتے ہو؟ حالانکہ نصرانیت تو ان کے صدیوں بعد ظہور میں آئی کیا تم اتنی موٹی بات کے سمجھنے کی عقل بھی نہیں رکھتے؟
پھر ان دونوں فرقوں کی اس بےعلمی کے جھگڑے پر رب دو عالم انہیں ملامت کرتا ہے اگر تم بحث و مباحثہ دینی امور میں جو تمہارے پاس ہیں کرتے تو بھی خیر ایک بات تھی تم تو اس بارے میں گفتگو کرتے ہو جس کا دونوں کو مطلق علم ہی نہیں،
تمہیں چاہیئے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اسے اس علیم اللہ کے حوالے کرو جو ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے اور چھپی کھلی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، اسی لیے فرمایا اللہ جانتا ہے اور تم محض بے خبر ہو۔
پھر فرمایا کہ سب سے زیادہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تابعداری کے حقدار ان کے دین پر ان کے زمانے میں چلنے والے تھے اور اب یہ نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے ساتھ کے ایمانداروں کی جماعت جو مہاجرین و انصار ہیں اور پھر جو بھی ان کی پیروی کرتے رہیں قیامت تک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر نبی کے ولی دوست نبیوں میں سے ہوتے ہیں میرے ولی دوست انبیاء میں سے میرے باپ اور اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام الصلٰوۃ والسلام ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی (ترمذی وغیرہ) [سنن ترمذي:2995،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ پھر فرمایا جو بھی اللہ کے رسول پر ایمان رکھے وہی ان کا ولی اللہ ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
كانت الأديان كلها اليهود والنصارى والمشركون وكذلك المسلمون كلهم يدعون أنهم على ملة إبراهيم، فأخبر الله تعالى أن أولى الناس به محمد - صلى الله عليه وسلم - وأتباعه وأتباع الخليل قبل محمد - صلى الله عليه وسلم -، وأما اليهود والنصارى والمشركون فإبراهيم بريء منهم ومن ولايتهم لأن دينه الحنيفية السمحة التي فيها الإيمان بجميع الرسل وجميع الكتب، وهذه خصيصة المسلمين، وأما دعوى اليهود والنصارى أنهم على ملة إبراهيم فقد علم أن اليهودية والنصرانية التي هم يدعون أنهم عليها لم تؤسس إلا بعد الخليل، فكيف يحاجون في هذا الأمر الذي يعلم به كذبهم وافتراؤهم، فهب أنهم حاجوا فيما لهم به علم فكيف يحاجون في هذه الحالة، فهذا قبل أن ينظر ما احتوى عليه قولهم من البطلان يعلم فساد دعواهم، وفي هذه الآية دليل على أنه لا يحل للإنسان أن يقول أو يجادل فيما لا علم له به. وقوله: {والله ولي المؤمنين}؛ فكلما قوي إيمان العبد تولاه الله بلطفه، ويسره لليسرى وجنبه العسرى.