ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 6

ہُوَ الَّذِیۡ یُصَوِّرُکُمۡ فِی الۡاَرۡحَامِ کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۶﴾
وہی ہے جو رحموں میں تمھاری صورت بناتا ہے، جس طرح چاہتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ میں) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
En
وه ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس کے سواکوئی معبود برحق نہیں وه غالب ہے، حکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 5 میں تا آیت 7 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 خوب صورت یا بد صورت، مذکر یا مونث نیک بخت یا بدبخت، ناقص الخلقت یا تام الخلقت جب رحم مادر میں یہ سارے تصرفات صرف اللہ تعالیٰ ہی کرنے والا ہے تو حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کس طرح ہوسکتے ہیں جو خود بھی اسی مرحلہ تخلیق سے گزر کر دنیا میں آئے ہیں جس کا سلسلہ اللہ نے رحم مادر میں قائم فرمایا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ وہی، جیسے چاہتا ہے تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں بناتا [5] ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ زبردست ہے، حکمت والا ہے
[5] تخلیق انسان میں اللہ کی قدرت کاملہ:۔
یعنی نطفہ کو کئی مراحل سے گزار کر اسے انسان کی شکل میں پیدا کرتا ہے اور اس کی قدرت کاملہ کا یہ حال ہے دنیا میں کروڑوں، اربوں، انسان پیدا ہو چکے ہیں لیکن کسی کی شکل و صورت دوسرے سے کلی طور پر نہیں ملتی۔ بنیادی اختلاف تو صرف تین قسم کے ہوتے ہیں۔ رنگ کا اختلاف قدو قامت کا اختلاف اور نقوش کا اختلاف لیکن محض ان تین قسم کے اختلاف سے اربوں انسانوں میں سے ہر ایک کو مابہ الامتیاز شکل و صورت عطا فرمانا اسی وحدہ لاشریک کی قدرت کاملہ کا کارنامہ ہے اور اس کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہے کہ اس نے استقرار حمل سے لے کر بعد کے تمام مراحل میں جنین کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت تک کو بھی پورا کرنے کا اہتمام فرمایا اور پیدا ہونے کے بعد اس کے جسم اور روح کی تربیت کے لیے جن جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ اس کے لیے مہیا فرما دیں۔ اس سے پہلی آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ یہ گویا ایک دعویٰ تھا جس کا ثبوت اس آیت میں دیا گیا کہ جو ہستی رحم کی تاریکیوں میں جنین کی پرورش کرنے پر قادر ہے۔ اس سے کوئی چیز بھلا پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ اس آیت میں تو مصالح جسمانیہ کا ذکر تھا اور اگلی آیت میں انسان کے مصالح روحانیہ کا ذکر ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

خالقِ کل ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان و زمین کے غیب کو وہ بخوبی جانتا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں جس طرح کی چاہتا ہے اچھی، بری نیک اور بد صورتیں عنایت فرماتا ہے، اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے، جبکہ صرف اسی ایک نے تمہیں بنایا، پیدا کیا، پھر تم دوسرے کی عبادت کیوں کرو؟ وہ لازوال عزتوں والا غیرفانی حکمتوں والا، اٹل احکام والا ہے۔ اس میں اشارہ بلکہ تصریح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی اللہ عزوجل ہی کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کی چوکھٹ پر جھکنے والے تھے، جس طرح تمام انسان اس کے پیدا کردہ ہیں انہی انسانوں میں سے ایک آپ بھی ہیں، وہ بھی ماں کے رحم میں بنائے گئے ہیں اور میرے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے، پھر وہ اللہ کیسے بن گئے؟ جیسا کہ اس لعنتی جماعت نصاریٰ نے سمجھ رکھا ہے، حالانکہ وہ تو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف رگ و ریشہ کی صورت ادھراُدھر پھرتے پھراتے رہے، جیسے اور جگہ ہے «يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ» [39۔ الزمر:6]‏‏‏‏ وہ اللہ جو تمہیں ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے، ہر ایک کی پیدائش طرح طرح کے مرحلوں سے گزرتی ہے۔