ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 5

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَخۡفٰی عَلَیۡہِ شَیۡءٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ؕ﴿۵﴾
بے شک اللہ وہ ہے جس پر کوئی چیز نہ زمین میں چھپی رہتی ہے اور نہ آسمان میں۔ En
خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں
En
یقیناً اللہ تعالیٰ پر زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیده نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6،5) ➊ یہ دونوں آیات اللہ تعالیٰ کے «‏‏‏‏عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامِ» ‏‏‏‏ ہونے کے لیے بھی دلیل ہیں اور سورت کے دعویٰ «‏‏‏‏اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ» ‏‏‏‏ کے لیے بھی۔ یہاں پہلے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کی ہر بڑی اور چھوٹی، ظاہر اور پوشیدہ چیز کا علم ہے، حالانکہ وہ عرش معلیٰ پر ہے اور پھر اس طرف اشارہ کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے ایک بندے ہیں۔ جس طرح دوسرے انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ میں پیدا کیا اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کو ماں کے پیٹ میں جیسے چاہا پیدا کیا، پھر وہ خدا یا خدا کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے، جیسا کہ نصرانیوں کا غلط عقیدہ ہے۔
➋ {هُوَ الَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَآءُ:} یعنی مذکر و مؤنث، سرخ یا سیاہ، کامل یا ناقص اور خوش قسمت یا بدقسمت، حتیٰ کہ عمر اور رزق بھی اسی وقت لکھ دیا جاتا ہے، جیسا کہ متعدد احادیث میں مذکور ہے۔ [دیکھیے بخاری، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ: ۳۲۰۸] آخر میں پھر وہی دعویٰ {لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ} والا دہرا دیا اور اس کی مزید دلیلیں بھی دیں کہ کائنات کا یہ سارا سلسلہ اس اکیلے کے غلبہ و قوت اور حکمت و دانائی کے ساتھ چل رہا ہے، اس کے سوا کسی میں یہ صفات نہیں، سو عبادت بھی صرف اسی کا حق ہے، وہ نہ مسیح کا حق ہے، نہ ان کی والدہ کا اور نہ کسی اور کا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ اللہ وہ ہے جس سے کوئی چیز، خواہ وہ زمین میں ہو یا آسمان میں، پوشیدہ نہیں رہ سکتی

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

خالقِ کل ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان و زمین کے غیب کو وہ بخوبی جانتا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں جس طرح کی چاہتا ہے اچھی، بری نیک اور بد صورتیں عنایت فرماتا ہے، اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے، جبکہ صرف اسی ایک نے تمہیں بنایا، پیدا کیا، پھر تم دوسرے کی عبادت کیوں کرو؟ وہ لازوال عزتوں والا غیرفانی حکمتوں والا، اٹل احکام والا ہے۔ اس میں اشارہ بلکہ تصریح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی اللہ عزوجل ہی کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کی چوکھٹ پر جھکنے والے تھے، جس طرح تمام انسان اس کے پیدا کردہ ہیں انہی انسانوں میں سے ایک آپ بھی ہیں، وہ بھی ماں کے رحم میں بنائے گئے ہیں اور میرے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے، پھر وہ اللہ کیسے بن گئے؟ جیسا کہ اس لعنتی جماعت نصاریٰ نے سمجھ رکھا ہے، حالانکہ وہ تو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف رگ و ریشہ کی صورت ادھراُدھر پھرتے پھراتے رہے، جیسے اور جگہ ہے «يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ» [39۔ الزمر:6]‏‏‏‏ وہ اللہ جو تمہیں ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے، ہر ایک کی پیدائش طرح طرح کے مرحلوں سے گزرتی ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ یقیناً اللہ پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں یعنی اس کا علم تمام معلومات کو محیط ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ مثلاً ماؤں کے پیٹوں میں جو بچے ہیں، انھیں مخلوق کی نظریں نہیں دیکھ سکتیں، نہ لوگ ان کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بڑی باریک بینی سے انھیں سنبھالتا ہے اور ان سے متعلق ہر چیز کا صحیح اندازہ مقرر کرتا ہے، اس لیے فرمایا: ﴿ هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُؔكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ وہ ماں کے پیٹ میں تمھاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ یعنی کامل جسم والے یا ناقص الخلقت، خوبصورت یابدصورت، مذکر یا مونث۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْ٘عَزِیْزُ الْحَؔكِیْمُ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ غالب ہے حکمت والا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا معبود ہونا، ثابت و متعین ہوتاہے اور نہ صرف اسی کا معبود ہونا بلکہ اس کے سوا پوجے جانے والوں کی الوہیت کا بطلان بھی ثابت ہوتا ہے۔ اور اس سے نصاریٰ کی تردید بھی ہوجاتی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معبود سمجھتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی حیات کاملہ اور قیومیت تامہ کا اثبات بھی ہے، جن سے تمام صفات مقدسہ کا اثبات ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس سے بڑی بڑی شریعتوں کا ثبوت بھی ملتا ہے اور یہ بیان ہے کہ وہ لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا باعث تھیں۔ اور یہ کہ لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ ہدایت یافتہ اور ہدایت سے محروم۔ اور ہدایت قبول نہ کرنے والے کی سزا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی مشیئت اور حکمت کاواقع ہوکر رہنا ثابت ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومن تمام قيوميته تعالى أن علمه محيط بالخلائق {لا يخفى عليه شيء في الأرض ولا في السماء}؛ حتى ما في بطون الحوامل فهو {الذي يصوركم في الأرحام كيف يشاء}؛ من ذكر وأنثى وكامل الخلق وناقصه متنقلين في أطوار خلقته وبديع حكمته، فمن هذا شأنه مع عباده واعتناؤه العظيم بأحوالهم من حين أنشأهم إلى منتهى أمورهم لا مشارك له في ذلك فيتعين أنه لا يستحق العبادة إلا هو {لا إله إلا هو العزيز}؛ الذي قهر الخلائق بقوته، واعتز عن أن يوصف بنقص، أو ينعت بذم. {الحكيم}؛ في خلقه وشرعه.