ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 4

مِنۡ قَبۡلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ اَنۡزَلَ الۡفُرۡقَانَ ۬ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿۴﴾
اس سے پہلے، لوگوں کی ہدایت کے لیے۔ اور اس نے (حق و باطل میں) فرق کرنے والی (کتاب) اتاری، بے شک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے بہت سخت عذاب ہے اور اللہ سب پر غالب، بدلہ لینے والا ہے۔ En
(یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے (تورات اور انجیل اتاری) اور (پھر قرآن جو حق اور باطل کو) الگ الگ کر دینے والا (ہے) نازل کیا جو لوگ خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا اور خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے
En
اس سے پہلے، لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر، اور قرآن بھی اسی نے اتارا، جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے، بدلہ لینے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 3 میں تا آیت 5 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 اس سے پہلے انبیاء پر جو کتابیں نازل ہوئیں یہ کتاب اس کی تصدیق کرتی ہے یعنی جو باتیں ان میں درج تھیں ان کی صداقت اور ان میں بیان کردہ پیشن گوئیوں کا اعتراف کرتی ہے جس کے صاف معنی یہ ہیں یہ قرآن کریم بھی اسی ذات کا نازل کردہ ہے جس نے پہلے بہت سی کتابیں نازل فرمائیں۔ اگر یہ کسی اور کی طرف سے یا انسانی کاوشوں کا نتیجہ ہوتا ان میں باہم مطابقت کی بجائے مخالفت ہوتی۔ 4۔ 2 یعنی اپنے وقت میں تورات اور انجیل بھی یقینا لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ تھیں اسلئے کہ ان کے اتارنے کا مقصد ہی یہی تھا۔ تاہم اس کے بعد دوبارہ کہہ کر وضاحت فرما دی کہ اب تورات و انجیل کا دور ختم ہوگیا اب قرآن نازل ہوچکا ہے وہ فرقان ہے اور اب صرف وہی حق و باطل کی پہچان ہے اس کو سچا مانے بغیر عند اللہ کوئی مسلمان اور مومن نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اور (ان کے بعد) فرقان [3] (قرآن مجید) نازل کیا (یعنی جو حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے) اب جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کریں انہیں سخت [4] سزا ملے گی اور اللہ تعالیٰ زور آور ہے (برائی کا) بدلہ لینے والا ہے
[3] قرآن فرقان کیسے ہے :
پہلی کتابوں میں تورات، زبور، انجیل، صحف آدم، صحف ابراہیم اور صحف موسیٰ سب شامل ہیں اور یہ کتاب (قرآن کریم) اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ کتب مذکورہ فی الواقعہ منزل من اللہ ہیں۔ تصدیق سے مراد یہ ہرگز نہیں کہ آج کل کی بائبل میں جو مواد پایا جاتا ہے۔ وہ سب منزل من اللہ ہے۔ کیونکہ قرآن کریم ہی سے ثابت ہے کہ اہل کتاب نے، خواہ وہ یہود ہوں یا نصاریٰ اپنی کتابوں میں تحریف کر ڈالی ہے۔ تورات سے مراد یا تو وہ احکام عشرہ ہیں جو حضرت موسیٰؑ کو تختیوں کی صورت میں عطا ہوئے تھے یا وہ وحی منزل من اللہ ہے جو حضرت موسیٰؑ پر نازل ہوئی۔ لیکن موجودہ بائیبل کے عہد نامہ قدیم میں جسے تورات کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سا مواد شامل کر دیا گیا ہے اور انجیل در اصل حضرت عیسیٰؑ کے خطابات اور مواعظ کے مجموعہ کا نام ہے جو آپ منزل من اللہ وحی کی روشنی میں لوگوں کو بتلاتے رہے۔ انجیل چونکہ آپ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے مدتوں بعد آپ کے کئی حواریوں نے اپنے طور پر مرتب کی۔ اس لیے اس میں شدید اختلافات بھی ہیں اور اس کے مواد میں مزید بہت سے اضافہ کر دیے گئے ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں کے متعلق جن کے متعلق قرآن کریم خاموش ہے۔ مسلمانوں کو یہ ہدایت فرما دی کہ تم اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب۔ [بخاري، كتاب التفسير، باب ﴿ قُوْلُوْا آمَنَّا باللّٰهِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَيْنَا]
رہی وہ باتیں جو قرآن کے خلاف ہیں تو ان کے غلط ہونے میں کوئی شک ہی نہیں۔ کیونکہ وحی الٰہی کی اصولی باتوں میں اختلاف ممکن نہیں اور یہی کچھ قرآن کریم کے حق و باطل میں فرق کرنے کا مطلب ہے اور آج ہم بائیبل کے صرف اس حصہ کو یقینی طور پر منزل من اللہ کہہ سکتے ہیں۔ جو قرآن کے مطابق ہو اور سابقہ الہامی کتابوں پر ایمان لانے کا یہی مطلب ہے۔
[4] یہ سزا دنیا میں بھی مل چکی اور آخرت میں بھی ملے گی۔ دنیا میں اس طرح کہ آپ کی زندگی میں ہی اللہ تعالیٰ نے اسلام کو سربلند فرمایا اور اسلام کے مخالفین سب کے سب خواہ وہ مشرکین تھے یا منافقین، یہودی تھے یا نصاریٰ ذلیل و رسوا ہوئے، قتل ہوئے، قیدی بنے، جلا وطن ہوئے یا جزیہ ادا کیا۔ رہا عذاب آخرت تو اس بارے میں وضاحت فرما دی کہ اللہ تعالیٰ زور آور ہے، بدلہ لینے والا ہے، یعنی وہ بدلہ لینے کی پوری طاقت رکھتا ہے اور یقیناً ان سے بدلہ لے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔