ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 191

الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾
وہ لوگ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوئوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں، اے ہمارے رب! تو نے یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے، سو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ En
جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو
En
جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمانوں وزمین کی پیدائش میں غوروفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ بے فائده نہیں بنایا، تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 191) ➊ {الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ …:} پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے ہر چیز کے خالق اور رب ہونے کا ذکر تھا، اب اس اکیلے کی عبادت کا ذکر ہے، یعنی وہ {أُوْلُوا الْاَلْبَابِ} دل، زبان اور دوسرے سب اعضا سے کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے ہر حالت میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ روزی کماتے وقت اللہ کے حکم کا خیال رکھنا بھی اس کی یادہے، عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر اسے نہ بھولنا بھی یاد ہے، نظر کو بے لگام نہ ہونے دینا بھی اس کا ذکر ہے، اسلام کی سر بلندی کے لیے جہاد کی تیاری میں مصروف ہونا بھی اس کی یاد ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں نے صرف نماز اور تسبیح و تحمید کو ذکر سمجھ لیا اور اللہ کی جس یاد اور ملاقات کے شوق سے صحابہ و تابعین کے سینے روشن تھے اور وہ موت کو موت کی جگہوں میں ڈھونڈتے پھرتے تھے، اس کو اپنے شب و روز سے نکال دیا، حالانکہ یہ ذکر اسلام کے بنیادی ارکان کے بعد تمام اذکار سے کہیں افضل ہے۔ فرمایا: «اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَا يَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ» [التوبۃ: ۱۹] کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس جیسا بنا دیا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَوْقِفُ سَاعَةٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ خَيْرٌ مِّنْ قِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ عِنْدَ الْحَجَرِ الْاَسْوَدِ] ایک گھڑی اللہ کے راستے (جہاد) میں رہنا حجر اسود کے پاس لیلۃ القدر کے قیام سے افضل ہے۔ [ابن حبان: ۴۶۰۳ و صححہ الألبانی، الصحیحۃ: ۴۵۸۴]
➋ {وَ يَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یعنی زمین و آسمان کو پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ نے جو حکمت رکھی ہے وہ اس پر غور و فکر کرتے ہیں۔ علوم ہیئت فلکیات اور ریاضی کو اگر دینی نقطۂ نظر سے پڑھا جائے تو فی الجملہ عبادت میں داخل ہے۔
➌ {رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا:} یعنی بے مقصد نہیں بنایا، بلکہ اس عالم کی انتہا دوسرے عالم میں ہو رہی ہے، جس میں حساب کتاب ہو گا۔(موضح) اس میں مادہ پرستوں اور دہریوں کا رد ہے جو کائنات کو محض اتفاق کا نتیجہ سمجھتے ہیں، یعنی غور و فکر سے ان پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ کائنات کا یہ سارا نظام یونہی پیدا نہیں کیا، بلکہ اس کے پیچھے یہ مقصد کارفرما ہے کہ انسان دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرے تو اجر و ثواب پائے اور نافرمانی کرے تو آخرت میں عذاب بھگتے، اس لیے وہ آگ سے محفوظ رہنے کی دعا کرتے رہتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

191۔ 1 ان دس آیات میں سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و طاقت کی چند نشانیاں بیان فرمائی ہیں اور فرمایا کہ یہ نشانیاں ضرور ہیں لیکن کن کے لئے؟ اہل عقل و دانش کے لئے، اس کا مظلب یہ ہوا کہ ان عجائبات تخلیق اور قدرت الٰہی کو دیکھ کر بھی جس شخص کو باری تعالیٰ کا عرفان حاصل نہ ہو وہ اہل دانش ہی نہیں۔ لیکن یہ المیہ بھی بڑا عجیب ہے کہ عالم اسلام میں ' دانشور ' سمجھا ہی اس کو جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک کا شکار ہو، دوسری آیت میں اہل دانش کے ذوق ذکر الٰہی اور ان کا آسمان اور زمین کی تخلیق میں غورو فکر کرنے کا بیان ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ اگر کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھو، بیٹھ کر بھی نہیں پڑھ سکتے تو کروٹ کے بل لیٹے لیٹے ہی نماز پڑھ لو۔ (صحیح بخاری کتاب الصلٰوۃ) اس کے بعد والی تین آیات میں بھی مغفرت اور قیامت کے دن کی رسوائی سے بچنے کی دعائیں ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

191۔ جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں [190] اللہ کو یاد کرتے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں سوچ بچار کرتے [191] (اور پکار اٹھتے) ہیں۔ ”اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ سب کچھ بے مقصد [192] پیدا نہیں کیا تیری ذات اس سے پاک ہے۔ پس (اے پروردگار)! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے
[190] اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عقلمند صرف وہ لوگ ہیں جو اس کارخانہ قدرت میں غور کرنے کے بعد اللہ کی بے پناہ قدرت و تصرف کی حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر اس اعتراف حقیقت کے نتیجہ میں ان کے بدن کارواں رواں محبت الٰہی میں سرشار ہو کر اس کی حمد و ثناء کرنے لگتا ہے اور ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے اور اس کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اس کارخانہ قدرت میں غور و فکر کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچیں کہ یہ عالم مادہ سے بنا ہے۔ پھر اتفاق سے یوں ہو گیا، پھر اتفاق سے یوں ہو گیا اور اس مضبوط و مربوط نظام کائنات کو محض اتفاقات کا نتیجہ کا قرار دیتے ہیں، وہ ہرگز اہل عقل نہیں ہیں۔ کیونکہ اتفاق سے کبھی کبھار تو خیر پیدا ہو سکتی ہے لیکن مسلسل خیر کبھی پیدا نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ اس کائنات کی ہر ایک چیز نہایت خوبی کے ساتھ اپنے اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ گویا اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات میں دہریت اور نیچریت کا رد موجود ہے۔
[191] آخرت اللہ کے عدل کا تقاضا ہے:۔
اس کائنات کے نظام میں غور و فکر کرنے سے اہل عقل پر یہ حقیقت بھی منکشف ہو جاتی ہے کہ اس کائنات میں ایک انسان ہی ایسی مخلوق ہے جسے عقل اور تمیز عطا کی گئی ہے۔ اسے اللہ نے تصرف کے کچھ اختیارات بھی دیئے ہیں اور اخلاقی حس بھی پیدا کی ہے۔ لہٰذا یہ بات سراسر عقل اور حکمت کے خلاف ہے کہ اس سے اس کی دنیا کی زندگی کے بارے میں باز پرس نہ ہو اور اسے نیکی پر جزا اور بدی پر سزا نہ دی جائے، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک انسان عمر بھر ظلم و ستم کئے جاتا ہے۔ لوگوں کو پریشان بھی کرتا ہے۔ ان کے حقوق بھی غصب کرتا ہے۔ لیکن اسے اس دنیا میں کوئی سزا نہیں ملتی۔ اسی طرح بعض دفعہ ایک نیک طبع اور دیندار انسان کی ساری عمر سختیاں اور مصائب برداشت کرتے اور تنگی و تنگ دستی کے عالم میں گزر جاتی ہے اور اسے کبھی راحت میسر نہیں آتی اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے عدل کے خلاف ہے۔ اس سے ایک عقلمند انسان لازماً یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گا کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہونی چاہئے۔ جس میں ہر ایک کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جا سکے۔ اس طرح انہیں اخروی زندگی کا یقین حاصل ہو جاتا ہے اور وہ اللہ کی گرفت سے پناہ مانگنے لگتے ہیں۔
[192] کائنات اور دہریت:۔
باطل کی ضد حق ہے اور جس طرح حق کا لفظ وسیع المعنی ہے۔ اسی طرح باطل کے بھی بہت سے معنی ہیں۔ مثلاً باطل بمعنی جھوٹ، جھوٹی بات، بہتان، عبث، بے کار، بے مقصد ہے۔ اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ یہ کائنات بے مقصد پیدا نہیں کی گئی۔ جیسا کہ مادہ پرستوں، دہریوں اور نیچریوں کا خیال ہے کہ مادہ کے اجزا باہم ملتے گئے اور کائنات کی ایک ایک چیز وجود میں آتی گئی۔ ہائیڈروجن کے ذرات ملے تو سورج پیدا ہو گیا اور وہ خود بھی گھومنے لگا۔ پھر اس سے ایک حصہ کٹ کر علیحدہ ہوا تو وہ زمین بن گئی۔ زمین نے جب گھومنا شروع کیا تو اس کا ایک حصہ کٹ کر علیحدہ ہوا تو وہ چاند بن گیا اور اسی طرح دوسرے سیارے وجود میں آتے گئے اور انہی اتفاقات سے کائنات سے ایک ایک چیز بن گئی۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ جس طرح کائنات کی ہر چیز جیسے اتفاق سے بنتی گئی۔ اسی طرح تباہ ہو جائے گی اور تباہی کے بعد پھر اجزا ملنے شروع ہو جائیں گے اور یہ سلسلہ یوں ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلتا رہے گا۔ «وقس عليٰ هٰذا من الخرافات» گویا ان کے خیال میں یہ کائنات محض ایک تماشا گاہ اس کی مختلف صورتوں اور اتفاقات کا کھیل ہے۔
کائنات کی ہر چیز انسان کی خادم ہے:۔
اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ پوری کائنات تو درکنار، کائنات کی کوئی چیز بھی بے کار پیدا نہیں کی گئی۔ بلکہ با مقصد طور پر پیدا کی گئی ہے۔ قرآن کی تصریحات کے مطابق زمین اور اس کی جملہ اشیاء شمس و قمر اور ستارے سب انسان کی خدمت کے لیے بنائے گئے ہیں اور اس کی خدمت پر مامور ہیں۔ زمین سے انسان کی ہر طرح کی جسمانی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ سورج اور اس کی گردش سے رات دن پیدا ہوتے، موسم بنتے اور فصلیں پکتی ہیں۔ چاند سے رات کو روشنی اور ٹھنڈک ملتی ہے اور پھلوں میں رس پیدا ہوتا ہے۔ ستاروں سے ہم رات کے اوقات کی تعیین کرتے، روشنی حاصل کرتے اور رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور پھر یہ آسمان کی زینت بھی ہیں۔ یہی صورت ہواؤں اور بادلوں کی ہے۔ اب دیکھئے ان میں سے کوئی چیز بھی نہ ہو تو انسان کا جینا محال ہو جاتا ہے لیکن اگر کائنات میں انسان نہ ہو تو ان چیزوں کے استقلال میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اس بات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کا مقصد انسان کی خدمت ہے اور غالباً یہی وہ با شعور و باختیار مخلوق ہے۔ جسے سب چیزوں کے بعد پیدا کیا ہے۔ لہٰذا یہ کائنات یونہی بے مقصد نہیں بلکہ ایک نہایت اہم مقصد کے ساتھ وجود میں لائی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کبھی کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں فرماتا، اس کی ذات اس سے پاک ہے۔
انسان کی تخلیق کا مقصد:۔
اب اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ تو انسان کے لیے ہے تو پھر انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ تو اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا۔
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ
یعنی میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ اور عبادت کا مفہوم اس قدر وسیع اور جامع ہے کہ اس میں ہر طرح کے شرک کا رد، توحید کی اہمیت، قانون جزا و سزا، جنت و دوزخ بلکہ پوری کی پوری شریعت اس میں آجاتی ہے۔ کائنات، کائنات کا خالق اور اس کائنات میں انسان کا مقام، یہ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی حقیقت معلوم کرنے اور ان کا صحیح تعین کرنے پر اہل عقل و خرد ابتدائے آدم سے لے کر غور و فکر کرتے رہے ہیں۔ پھر جس کسی سائنسدان یا فلاسفر نے بھی وحی الٰہی سے بے نیاز ہو کر سوچنا شروع کیا تو اکثر اس کی عقل نے ٹھوکر ہی کھائی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر ٭٭
طبرانی میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے؟ انہوں نے کہا اژدھابن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس سیدنا عیسیٰ [علیہ اسلام]‏‏‏‏ کیا نشانیاں لائے تھے؟ جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کر دینا اور کوڑھی کو اچھا کر دینا اور مردوں کو زندہ کر دینا۔
اب یہ قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» ، اتری[طبرانی کبیر:12322/12:ضعیف]‏‏‏‏ ۱؎ یعنی نشان قدرت دیکھنے والوں کیلئے اسی میں بڑی نشانیاں ہیں یہ اسی میں غورو فکر کریں گے تو ان قدرتوں والے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے۔
لیکن اس روایت میں ایک اشکال ہے وہ یہ کہ یہ سوال مکہ شریف میں ہوا تھا اور یہ آیت مدینہ شریف میں نازل ہوئی واللہ اعلم۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمان جیسی بلندر اور وسعت مخلوق اور زمین جیسی پست اور سخت لمبی چوڑی مخلوق پھر آسمان میں بڑی بڑی نشانیاں مثلاً چلنے پھرنے والے اور ایک جا ٹھہرنے والے ستارے اور زمین کی بڑی بڑی پیدوارا مثلاً پہاڑ، جنگل، درخت، گھس، کھیتیاں، پھل اور مختلف قسم کے جاندار، کانیں، الگ الگ ذائقے والے اور طرح طرح کی خوشبوؤں والے اور مختلف خواص والے میوے وغیرہ، کیا یہ سب آیاتِ قدرت ایک سوچ سمجھ والے انسان کی رہبری اللہ عزوجل کی طرف نہیں کر سکتیں؟ جو اور نشانیاں دیکھنے کی ضرورت باقی رہے پھر دن رات کا آنا جانا اور ان کا کم زیادہ ہونا پھر برابر ہو جانا یہ سب اس عزیز وحلیم اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کی پوری پوری نشانیاں ہیں جو پاک نفس والے ہر چیز کی حقیقت پر نظریں ڈالنے کے عادی ہیں اور بیوقوفوں کی طرح آنکھ اندھے اور کان کے بہرے نہیں جن کی حالت اور جگہ بیان ہوئی ہے کہ «وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ ـ وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ» [12-يوسف:105]‏‏‏‏ وہ آسمان اور زمین کی بہت سی نشانیاں پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور غورو فکر نہیں کرتے، ان میں اکثر باوجود اللہ تعالیٰ کو ماننے کے پھر بھی شرک سے نہیں بچ سکے۔ اب ان عقلمندوں کی صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ اٹھتے، بیٹھتے، لیٹتے اللہ کا نام لیا کرتے ہیں۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمران بن حصینرضی اللہ عنہ سے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹے لیٹے ہی سہی،[صحیح بخاری:1117]‏‏‏‏۱؎
یعنی کسی حالت میں اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل مت رہو دل میں اور پوشیدہ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہا کرو، یہ لوگ آسمان اور زمین کی پیدائش میں نظریں دوڑاتے ہیں اور ان کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں جو اس خالق یکتا کی عظمت و قدرت، علم و حکمت، اختیار رحمت پر دلالت کرتی ہیں، سیدنا شیخ سلیمان درانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں گھر سے نکل کر جس جس چیز پر میری نظر پڑتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اللہ کی ایک نعمت مجھ پر موجود ہے اور میرے لیے وہ باعثِ عبرت ہے، سیدنا امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ساعت غورو فکر کرنا رات بھر کے قیام کرنے سے افضل ہے،
سیدنا فضیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن رحمہ اللہ کا قول ہے کہ غورو فکر اور مراقبہ ایک آئینہ ہے جو تیرے سامنے تیری برائیاں بھلائیاں پیش کردے گا، سیدنا سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں غوروفکر ایک نور ہے جو تیرے دل پر اپنا پر تو ڈالے گا او بسا اوقات یہ بیت پڑھتے۔ «اذا المراء کانت لہ فکرۃ» «ففی کل شئی لہ عبرۃ» یعنی جس انسان کو باریک بینی اور سوچ سمجھ کی عادث پڑ گئی اسے ہر چیز میں ایک عبرت اور آیت نظر آتی ہے۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا بولنا ذکر اللہ اور نصیحت ہو اور اس کا چپ رہنا غور و فکر ہو اور اس کا دیکھنا عبرت اور تنبیہہ ہو، لقمان حکیم کا نصیحت آموز مقولہ بھی یاد رہے کہ تنہائی کی گوشہ نشینی جس قدر زیادہ ہو اور اسی قدر غورو فکر اور دور اندیشی کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جس قدر یہ بڑھ جائے اسی قدر راستے انسان پر وہ کھل جاتے ہیں جو اسے جنت میں پہنچا دیں گے،
سیدنا وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس قدر مراقبہ زیادہ ہو گا اسی قدر سمجھ بوجھ تیز ہو گی اور جتنی سمجھ زیادہ ہو گی اتناعلم نصیب ہو گا اور جس قدر علم زیادہ ہو گا نیک اعمال بھی بڑھیں گے، سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں زبان کا چلانا بہت اچھا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں غوروفکر افضل عبادت ہے،
سیدنا مغیث اسود رحمہ اللہ مجلس میں بیٹھے ہوئے فرماتے کہ لوگو! قبرستان ہر روز جایا کرو تاکہ تمہیں انجام کا خیال پیدا ہو پھر اپنے دل میں اس منظر کو حاضر کرو کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو پھر ایک جماعت کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوتا ہے اور ایک جماعت جنت میں جاتی ہے اپنے دلوں کو اس حال میں جذب کر دو اور اپنے بدن کو بھی وہیں حاضر جان لو جہنم کو اپنے سامنے دیکھو اس کے ہتھوڑوں کو، اس کی آگ کے قید خانوں کو اپنے سامنے لاؤ اتنا فرماتے ہی دھاڑیں مارمار کر رونے لگتے ہیں یہاں تک کہ بیہوش ہو جاتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک راہب سے ایک قبرستان اور کوڑا کرکٹ، پاخانہ پیشاب ڈالنے کی جگہ پر ملاقات کی اور اس سے کہا اے بندہ حق اس وقت تیرے پاس دو خزانے ہیں ایک خزانہ لوگوں کا یعنی قبرستان اور دوسرا خزانہ مال کا یعنی کوڑا کرکٹ۔ پیشاب پاخانہ ڈالنے کی جگہ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کھنڈرات پر جاتے اور کسی ٹوٹے پھوٹے دروازے پر کھڑے رہ کر نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ بھرائی ہوئی آواز میں فرماتے اے اجڑے ہوئے گھرو! تمہارے رہنے والے کہاں گئے؟ پھر خود فرماتے سب زیر زمین چلے گئے سب فنا کا جام پی چکے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہمیشہ کی مالک بقاء ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے دو رکعتیں جو دل بستگی کے ساتھ ادا کی جائیں اس تمام نماز سے افضل ہیں جس میں ساری رات گزار دی لیکن دلچسپی نہ تھی،
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابن آدم اپنے پیٹ کے تیسرے حصے میں کھا تیسرے حصے میں پانی پی اور تیسرا حصہ ان سانسوں کیلئے چھوڑ جس میں تو آخرت کی باتوں پر، اپنے انجام پر اور اپنے اعمال پر خور و فکر کر سکے، بعض حکیموں کا قول ہے جو شخص دنیا کی چیزوں پر عبرت حاصل کئے بغیر نظر ڈالتا ہے اس غفلت کی وجہ سے اس کی دلی آنکھیں کمزور پڑ جاتی ہیں،
سیدنا بشر بن حارث حافی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا خیال کرتے تو ہر گز ان سے نافرمانیاں نہ ہوتیں۔ سیدنا عامر بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے سنا ہے کہ ایمان کی روشنی اور تو غور فکر اور مراقبہ میں ہے، مسیح ابن مریم سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ابن آدم اے ضعیف انسان! جہاں کہیں تو ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ، دنیا میں عاجزی اور مسکینی کے ساتھ رہ، اپنا گھر مسجدوں کو بنا لے، اپنی آنکھوں کو رونا سکھا، اپنے جسم کو صبر کی عادت سکھا، اپنے دل کو غور و فکر کرنے والا بنا، کل کی روزی کی فکر آج نہ کر۔
امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ایک مرتبہ مجلس میں بیٹھے ہوئے رو دیئے لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میں نے دنیا میں اور اس کی لذتوں میں اور اس کی خواہشوں میں غور فکر کیا اور عبرت حاصل کی جب نتیجہ پر پہنچا تو میری امنگیں ختم ہو گئیں حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کیلئے اس میں عبرت و نصیحت ہے اور وعظ و پند ہے،
حسین بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے بھی اپنے اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی مدح و ثنا بیان کی جو مخلوقات اور کائنات سے عبرت حاصل کریں اور نصیحت لیں اور ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو قدرت کی نشانیوں پر غور نہ کریں۔
مومنوں کی مدح میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ سبحانہ کا ذکر کرتے ہیں زمین و آسمان کی پیدائش میں غوروفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ تو نے اپنی مخلوق کو عبث اور بے کار نہیں بنایا بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو برائی کا بدلہ اور نیکوں کو نیکیوں کا بدلہ عطا فرمائے، پھر اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں تو اس سے منزہ ہے کہ کسی چیز کو بے کار بنائے اے خالق کائنات، اے عدل و انصاف سے کائنات کو سجانے والے، اے نقصان اور عیبوں سے پاک ذات ہمیں اپنی قوت و طاقت سے ان اعمال کی توفیق اور ہمارا رفیق فرما جن سے ہم تیرے عذابوں سے نجات پالیں اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر جنت میں داخل ہو جائیں، یہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ! جسے تو جہنم میں لے گیا اسے تو نے برباد اور ذلیل و خوار کر دیا مجمع حشر کے سامنے اسے رسوا کیا، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں انہیں نہ کوئی چھڑا سکے نہ بچا سکے نہ تیرے ارادے کے درمیان آ سکے، اے رب ہم نے پکارنے والے کی پکار سن لی جو ایمان اور اسلام کی طرف بلاتا ہے، مراد اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ ہم ایمان لا چکے اور تابعداری بجا لائے پس ہمارے ایمان اور فرماں برداری کی وجہ سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما ان کی پردہ پوشی کر اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں صالح اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے تو نے ہم سے جو وعدے اپنے نبیوں کی زبانی کئے ہیں انہیں پورے کر اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں پر ایمان لانے کا لیا تھا لیکن پہلا معنی واضح ہے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے عسقلان دو عروس میں سے ایک ہے یہیں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ستر ہزار شہیداء اٹھائیں گے جو وفد بن کر اللہ کے پاس جائیں گے یہیں شہیدوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں ان کے کٹے ہوئے سر ہوں گے ان کی گردن کی رگوں سے خون جاری ہو گا یہ کہتے ہوں گے اے اللہ! ہم سے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت تو نے کئے ہیں انہیں پورے کر ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر تو وعدہ خلافی سے پاک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے یہ بندے سچے ہیں اور انہیں نہر بیضہ میں غسل کروائیں گے جس غسل کے بعد پاک صاف گورے چٹے رنگ کے ہو کر نکلیں گے اور ساری جنت ان کے لیے مباح ہو گی جہاں چاہیں جائیں آئیں جو چاہیں کھائیں پئیں۔ [مسند احمد:225/3:ضعیف جداً]‏‏‏‏ ۱؎ یہ حدیث غریب ہے اور بعض تو کہتے ہیں موضوع ہے واللہ اعلم۔
ہمیں قیامت کے دن تمام لوگوں کے مجمع میں رسوا نہ کر تیرے وعدے سچے ہیں تو نے جو کچھ خبریں اپنے رسولوں کی زبانی پہنچائی ہیں سب اٹل ہیں قیامت کا روز ضرور آنا ہے پس تو ہمیں اس دن کی رسوائی سے نجات دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندے پر رسوائی ڈانٹ ڈپٹ مار اور شرمندگی اس قدر ڈالی جائے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر کے اسے قائل معقول کیا جائے گا کہ وہ چاہے گا کہ کاش مجھے جہنم میں ہی ڈال دیا جاتا۔[مستدرک حاکم:577/4:ضعیف جداً]‏‏‏‏ ۱؎ [ابو یعلیٰ]‏‏‏‏ اس حدیث کی سند بھی غریب ہے۔
احادیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کیلئے جب اٹھتے تب سورۃ آل عمران کی ان دس آخری آیتوں کی تلاوت فرماتے چنانچہ بخاری شریف میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ سیدنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری یہ ام المؤمنین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب آئے تو تھوڑی دیر تک آپ میمونہ رضی اللہ عنہا سے باتیں کرتے رہے پھر سو گئے جب آخری تہائی رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» سے آخر سورت تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں پھر کھڑے ہوئے، مسواک کی، وضو کیا اور گیارہ رکعت نماز ادا کی بلال کی صبح کی اذان سن کر پھر دو رکعتیں صبح کی سنتیں پڑھیں پھر مسجد میں تشریف لا کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔[صحیح بخاری:4569]‏‏‏‏ ۱؎
صحیح بخاری میں یہ روایت دوسری جگہ بھی ہے کہ بسترے کے عرض میں تو میں سویا اور لمبائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا لیٹیں آدھی رات کے قریب کچھ پہلے یا کچھ بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ان دس آیتوں کی تلاوت کی پھر ایک لٹکی ہوئی مشک میں سے پانی لے کر بہت اچھی طرح کامل وضو کیا میں بھی آپ کی بائیں جانب آپ کی اقتدار میں نماز کیلئے کھڑا ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرے کان کو پکڑ کر مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا اور دو دو رکعت کر کے چھ مرتبہ یعنی بارہ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا اور لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن نے آ کر نماز کی اطلاع کی آپ نے کھڑے ہو کر دو ہلکی رکعتیں ادا کیں اور باہر آ کر صبح کی نماز پڑھائی۔[صحیح بخاری:4571]‏‏‏‏ ۱؎
ابن مردویہ کی اس حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے میرے والد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم آج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں گزارو اور آپ کی رات کی نماز کی کیفیت دیکھو رات کو جب سب لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر چلے گئے میں بیٹھا رہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگے تو مجھے دیکھ کر فرمایا کون عبداللہ؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کیوں رکے ہوئے ہو؟ میں نے کہا والد صاحب کا حکم ہے کہ رات آپ کے گھر گزاروں تو فرمایا بہت اچھا آؤ گھر جا کر فرمایا بستر بچھاؤ ٹاٹ کا تکیہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سر رکھ کر سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی پھر آپ جاگے اور سیدھی طرح بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر تین مرتبہ دعا «سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْس» پڑھی پھر سورۃ آل عمران کے خاتمہ کی یہ آیتیں پڑھیں۔ [صحیح بخاری:6316]‏‏‏‏ ۱؎
اور روایت میں ہے کہ آیتوں کی تلاوت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَمِنْ وَاجْعَلْ مِنْ بَيْنَ يَدَيَّ نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا یوم القیامتہ» [طبرانی کبیر:12349/12:ضعیف]‏‏‏‏ ۱؎ [ابن مردویہ]‏‏‏‏ یہ دعا بعض صحیح طریق سے بھی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:6316]‏‏‏‏ ۱؎
اس آیت کی تفسیر کے شروع میں طبرانی کے حوالے سے جو حدیث گزری ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے لیکن مشہور اس کے خلاف ہے یعنی یہ کہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش ہو سکتی ہے جو ابن مردویہ میں ہے کہ سیدنا عطاء رحمہ اللہ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عبید بن عمیر رحمہ اللہ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آپ کے اور ان کے درمیان پردہ تھا سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا عبید تم کیوں نہیں آیا کرتے؟ سیدنا عبید نے جواب دیا اماں جان صرف اس لیے کہ کسی شاعر کا قول ہے «زرغبا تزد دحبا» یعنی کم کم آؤ تاکہ محبت بڑھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اب ان باتوں کو چھوڑو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ہم یہ پوچھنے کیلئے حاضر ہوئے ہیں کہ سب سے زیادہ عجیب بات جو آپ نے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھی ہو وہ ہمیں بتائیں۔سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا رو دیں اور فرمانے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کام عجیب تر تھے، اچھا ایک واقعہ سنو ایک رات میری باری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے ساتھ سوئے پھر مجھ سے فرمانے لگے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں اپنے رب کی کچھ عبادت کرنا چاہتا ہوں مجھے جانے دے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم میں آپ کا قرب چاہتی ہوں اور یہ بھی میری چاہت ہے کہ آپ اللہ عزوجل کی عبادت بھی کریں، اب آپ کھڑے ہوئے اور ایک مشک میں سے پانی لے کر آپ نے ہلکا سا وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے پھر جو رونا شروع کیا تو اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہو گئی پھر سجدے میں گئے اور اس قدر روئے کہ زمین تر ہو گئی پھر کروٹ کے بل لیٹ گئے اور روتے ہی رہے یہاں تک کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کیلئے بلایا اور آپ کے آنسو رواں دیکھ کر دریافت کیا کہ اے اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، آپ نے فرمایا بلال میں کیوں نہ روؤں؟ مجھ پر آج کی رات یہ آیت اتری ہے آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» ، افسوس ہے اس شخص کیلئے جو اسے پڑھے اور پھر اس میں غورو تدبر نہ کرے۔[الدار المنشور للسیوطی:195/2:ضعیف]‏‏‏‏ ۱؎
عبد بن حمید کی تفسیر میں بھی یہ حدیث ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ہم نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ ہم نے اپنے نام بتائے اور آخر میں یہ بھی ہے کہ نماز کے بعد آپ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے رخسار تلے ہاتھ رکھا اور روتے رہے یہاں تک کہ آنسوؤں سے زمین تر ہو گئی اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے جواب میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اور آیتوں کے نازل ہونے کے بارے میں «عَذَابَ النَّارِ» تک آپ نے تلاوت کی،[الدار المنشور للسیوطی:195/2:ضعیف]‏‏‏‏ ۱؎
ابن مردویہ کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ آل عمران کے آخر کی دس آیتیں ہر رات کو پڑھتے اس روایت میں مظاہر بن اسلم ضعیف ہیں۔[الدار المنشور للسیوطی:204/2:ضعیف]‏‏‏‏ ۱؎