تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ: ”الْاَلْبَابِ“ } یہ {” لُبٌّ “} کی جمع ہے، جس کا معنی خالص عقل ہے، اس لیے ترجمہ ” عقلوں والوں“ کیا ہے۔ یعنی جو لوگ زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز پر غور کرتے ہیں، انھیں کائنات کے خالق اور اس کے اصل فرماں روا کی پہچان ہو جاتی ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اتنی طویل و عریض کائنات کا یہ لگا بندھا نظام، جس میں ذرا خلل واقع نہیں ہوتا، یقینا اس کے پیچھے ایک ذات ہے جو اسے چلا رہی ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات۔ اس میں عقلوں والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اکیلے مالک ہونے کی، اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کاریگری کی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حاکمیت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔
نظام فلکی اور اس کی تفصیلات، چاند سورج، ستاروں کی تعداد، ان کے درمیانی فاصلے، ان کے باہمی تعلقات و تاثرات، ان کی گردشوں کی پیمائش، گرہن کے اسباب و اوقات، ان کے طلوع و غروب اور نور و حرارت وغیرہ کے قاعدے و ضابطے، غرض اس قسم کی تفصیلات سے علم ہیئت کی کتابوں کے دفتر کے دفتر بھرے پڑے ہیں۔ رہی زمین تو اس کی شکل و صورت، اس کی پیمائش، اس کے پہاڑ اور سمندر، اس کی معدنیات، اس کی کشش، اس کی ہوا ؤ ں اور موسموں کے تغیرات وغیرہ کے لیے تو کوئی ایک فن بھی پوری طرح کافی نہ ہوا، بلکہ جغرافیہ، جغرافیہ طبعی، جیالوجی، فزیالوجی، میٹرالوجی اور آرکیالوجی، اللہ جانے کتنے فنون پر فنون نکلتے چلے آ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی کاریگر ی کے اندازے اور تخمینے ختم ہونے میں نہیں آ رہے۔ اب {”اُوْلُوْا الْاَلْبَابِ“} کے بجائے غیر مسلم قومیں ان چیزوں پر غور میں مصروف ہیں اور چونکہ ان کا ہدف ہی دنیا ہے، اس لیے دنیا کے بے شمار فائدے حاصل کر رہے ہیں، بلکہ انھی فنون کے ذریعے سے انھوں نے مسلمانوں کو مغلوب کر رکھا ہے، ہدف کی غلطی کی وجہ سے انھیں ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ کاش! مسلمان ان فنون میں پوری طرح حصہ لیتے تو یہ سارے علوم دین کی سربلندی اور توحید کی دعوت کا زبردست ذریعہ بنتے اور دنیا پر غلبے کے کام آتے، کیونکہ مسلمان تو «رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ» کا ہدف سامنے رکھتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اب یہ قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» ، اتری[طبرانی کبیر:12322/12:ضعیف] ۱؎ یعنی نشان قدرت دیکھنے والوں کیلئے اسی میں بڑی نشانیاں ہیں یہ اسی میں غورو فکر کریں گے تو ان قدرتوں والے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے۔
یعنی کسی حالت میں اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل مت رہو دل میں اور پوشیدہ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہا کرو، یہ لوگ آسمان اور زمین کی پیدائش میں نظریں دوڑاتے ہیں اور ان کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں جو اس خالق یکتا کی عظمت و قدرت، علم و حکمت، اختیار رحمت پر دلالت کرتی ہیں، سیدنا شیخ سلیمان درانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں گھر سے نکل کر جس جس چیز پر میری نظر پڑتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اللہ کی ایک نعمت مجھ پر موجود ہے اور میرے لیے وہ باعثِ عبرت ہے، سیدنا امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ساعت غورو فکر کرنا رات بھر کے قیام کرنے سے افضل ہے،
سیدنا فضیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن رحمہ اللہ کا قول ہے کہ غورو فکر اور مراقبہ ایک آئینہ ہے جو تیرے سامنے تیری برائیاں بھلائیاں پیش کردے گا، سیدنا سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں غوروفکر ایک نور ہے جو تیرے دل پر اپنا پر تو ڈالے گا او بسا اوقات یہ بیت پڑھتے۔ «اذا المراء کانت لہ فکرۃ» «ففی کل شئی لہ عبرۃ» یعنی جس انسان کو باریک بینی اور سوچ سمجھ کی عادث پڑ گئی اسے ہر چیز میں ایک عبرت اور آیت نظر آتی ہے۔
سیدنا وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس قدر مراقبہ زیادہ ہو گا اسی قدر سمجھ بوجھ تیز ہو گی اور جتنی سمجھ زیادہ ہو گی اتناعلم نصیب ہو گا اور جس قدر علم زیادہ ہو گا نیک اعمال بھی بڑھیں گے، سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں زبان کا چلانا بہت اچھا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں غوروفکر افضل عبادت ہے،
سیدنا مغیث اسود رحمہ اللہ مجلس میں بیٹھے ہوئے فرماتے کہ لوگو! قبرستان ہر روز جایا کرو تاکہ تمہیں انجام کا خیال پیدا ہو پھر اپنے دل میں اس منظر کو حاضر کرو کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو پھر ایک جماعت کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوتا ہے اور ایک جماعت جنت میں جاتی ہے اپنے دلوں کو اس حال میں جذب کر دو اور اپنے بدن کو بھی وہیں حاضر جان لو جہنم کو اپنے سامنے دیکھو اس کے ہتھوڑوں کو، اس کی آگ کے قید خانوں کو اپنے سامنے لاؤ اتنا فرماتے ہی دھاڑیں مارمار کر رونے لگتے ہیں یہاں تک کہ بیہوش ہو جاتے ہیں۔
سیدنا بشر بن حارث حافی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا خیال کرتے تو ہر گز ان سے نافرمانیاں نہ ہوتیں۔ سیدنا عامر بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے سنا ہے کہ ایمان کی روشنی اور تو غور فکر اور مراقبہ میں ہے، مسیح ابن مریم سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ابن آدم اے ضعیف انسان! جہاں کہیں تو ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ، دنیا میں عاجزی اور مسکینی کے ساتھ رہ، اپنا گھر مسجدوں کو بنا لے، اپنی آنکھوں کو رونا سکھا، اپنے جسم کو صبر کی عادت سکھا، اپنے دل کو غور و فکر کرنے والا بنا، کل کی روزی کی فکر آج نہ کر۔
حسین بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے بھی اپنے اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی مدح و ثنا بیان کی جو مخلوقات اور کائنات سے عبرت حاصل کریں اور نصیحت لیں اور ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو قدرت کی نشانیوں پر غور نہ کریں۔
ہمیں قیامت کے دن تمام لوگوں کے مجمع میں رسوا نہ کر تیرے وعدے سچے ہیں تو نے جو کچھ خبریں اپنے رسولوں کی زبانی پہنچائی ہیں سب اٹل ہیں قیامت کا روز ضرور آنا ہے پس تو ہمیں اس دن کی رسوائی سے نجات دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندے پر رسوائی ڈانٹ ڈپٹ مار اور شرمندگی اس قدر ڈالی جائے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر کے اسے قائل معقول کیا جائے گا کہ وہ چاہے گا کہ کاش مجھے جہنم میں ہی ڈال دیا جاتا۔[مستدرک حاکم:577/4:ضعیف جداً] ۱؎ [ابو یعلیٰ] اس حدیث کی سند بھی غریب ہے۔
صحیح بخاری میں یہ روایت دوسری جگہ بھی ہے کہ بسترے کے عرض میں تو میں سویا اور لمبائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا لیٹیں آدھی رات کے قریب کچھ پہلے یا کچھ بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ان دس آیتوں کی تلاوت کی پھر ایک لٹکی ہوئی مشک میں سے پانی لے کر بہت اچھی طرح کامل وضو کیا میں بھی آپ کی بائیں جانب آپ کی اقتدار میں نماز کیلئے کھڑا ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرے کان کو پکڑ کر مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا اور دو دو رکعت کر کے چھ مرتبہ یعنی بارہ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا اور لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن نے آ کر نماز کی اطلاع کی آپ نے کھڑے ہو کر دو ہلکی رکعتیں ادا کیں اور باہر آ کر صبح کی نماز پڑھائی۔[صحیح بخاری:4571] ۱؎
اور روایت میں ہے کہ آیتوں کی تلاوت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَمِنْ وَاجْعَلْ مِنْ بَيْنَ يَدَيَّ نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا یوم القیامتہ» [طبرانی کبیر:12349/12:ضعیف] ۱؎ [ابن مردویہ] یہ دعا بعض صحیح طریق سے بھی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:6316] ۱؎
ابن مردویہ کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ آل عمران کے آخر کی دس آیتیں ہر رات کو پڑھتے اس روایت میں مظاہر بن اسلم ضعیف ہیں۔[الدار المنشور للسیوطی:204/2:ضعیف] ۱؎
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى: {إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب}، وفي ضمن ذلك حث العباد على التفكر فيها والتبصر بآياتها وتدبر خلقها. وأبهم قوله: {آيات}، ولم يقل على المطلب الفلاني إشارة لكثرتها وعمومها، وذلك لأن فيها من الآيات العجيبة ما يُبِهر الناظرين ويقنع المتفكرين ويجذب أفئدة الصادقين وينبه العقول النيرة على جميع المطالب الإلهية، فأما تفصيل ما اشتملت عليه فلا يمكِّن مخلوقاً أن يحصره ويحيط ببعضه، وفي الجملة فما فيها من العظمة والسعة وانتظام السير والحركة يدل على عظمة خالقها وعظمة سلطانه وشمول قدرته، وما فيها من الإحكام والإتقان وبديع الصنع ولطائف الفعل يدل على حكمة الله ووضعه الأشياء مواضعها وسعة علمه، وما فيها من المنافع للخلق يدل على سعة رحمة الله وعموم فضله وشمول بره ووجوب شكره، وكل ذلك يدل على تعلق القلب بخالقها ومبدعها وبذل الجهد في مرضاته، وأن لا يشرك به سواه ممن لا يملك لنفسه ولا لغيره مثقال ذرة في الأرض ولا في السماء، وخص الله بالآيات أولي الألباب وهم أهل العقول لأنهم هم المنتفعون بها الناظرون إليها بعقولهم لا بأبصارهم.