ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 177

اِنَّ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الۡکُفۡرَ بِالۡاِیۡمَانِ لَنۡ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیۡئًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۷﴾
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کو ایمان کے بدلے خریدا، وہ ہر گز اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچائیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ En
جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا
En
کفر کو ایمان کے بدلے خریدنے والے ہرگز ہرگز اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ان ہی کے لئے المناک عذاب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 177)یعنی یہ لوگ ایمان کے بجائے کفر اختیارکر کے خود اپنا برا کر رہے ہیں، اس کے نتیجہ میں دردناک عذاب سے دو چار ہوں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

177۔ جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر کو خریدا ہے یہ اللہ (کے دین) کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لیے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لیے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لیے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55]‏‏‏‏، یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے؟ نہیں بلکہ وہ بے شعور ہیں اور فرمایا «فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ» [68-القلم:44]‏‏‏‏، یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔
اور ارشاد ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [9-التوبة:85]‏‏‏‏، یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑ جانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی
پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے؟ اور اس کا دشمن کون ہے؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہو جائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7]‏‏‏‏ ۱؎ جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بے صبری اور مخالفت، تکذیب اور ناموافقت، انکار اور خیانت صاف ظاہر ہو گئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کر دی۔[تفسیر ابن جریر الطبری:424/7]‏‏‏‏۱؎ سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں؟ اس پر آیت «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» [3-آل عمران:179]‏‏‏‏ نازل ہوئی [ابن جریر]‏‏‏‏۔
پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کر لیتا ہے، جیسے فرمان ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا» [72-الجن:26]‏‏‏‏ اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کر لے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔
پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔
خزانہ اور کوڑھی سانپ ٭٭
پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لیے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔
صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ» [3-آل عمران:180]‏‏‏‏ کی تلاوت فرمائی۔[صحیح بخاری:4565]‏‏‏‏۱؎
مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔[سنن ترمذي:3012،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ۱؎ مسند ابو یعلیٰ میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی،[مستدرک حاکم:388/1:جید الاسناد]‏‏‏‏ ۱؎
طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لیے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا،[تفسیر ابن جریر الطبری:8284:حسن بالشواھد]‏‏‏‏ ۱؎
دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہو گی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا [تفسیر ابن جریر الطبری:8281:موقوف صحیح]‏‏‏‏ ۱؎ [ابن جریر]‏‏‏‏
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر کو چن لیا پھر اس کفر میں اس شخص کی مانند رغبت کرنے لگے جو کسی محبوب مال تجارت کو خریدنے کے لیے اپنا محبوب مال خرچ کرتا ہے۔ فرمایا ﴿ لَ٘نْ یَّضُ٘رُّوا اللّٰهَ شَیْـًٔـا وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتے۔ بلکہ ان کے فعل کا نقصان خود ان کی ذات کو پہنچتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے وہ اللہ تعالیٰ کو کیسے نقصان پہنچا سکتے ہیں وہ ایمان سے دور بھاگتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر میں پوری طرح راغب رہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے لیے ان کفار کے سوا اپنے نیک اور پاک بندوں کو مقرر کر رکھا ہے اور اپنے دین کی مدد اور نصرت کے لیے اپنے پسندیدہ بندوں میں سے اصحاب عقل و بصیرت اور بڑے بڑے ذہین لوگوں کو تیار کر رکھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ قُ٘لْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖ٘ۤ اِذَا یُتْ٘لٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا (بنی اسرائیل: 17؍107) کہہ دیجیے کہ تم اس قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن کو اس سے پہلے علم دیا گیا جب یہ ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أخبر أن الذين اختاروا الكفر على الإيمان ورغبوا فيه رَغْبَةَ مَنْ بذلَ ما يحب من المال في شراء ما يحب من السلع {لن يضروا الله شيئاً}، بل ضرر فعلهم يعود على أنفسهم، ولهذا قال: {ولهم عذاب أليم}، وكيف يضرون الله شيئاً؟! وهم قد زهدوا أشد الزهد في الإيمان ورغبوا كل الرغبة بالكفر بالرحمن فالله غني عنهم، وقد قيض لدينه من عباده الأبرار الأزكياء سواهم وأعد له ممن ارتضاه لنصرته أهل البصائر والعقول، وذوي الألباب من الرجال الفحول، قال الله تعالى: {قل آمنوا به أو لا تؤمنوا إن الذين أوتوا العلم من قبله إذا يتلى عليهم يخرون للأذقان سجداً ... } الآيات.