تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہو جائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے۔
سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں؟ لوگو کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بنو سلمہ کے بھائی ہر چند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو، اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنا دیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آ گئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مددگار ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔[تفسیر ابن جریر الطبری:8192] ۱؎
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أخبر أن ما أصابهم يوم التقى الجمعان: جمعُ المسلمين وجمعُ المشركين في أحد من القتل والهزيمة، أنه بإذنه وقضائه وقدره، لا مرد له ولا بد من وقوعه، والأمر القدري إذا نفذ لم يبق إلا التسليم له وأنه قدَّره لحكم عظيمة وفوائد جسيمة، وأنه ليتبين بذلك المؤمن من المنافق الذين لما أمروا بالقتال {وقيل لهم تعالوا قاتلوا في سبيل الله}؛ أي: ذبًّا عن دين الله وحماية له وطلباً لمرضاة الله، {أو ادفعوا} عن محارمكم وبلدكم إن لم يكن لكم نية صالحة، فأبوا ذلك واعتذروا بأن: {قالوا لو نعلم قتالاً لاتبعناكم}؛ أي: لو نعلم أنكم يصير بينكم وبينهم قتال لاتبعناكم، وهم كذبة في هذا، قد علموا وتيقنوا، وعلم كل أحد أن هؤلاء المشركين قد مُلئوا من الحنق والغيظ على المؤمنين بما أصابوا منهم، وأنهم قد بذلوا أموالهم وجمعوا ما يقدرون عليه من الرجال والعدد، وأقبلوا في جيش عظيم قاصدين المؤمنين في بلدهم متحرقين على قتالهم، فمن كانت هذه حالهم كيف يتصور أنه لا يصير بينهم وبين المؤمنين قتال؟
خصوصاً وقد خرج المسلمون من المدينة وبرزوا لهم، هذا من المستحيل، ولكن المنافقين ظنوا أن هذا العذر يروج على المؤمنين، قال تعالى: {هم للكفر يومئذ}؛ أي: في تلك الحال التي تركوا فيها الخروج مع المؤمنين {أقرب منهم للإيمان، يقولون بأفواههم ما ليس في قلوبهم}، وهذه خاصة المنافقين يظهرون بكلامهم وفعالهم ما يبطنون ضده في قلوبهم وسرائرهم، ومنه قولهم: {لو نعلم قتالاً لاتبعناكم}، فإنهم قد علموا وقوع القتال. ويستدل بهذه الآية على قاعدة ارتكاب أخف المفسدتين، لدفع أعلاهما وفعل أدنى المصلحتين للعجز عن أعلاهما، لأن المنافقين أُمروا أن يقاتلوا للدين، فإن لم يفعلوا فللمدافعة عن العيال والأوطان {والله أعلم بما يكتمون}، فيبديه لعباده المؤمنين، ويعاقبهم عليه.