ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 164

لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۶۴﴾
بلاشبہ یقینا اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا جب اس نے ان میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان پر اس کی آیات پڑھتا اور انھیں پاک کرتا اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔ En
خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے
En
بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 164) ➊ {لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ …:} اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے اور انسانوں ہی میں سے ہونے کو ایک احسان کے طور پر بیان کر رہا ہے اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان اور لہجے ہی میں اللہ کا پیغام پہنچائے گا، جسے سمجھنا ہر شخص کے لیے آسان ہو گا، دوسرے لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور اس سے قریب ہوں گے اور تیسرے انسان کے لیے انسان، یعنی بشر کی پیروی تو ممکن ہے، لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں، نہ فرشتوں میں وہ کمزوریاں اور ضرورتیں پائی جاتی ہیں جو انسان میں ہیں اور نہ فرشتہ انسان کے وجدان و شعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کر سکتا ہے۔ اس لیے اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو وہ ان ساری ضروریات سے محروم ہوتے جو تبلیغ و دعوت کے لیے لازمی ہیں، اس لیے جتنے انبیاء بھی آئے سب کے سب بشر ہی تھے۔ قرآن مجید نے ان کی بشریت کو خوب کھول کر بیان کیا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۹)، سورۂ فرقان (۲۰)، سورۂ حم السجدہ (۶) اور سورۂ کہف کی آخری آیت۔
➋ اوپر کی آیت میں جب یہ بیان فرما دیا کہ غلول اور خیانت ایک نبی کی شان سے بعید ہے، نبوت و خیانت جمع نہیں ہو سکتے، تو اب اس آیت میں اسی کی مزید تاکید فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک پاکیزہ اور اعلیٰ نصب العین دے کر مبعوث کیا گیا ہے، جو یہ ہے کہ تم پر اس کی آیات پڑھے، تمھیں کتاب و حکمت (سنت) کی تعلیم دے اور رذائل سے پاک کرے، پھر ایسی پاکیزہ ہستی کی طرف، جو اتنے عظیم مقصد کے حصول کی خاطر مبعوث ہوئی ہو، کوئی عقل مند آدمی غلول کی نسبت کیسے کر سکتا ہے، یا کسی کے دل میں یہ خیال کیسے آسکتا ہے کہ آپ خیانت جیسے کبیرہ اور مذموم فعل کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں اس گناہ کو کبیرہ قرار دیا ہے، حتیٰ کہ ابن لتبیہ والی حدیث میں حکام کے ہدیوں (تحائف) کو بھی غلول شمار کیا۔ [بخاری، الحیل، باب احتیال العامل…: ۶۹۷۹] { وَ اِنْ كَانُوْا } یہ اصل میں { وَ اِنَّهُمْ كَانُوْا } تھا، دلیل اس کی {لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ} پر لام تاکید کا آنا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

164۔ 1 نبی کے بشر اور انسانوں میں سے ہی ہونے کو اللہ تعالیٰ ایک احسان کے طور پر بیان کر رہا ہے اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان اور لہجے میں ہی اللہ کا پیغام پہنچائے گا جسے سمجھنا ہر شخص کے لئے آسان ہوگا دوسرے لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور قریب ہونگے۔ تیسرے انسان کے لئے انسان یعنی بشر کی پیروی تو ممکن ہے لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں اور نہ فرشتہ انسان کے وجدان و شعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کرسکتا ہے۔ اس لئے اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو وہ ان ساری خوبیوں سے محروم ہوتے جو تبلیغ و دعوت کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اس لئے جتنے بھی انبیاء آئے ہیں سب کے سب بشر ہی تھے۔ قرآن نے ان کی بشریت کو خوب کھول کر بیان کیا ہے۔ (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى) 12:19 ' ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے وہ مرد تھے جن پر ہم وحی کرتے تھے۔ (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ) (25:20" ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے سب کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے تھے "۔ اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے کہلوایا گیا (قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ) (حٰم السجدۃ:6) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے میں بھی تو تمہاری طرح ٖصرف بشر ہی ہوں البتہ مجھ پر وحی کا نزول ہوتا ہے "۔ آج بہت سے افراد اس چیز کو نہیں سمجھتے اور انحراف کا شکار ہیں۔ 164۔ 2 اس آیت میں نبوت کے تین اہم مقاصد بیان کئے گئے ہیں 1۔ تلاوت 2۔ تزکیہ 3۔ تعلیم کتاب و حکمت تعلیم کتاب میں تلاوت از خود آجاتی ہے، تلاوت کی ساتھ ہی تعلیم ممکن ہے، تلاوت کے بغیر تعلیم کا تصور ہی نہیں، اس کے باوجود تلاوت کو الگ ایک مقصد کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے اس نقطے کی وضاحت مقصود ہے کہ تلاوت بجائے خود ایک مقدس اور اور نیک عمل ہے، چاہے پڑھنے والا اس کا مفہوم سمجھے نہ سمجھے۔ قرآن کے معنی و مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرنا یقینا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ لیکن جب تک یہ مقصد حاصل نہ ہو یا اتنی فہم استعداد بہم نہ پہنچ جائے، تلاوت قرآن سے اعراض یا غفلت جائز نہیں۔ تزکیے سے مراد عقائد اور اعمال و اخلاق کی اصلاح ہے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شرک سے ہٹا کر توحید پر لگایا اسی طرح نہایت بد اخلاق اور بد اطوار قوم کو اخلاق اور کردار کی رفعتوں سے ہمکنار کردیا، حکمت سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک حدیث ہے۔ 164۔ 2 یہ ان مخففۃ من المثقلۃ ہے یعنی (انّ) (تحقیق، یقینا بلاشبہ) کے معنی ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

164۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بہت بڑا احسان [158۔ 1] کیا ہے کہ ان کے درمیان [159] انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو ان پر اللہ کی آیات پڑھتا، ان (کی زندگیوں) کو سنوارتا اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم [160] دیتا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے
[158۔ 1] «منّ» کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے (1) احسان کرنا، (2) احسان جتلانا، (3) کاٹنا اور کٹنا اور جب یہ لفظ احسان کرنے کے معنی میں آئے تو اس سے مراد کوئی بہت بڑا احسان ہوتا ہے۔ اور وہ بہت بڑا احسان وحی الٰہی اور اس کی روشنی ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے اللہ تعالیٰ نے انسان کو آنکھیں اور بصارت عطا فرمائی ہے۔ لیکن جب تک کوئی خارجی روشنی نہ ہو۔ مثلاً سورج، چاند، ستاروں یا چراغ اور قمقموں کی روشنی نہ ہو، آنکھ کی بصارت کام نہیں دیتی۔ وہ اندھیرے میں بھی کام تو کرتی ہے مگر بہت کم اور انسان بھٹکتا اور ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ بعینہ اللہ تعالیٰ نے سمجھنے سوچنے کے لیے انسان کو عقل عطا فرمائی ہے۔ لیکن کائنات اور انسان کی طبعی زندگی اور ما بعد الطبیعات کے بہت سے مسائل ایسے ہیں جہاں اکیلی عقل کام نہیں کر سکتی جب تک اسے کوئی خارجی روشنی نہ ملے۔ اگر اس خارجی روشنی کے بغیر عقل کچھ کام کرے گی بھی تو بھٹکتی اور ٹھوکریں کھاتی پھرے گی اور فلاسفر قسم کے لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے اور عقل کے لیے خارجی روشنی وحی الٰہی ہے۔ وحی الٰہی کی روشنی میں عقل جو کام کرے گی وہ درست اور قابل اعتماد ہو سکتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کا لوگوں کو انبیاء اور وحی کے ذریعہ ہر چیز کی حقیقت اور ماہیت سے خبردار کر دینا لوگوں پر بہت بڑا احسان ہے ورنہ محض عقل کے بل بوتے پر صراط مستقیم کو تلاش کر لینا عقل محدود کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ اور بعض مفسرین نے اس آیت کو سابقہ آیت سے متعلق کر کے ﴿اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَان اللّٰهِ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات لی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے تابع ہوتا ہے۔ جب کہ خیانت کرنے والا اللہ کی ناراضگی حاصل کر کے جہنم میں اپنا ٹھکانا بناتا ہے اور یہ دونوں کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے نقیض ہیں۔
[159] رسول بشر کیوں ہوتا ہے؟ یعنی وہ رسول بنی نوع انسان سے ہے۔ عربی ہے اور قریشی ہے۔ قریش کے لہجہ میں عربی بولتا ہے۔ تاکہ عرب لوگ اس کی بات کو سمجھ سکیں۔ وہ نہ فرشتوں کی نوع سے ہے نہ جنوں کی نوع سے تاکہ کوئی شخص اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے سے بچنے کی خاطر یہ نہ کہہ سکے کہ آپ تو مافوق البشر تھے۔ ہم انسان بھلا ان کی اتباع کیسے کر سکتے ہیں۔
[160] انبیاء کی بعثت کے مقاصد:۔
یہ آیت قرآن میں الفاظ کی تقدیم و تاخیر کے ساتھ متعدد مقامات پر آئی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی اور اسی طرح دوسرے انبیاء کی بعثت کے مندرجہ ذیل چار مقاصد ہیں۔
1۔ اللہ کی کتاب جوں جوں نازل ہو وہ لوگوں کو پڑھ کر سنائے۔ تاکہ وہ بھی ان آیات کو سینوں میں اور مصاحف میں محفوظ کر سکیں۔
2۔ اپنے پیرو کاروں کا تزکیۂ نفس کرے۔ ان کے اعمال و افعال پر نظر رکھے۔ اور جہاں کہیں کوئی کمی، کو تاہی، یا غلطی نظر آئے، انہیں متنبہ کرے اور ان کی اصلاح کرتے ہوئے ان کی تربیت کرے۔
3۔ کتاب اللہ کی تعلیم دے یا سکھلائے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کتاب اللہ کو پڑھ کر سنا دینا اور بات ہے اور اس کی تعلیم دینا اور بات ہے۔ تعلیم دینے سے مراد یہ ہے کہ اس کے معانی کی تشریح و تفسیر بھی بتلائے۔ صحابہ کرامؓ کی زبان اگرچہ عربی ہی تھی۔ مگر بارہا ایسا ہوا کہ انہیں مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی تو آپ نے انہیں صحیح مفہوم سے آگاہ کیا اور بعض دفعہ خود بھی پوچھ لیا کرتے تھے۔
4۔ کتاب کے ساتھ انہیں حکمت بھی سکھلائے، حکمت بھی دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک نظری دوسرے عملی، یعنی انہیں آیات اللہ کے اسرار و رموز سے بھی آگاہ کرے اور احکام الٰہی کو عمل میں لانے کا طریقہ یا طریقے بھی بتلائے اور خود کر کے دکھلائے۔ بالفاظ دیگر حکمت سے سنت بھی مراد لی جا سکتی ہے۔
اہل قرآن اور منکرین حدیث کا رد:۔
گویا اس آیت میں اس فرقہ کا پورا پورا رد ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت (معاذ اللہ) محض ایک چٹھی رساں کی تھی۔ جن پر کتاب نازل ہوئی۔ انہوں نے وہ کتاب امت تک پہنچا دی اور ان کا کام ختم ہوا۔ رہا اس کتاب پر عمل پیرا ہونا تو یہ کام ہر دور میں اس دور کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ سنت یا حدیث کی حیثیت محض اس دور کی تاریخ کی ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اپنے دور میں قرآنی احکام پر کیسے عمل کیا تھا۔ گویا ان کے نزدیک نہ حدیث حجت شرعیہ ہے اور نہ ہی اتباع یا اطاعت رسول دین کا لازمی حصہ ہے۔ ان کے خیال میں اطاعت رسول کا فریضہ صرف آپ کی زندگی تک ہی تھا۔ جبکہ اس آیت کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ محض رسول ہی نہیں بلکہ معلم، مفسر، مزکی اور کتاب اللہ کے ہر حکم کا طریق کار بتلانے والے بھی ہیں اور چونکہ آپ مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ اور خاتم النبیین بھی ہیں۔ لہٰذا آپ کا ایک ایک قول اور فعل قیامت تک مسلمانوں کے لیے واجب الاتباع ہے۔ رہے زمانہ کے تقاضے تو در اصل یہی عقل کا میدان ہے کہ انسان کتاب و سنت کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کا حل اس انداز سے تلاش کرے اور ایسی تدابیر اختیار کرے جس سے کتاب و سنت کی نص یا اصل پر زد نہ پڑتی ہو اور عقل کی اسی کاوش کا نام قیاس اور اجتہاد ہے۔ جس کا دروازہ تا قیام قیامت کھلا ہوا ہے۔ دور حاضر کے تقاضوں کے بہانے یا جدید نظریات سے مرعوب ہو کر سنت سے یا قرآن کی دور از کار تاویلات کسی مسلمان کا کام نہیں ہو سکتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔