تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[151] ایسے خیالات کہ اگر وہ فلاں سفر یا جہاد پر نہ جاتا تو شاید بچ رہتا۔ محض حسرت ہی حسرت ہے۔ ورنہ جو اللہ گھر میں زندہ رکھتا ہے جہاد میں بھی رکھ سکتا ہے اور جو جہاد میں مار سکتا ہے وہ گھر میں بھی مار سکتا ہے۔ زندہ رکھنا اور مارنا سب اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس کے علم میں ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و رحمت کا ذریعہ ہے اور یہ قطعاً دنیا و مافیہا سے بہتر ہے کیونکہ یہ فانی ہے اور وہ باقی اور ابدی ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ خواہ کسی طرح دنیا چھوڑو مر کر یا قتل ہو کر لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے پھر اپنے اعمال کا بدلہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے برا ہو تو بھلا ہو تو۔!
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ينهى تعالى عباده المؤمنين أن يشابهوا الكافرين، الذين لا يؤمنون بربهم ولا بقضائه وقدره من المنافقين وغيرهم، ينهاهم عن مشابهتهم في كل شيء وفي هذا الأمر الخاص وهم أنهم يقولون لإخوانهم في الدين أو في النسب {إذا ضربوا في الأرض}؛ أي: سافروا للتجارة {أو كانوا غزًّى}؛ أي: غزاة ثم جرى عليهم قتل أو موت يعارضون القدر ويقولون: {لو كانوا عندنا ما ماتوا وما قُتلوا} وهذا كذب منهم، فقد قال تعالى: {قل لو كنتم في بيوتكم لبرز الذين كتب عليهم القتل إلى مضاجعهم}، ولكن هذا التكذيب لم يفدهم، إلا أن الله يجعل هذا القول وهذه العقيدة حسرة في قلوبهم، فتزداد مصيبتهم، وأما المؤمنون فإنهم يعلمون أن ذلك بقدر الله فيؤمنون ويسلمون فيهدي الله قلوبهم ويثبتها ويخفف بذلك عنهم المصيبة، قال الله ردًّا عليهم: {والله يحيي ويُميت}؛ أي: هو المتفرد بذلك فلا يغني حذر عن قدر، {والله بما تعملون بصير}؛ فيجازيكم بأعمالكم وتكذيبكم.