تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے جو {” اَلسُّنْح “} میں تھا، گھوڑے پر تشریف لائے، وہ گھوڑے سے اتر کر مسجد میں آ گئے، لوگوں سے انھوں نے کوئی بات نہ کی، بلکہ سیدھے عائشہ(رضی اللہ عنہا) کے ہاں چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قصد کیا، اس وقت آپ یمنی دھاری دار چادر سے ڈھانپے ہوئے تھے۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹایا، پھر آپ پر جھک کر آپ کو بوسہ دیا، پھر رو پڑے اور کہنے لگے: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان! اے اللہ کے نبی! اللہ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا، جو موت آپ پر لکھی گئی تھی، وہ آپ فوت ہو چکے۔“ ابو سلمہ کہتے ہیں، مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نکلے، عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے، تو فرمایا: ”بیٹھ جا ؤ۔“ انھوں نے نہ مانا، پھر فرمایا: ”بیٹھ جا ؤ۔“ وہ پھر بھی نہ مانے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا، اب لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اما بعد! تم میں سے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو بے شک اللہ زندہ ہے، کبھی فوت نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ» یہ مکمل آیت تلاوت کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اللہ کی قسم! ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ لوگ جانتے ہی نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے، یہاں تک کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی تو لوگوں نے اسے ان سے لے لیا تو جسے سنو یہی آیت پڑھ رہا تھا۔“ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے جب اس آیت کی تلاوت سنی تو میں کھڑے کا کھڑا رہ گیا، میرے پا ؤ ں مجھے اٹھا نہیں رہے تھے، یہاں تک کہ میں گر گیا۔“ [بخاری، المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ: ۴۴۵۲، ۴۴۵۳، ۴۴۵۴]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ .....الشّٰكِرِيْنَ ﴾
تک۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا گویا لوگوں کو پتا نہیں تھا کہ اللہ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی ہے۔ جب تک حضرت ابو بکر صدیقؓ نے یہ آیت نہ پڑھی پھر ابو بکر صدیقؓ سے لوگوں نے یہ آیت سیکھی۔ پھر جسے دیکھو وہ یہی آیت پڑھ رہا تھا اور خود حضرت عمرؓ کہتے ہیں۔ اللہ کی قسم! مجھے یوں معلوم ہوا کہ میں نے یہ آیت ابو بکر صدیقؓ کی تلاوت کرنے سے پہلے سنی ہی نہ تھی اور جب سنی تو سہم گیا۔ دہشت کے مارے میرے پاؤں نہیں اٹھ رہے تھے میں زمین پر گر گیا اور جب میں نے ابو بکر صدیقؓ کو یہ آیت پڑھتے سنا تب معلوم ہوا کہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔
[بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی]
پھر اس بات پر بھی غور فرمائیے کہ یہ آیت غزوہ احد کے موقعہ پر نازل ہوئی تھی اور حضرت عمرؓ نے اور اسی طرح دوسرے صحابہ کرامؓ نے اسے سینکڑوں بار پڑھا بھی ہو گا۔ لیکن اس آیت کی صحیح سمجھ انہیں اس وقت آئی جب فی الواقع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ اس سے پہلے نہیں آئی اور یہی مفہوم ہے اللہ تعالیٰ کے قول:
﴿وَلَمَّا يَاْتِهِمْ تَاْوِيْلُهٗ﴾
کا۔ نیز اس سے لفظ تاویل کا صحیح مفہوم بھی سمجھا سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنا کام کر گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہو جاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری۔[دلائل النبوۃ للبیهقی:248/3] ۱؎
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی خبر سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے عائشہ کے گھر پر آئے یہاں حضور علیہ السلام پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونہ چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آ چکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہو جاؤ۔
سیدنا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر۔ اللہ کی قسم اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر آپ شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہو گا۔[مستدرک حاکم:126/3:ضعیف] ۱؎
اور جگہ ہے «مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء: 19-18] جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ اس میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا بدلہ دے دیتے ہیں۔
ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کر سکی پھر تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہو گئے «ربیون» کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ[تفسیر ابن جریر الطبری:266/7] ۱؎۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل}؛ أي: ليس ببدع من الرسل، بل هو من جنس الرسل الذين قبله، وظيفتهم تبليغ رسالة ربهم وتنفيذ أوامره ليسوا بمخلدين، وليس بقاؤهم شرطاً في امتثال أوامر الله، بل الواجب على الأمم عبادة ربهم في كل وقت وبكل حال، ولهذا قال: {أفإن مات أو قُتل انقلبتم على أعقابكم}؛ بترك ما جاءكم به من إيمان أو جهاد أو غير ذلك، قال الله تعالى: {ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئاً}، إنما يضر نفسه، وإلا فالله تعالى غني عنه، وسيقيم دينه، ويعز عباده المؤمنين.
فلما وبخ تعالى من انقلب على عقبيه، مدح من ثبت مع رسوله، وامتثل أمر ربه فقال: {وسيجزي الله الشاكرين}، والشكر لا يكون إلا بالقيام بعبودية الله تعالى في كل حال. وفي هذه الآية الكريمة إرشاد من الله تعالى لعباده أن يكونوا بحالة لا يزعزعهم عن إيمانهم أو عن بعض لوازمه فَقْدُ رئيس ولو عظم، وما ذاك إلا بالاستعداد في كل أمر من أمور الدين بعدة أناس من أهل الكفاءة فيه إذا فُقِدَ أحدُهم قام به غيره، وأن يكون عموم المؤمنين قصدهم إقامة دين الله والجهاد عنه بحسب الإمكان، لا يكون لهم قصد في رئيس دون رئيس، فبهذه الحال يستتب لهم أمرهم، وتستقيم أمورهم.
وفي هذه الآية أيضاً أعظم دليل على فضيلة الصديق الأكبر أبي بكر وأصحابه الذين قاتلوا المرتدين بعد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لأنهم هم سادات الشاكرين.