ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّنۡقَلِبۡ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ وَ سَیَجۡزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾
اور نہیں ہے محمد مگر ایک رسول، بے شک اس سے پہلے کئی رسول گزر چکے تو کیا اگر وہ فوت ہو جائے، یا قتل کر دیا جائے تو تم اپنی ایڑیوں پر پھر جائو گے اور جو اپنی ایڑیوں پر پھر جائے تو وہ اللہ کو ہرگز کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اللہ شکر کرنے والوں کو جلد جزا دے گا۔ En
اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ؟ (یعنی مرتد ہو جاؤ؟) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہ کر سکے گا اور خدا شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا
En
(حضرت) محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ صرف رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے ہیں، کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا یہ شہید ہو جائیں، تو تم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو ہرگز اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا، عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 144) ➊ {وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ:} جنگ احد میں بعض صحابہ نے تو مرتبۂ شہادت حاصل کر لیا اور بعض میدان چھوڑ کر فرار ہونے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی زخمی ہو گئے اور کسی شیطان نے آپ کی شہادت کی افواہ پھیلا دی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل اس افواہ سے ٹوٹ گئے اور وہ ہمت ہار بیٹھے اور منافقین نے طعن و تشنیع کے نشتر چبھونے شروع کر دیے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہوتے تو قتل کیوں ہوتے؟! اس پر یہ آیات اتریں: «وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ» ‏‏‏‏ نہیں ہے محمد مگر ایک رسول۔ اس میں قصرِ قلب ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تم نے جو سمجھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہیں، یا اللہ تعالیٰ کے اختیارات کے مالک ہیں، ایسا نہیں، وہ محض اللہ کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔ وہ قتل بھی ہو سکتے ہیں، فوت بھی ہو سکتے ہیں اور ان سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں۔ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل ہونے یا طبعی موت مر جانے سے تم اللہ کا دین چھوڑ بیٹھو گے؟ تمھیں چاہیے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہو۔ (ابن کثیر، قرطبی) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:اور اشارتاً یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر بعض لوگ پھر جائیں گے۔ اسی طرح ہوا کہ بہت سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرتد ہوئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو پھر مسلمان کیا اور بعضوں کو مارا۔ (موضح)
➋ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے جو { اَلسُّنْح } میں تھا، گھوڑے پر تشریف لائے، وہ گھوڑے سے اتر کر مسجد میں آ گئے، لوگوں سے انھوں نے کوئی بات نہ کی، بلکہ سیدھے عائشہ(رضی اللہ عنہا) کے ہاں چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قصد کیا، اس وقت آپ یمنی دھاری دار چادر سے ڈھانپے ہوئے تھے۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹایا، پھر آپ پر جھک کر آپ کو بوسہ دیا، پھر رو پڑے اور کہنے لگے: میرے ماں باپ آپ پر قربان! اے اللہ کے نبی! اللہ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا، جو موت آپ پر لکھی گئی تھی، وہ آپ فوت ہو چکے۔ ابو سلمہ کہتے ہیں، مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نکلے، عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے، تو فرمایا: بیٹھ جا ؤ۔ انھوں نے نہ مانا، پھر فرمایا: بیٹھ جا ؤ۔ وہ پھر بھی نہ مانے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا، اب لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اما بعد! تم میں سے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو بے شک اللہ زندہ ہے، کبھی فوت نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ» ‏‏‏‏ یہ مکمل آیت تلاوت کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ لوگ جانتے ہی نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے، یہاں تک کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی تو لوگوں نے اسے ان سے لے لیا تو جسے سنو یہی آیت پڑھ رہا تھا۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے جب اس آیت کی تلاوت سنی تو میں کھڑے کا کھڑا رہ گیا، میرے پا ؤ ں مجھے اٹھا نہیں رہے تھے، یہاں تک کہ میں گر گیا۔ [بخاری، المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ: ۴۴۵۲، ۴۴۵۳، ۴۴۵۴]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

144۔ 1 محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف رسول ہی ہیں ' یعنی ان کا امتیاز بھی وصف رسالت ہی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ بشری خصائص سے بالاتر اور خدائی صفات سے متصف ہوں کہ انہیں موت سے دو چار نہ ہونا پڑے 144۔ 2 جنگ احد میں شکست کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کافروں نے یہ افواہ اڑا دی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل کردیئے گئے۔ مسلمانوں میں جب یہ خبر پھیلی تو اس سے بعض مسلمانوں کے حوصلے پست ہوگئے اور لڑائی سے پیچھے ہٹ گئے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کافروں کے ہاتھوں قتل ہوجانا یا ان پر موت کا وارد ہوجانا، کوئی نئی بات تو نہیں ہے۔ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) بھی قتل اور موت سے ہمکنار ہوچکے ہیں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی (بالفرض) اس سے دو چار ہوجائیں تو کیا تم اس دین سے ہی پھر جاؤ گے۔ یاد رکھو جو پھرجائے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا، اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سانحہ وفات کے وقت جب حضرت عمر ؓ شدت جذبات میں وفات نبوی کا انکار کر رہے تھے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے نہایت حکمت سے کام لیتے ہوئے منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہو کر انہی آیات کی تلاوت کی جس سے حضرت عمر ؓ بھی متاثر ہوئے اور انہیں محسوس ہوا کہ یہ آیات ابھی ابھی اتری ہیں۔ 144۔ 3 یعنی ثابت قدم رہنے والوں کو جنہوں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کر کے اللہ کی نعمتوں کا عملی شکر ادا کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

144۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک رسول ہی ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ اگر وہ وفات پا جائیں یا شہید ہو جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں [131] پھر جاؤ گے؟ (اسلام چھوڑ دو گے؟) اور اگر کوئی الٹے پاؤں پھر بھی جائے تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اور شکر گزاروں کو اللہ تعالیٰ جلد ہی اچھا بدلہ عطا کرے گا
[131] میدان احد کے معرکہ کے حالات:۔
جب حضرت عبد اللہ بن جبیر کے ساتھی درہ چھوڑ کر لوٹ مار میں لگ گئے تو خالد بن ولید (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار کے ایک دستہ کی کمان کر رہے تھے) پہاڑی کا چکر کاٹ کر اسی درہ سے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ سو سوار ان کے ہمراہ تھے۔ ادھر حضرت عبد اللہؓ کے ساتھ صرف بارہ آدمی رہ گئے تھے۔ دس بارہ تیر انداز بھلا سو سواروں کی یلغار کو کیسے روک سکتے تھے۔ انہوں نے مقابلہ تو بڑی بے جگری سے کیا مگر سب شہید ہو گئے۔ مسلمان مجاہدین اپنے عقب یعنی درہ کی طرف سے مطمئن تھے کہ اچانک مشرکین کا یہ رسالہ ان کے سروں پر جا پہنچا اور سامنے سے مشرکوں کی جو فوج بھاگ کھڑی ہوئی تھی وہ بھی پیچھے پلٹ آئی اور مسلمان دونوں طرف سے گھر گئے۔ بہت زور کا رن پڑا اور بہت سے مسلمان شہید اور زخمی ہوئے۔
عارضی شکست کا سبب اور رسول اللہ کی وفات کی افواہ پر مسلمانوں کی بے قراری:۔
اسی دوران ابن قیہ نے ایک بھاری پتھر آپ پر پھینکا جس سے آپ کا سامنے کا دانت بھی ٹوٹ گیا اور چہرہ مبارک بھی زخمی ہوا۔ اس ضرب کی شدت سے آپ بے ہوش ہو کر گر پڑے اور ابن قمیۂ یا کسی اور نے دور سے پکارا ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے‘ یہ سنتے ہی مسلمانوں کے اوسان خطا ہو گئے اور پاؤں اکھڑ گئے بعض مسلمان جنگ چھوڑ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے۔ اب لڑنے کا کیا فائدہ ہے اور بعض کمزور دل مسلمانوں کو یہ خیال آیا کہ جا کر مشرکوں کے سردار ابو سفیان سے امان حاصل کر لیں اور اس بدحواسی کے عالم میں بعض یہ بھی سوچنے لگے کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل ہو گئے تو ہمیں اپنے پہلے دین میں واپس چلے جانا چاہئے۔ یہی وہ وقت تھا جب منافقوں نے یوں زبان درازی شروع کر دی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر اللہ کے رسول ہوتے تو مارے نہ جاتے۔ اس وقت حضرت انس بن مالکؓ کے چچا انس بن نضرؓ نے کہا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل ہو گئے تو رب محمد قتل نہیں ہوئے۔ آپ کے بعد تمہارا زندہ رہنا کس کام کا؟ جس بات پر آپ نے جان دی ہے اسی پر تم بھی اپنی جان دے دو اور کٹ مرو۔ یہ کہہ کر آپ کافروں میں گھس گئے اور بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے آخر شہید ہو گئے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آ گیا تو آپ نے آواز دی: «الي عباد الله انا رسول الله» (اللہ کے بندو! ادھر آؤ میں اللہ کا رسول ہوں) اور کعب بن مالکؓ آپ کو پہچان کر چلائے۔ مسلمانو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں موجود ہیں۔ چنانچہ مسلمان آپ کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے۔ تیس کے قریب صحابہؓ نے آپ کے قریب ہو کر دفاع کیا اور مشرکوں کی فوج کو منتشر کر دیا۔ اس موقع پر سعد بن ابی وقاص اور ابو طلحہؓ نے نہایت جانبازی اور جانثاری کا نمونہ پیش کیا۔ اس موقع سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخر اللہ تو نہیں جو حی و قیوم ہوں، ایک رسول ہی ہیں۔ ان سے پہلے سب رسول دنیا سے رخصت ہو چکے پھر آگر آپ فوت ہو جائیں یا شہید ہو جائیں تو کیا تم اسلام چھوڑ دو گے؟ دین کی حفاظت اور جہاد فی سبیل اللہ ترک کر دو گے؟ تمہیں ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہئے اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اللہ کاتو کچھ بھی بگاڑ نہیں سکے گا۔
آپﷺ کی وفات پر سیدنا ابو بکر کا خطبہ:
واضح رہے کہ اس آیت کے نزول کے ساڑھے سات سال بعد جب فی الواقعہ آپ کی وفات ہو گئی تو اس وقت مسلمانوں کو اتنا صدمہ ہوا کہ ان کے اوسان خطا ہو گئے۔ دوسرے صحابہؓ کا کیا ذکر حضرت عمرؓ جیسے فقیہ اور مدبر صحابی کھڑے ہو کر تقریر کر رہے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیقؓ آئے اور حضرت عمرؓ کو بیٹھ جانے کو کہا۔ لیکن جوش خطابت میں انہوں نے اس بات پر کان ہی نہ دھرا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ الگ کھڑے ہو کر تقریر کرنے لگے تو لوگ ادھر متوجہ ہو گئے۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: تم میں سے جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پوجتا تھا تو وہ سمجھ لے کہ بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور جو شخص اللہ کو پوجتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی
﴿وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ .....الشّٰكِرِيْنَ
تک۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا گویا لوگوں کو پتا نہیں تھا کہ اللہ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی ہے۔ جب تک حضرت ابو بکر صدیقؓ نے یہ آیت نہ پڑھی پھر ابو بکر صدیقؓ سے لوگوں نے یہ آیت سیکھی۔ پھر جسے دیکھو وہ یہی آیت پڑھ رہا تھا اور خود حضرت عمرؓ کہتے ہیں۔ اللہ کی قسم! مجھے یوں معلوم ہوا کہ میں نے یہ آیت ابو بکر صدیقؓ کی تلاوت کرنے سے پہلے سنی ہی نہ تھی اور جب سنی تو سہم گیا۔ دہشت کے مارے میرے پاؤں نہیں اٹھ رہے تھے میں زمین پر گر گیا اور جب میں نے ابو بکر صدیقؓ کو یہ آیت پڑھتے سنا تب معلوم ہوا کہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔
[بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی]
پھر اس بات پر بھی غور فرمائیے کہ یہ آیت غزوہ احد کے موقعہ پر نازل ہوئی تھی اور حضرت عمرؓ نے اور اسی طرح دوسرے صحابہ کرامؓ نے اسے سینکڑوں بار پڑھا بھی ہو گا۔ لیکن اس آیت کی صحیح سمجھ انہیں اس وقت آئی جب فی الواقع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ اس سے پہلے نہیں آئی اور یہی مفہوم ہے اللہ تعالیٰ کے قول:
﴿وَلَمَّا يَاْتِهِمْ تَاْوِيْلُهٗ
کا۔ نیز اس سے لفظ تاویل کا صحیح مفہوم بھی سمجھا سکتا ہے۔
سیدنا ابو بکر کا مرتدین سے جہاد:۔
پھر جس وقت میدان احد میں بعض کمزور ایمان والوں نے سوچا کہ اسلام کو چھوڑ کر پہلے دین میں چلے جائیں، اسی طرح آپ کی وفات پر واقعی کئی عرب قبائل مرتد ہو گئے وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ دین اسلام کی ساری سربلندیاں آپ کی ذات سے وابستہ ہیں۔ پھر جب آپ نہ رہے تو اسلام از خود مٹ جائے گا۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے ایسے مرتدین سے جہاد کیا اور انہیں شکست فاش دی۔ ان میں سے کچھ مارے گئے اور باقی پھر سے دین اسلام پر قائم ہو گئے۔ گویا ان لوگوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔ اسلام اللہ کے فضل سے سربلند رہا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد ٭٭
میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بے اصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ قدرے زخمی ہو گیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کر دیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء علیہم السلہم کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کر دیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا
ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنا کام کر گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہو جاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری۔[دلائل النبوۃ للبیهقی:248/3]‏‏‏‏ ۱؎
پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری میں مضبوط ہو جائیں خواہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہوں یا نہ ہوں،
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی خبر سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے عائشہ کے گھر پر آئے یہاں حضور علیہ السلام پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونہ چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آ چکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہو جاؤ۔
انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے صلی اللہ علیہ وسلم صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے،[صحیح بخاری:4454-4453]‏‏‏‏ ۱؎
سیدنا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر۔ اللہ کی قسم اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر آپ شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہو گا۔[مستدرک حاکم:126/3:ضعیف]‏‏‏‏ ۱؎
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کر کے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے «ووَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ» [35-فاطر:11]‏‏‏‏ نہ کوئی عمر بڑھائی جاتی ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا» [6-الأنعام:2]‏‏‏‏، جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ جوانمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آ کر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔
حجر بن عدی رضی اللہ عنہ جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آ جاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہو جاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بے اجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہو جاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چنانچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلب ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا «مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ ۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ» [42-الشورى:20]‏‏‏‏، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں
اور جگہ ہے «مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء: 19-18]‏‏‏‏ جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ اس میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا بدلہ دے دیتے ہیں۔
احد کے مجاہدین کو خطاب ٭٭
پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی،
ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کر سکی پھر تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہو گئے «ربیون» کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ[تفسیر ابن جریر الطبری:266/7]‏‏‏‏ ۱؎۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔