اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾
یا تم نے گمان کر لیا کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو نہیں جانا جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا اور تاکہ وہ صبر کرنے والوں کو جان لے۔
En
کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے
En
کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے، حاﻻنکہ اب تک اللہ تعالیٰ نے یہ ﻇاہر نہیں کیا کہ تم سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں؟
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 142) {وَ لَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا …:} بعض سلف نے اس کا معنی کیا ہے ”ابھی تک اللہ نے ظاہر نہیں کیا“ ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو ماضی، حال اور مستقبل ہر بات کا علم ہے، اس لیے یہ ترجمہ کہ ” ابھی تک اللہ نے نہیں جانا“ درست نہیں، مگر {”عَلِمَ يَعْلَمُ “} کا معنی تو جاننا ہی ہوتا ہے، ظاہر کرنے کے لیے تو { ”لَمَّا يُظْهِرِ اللّٰهُ“ } یا اس سے ملتے جلتے الفاظ ہونے چاہییں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کی نوع ازلی ہے مگر ان کے افراد حادث ہوتے رہتے ہیں، مثلاً پیدا کرنا، سننا اور جاننا وغیرہ، جیسا کہ فرمایا: «كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ» [الرحمٰن: ۲۹] ”ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔“ خالق تو وہ ازل سے ہے، مگر جب وہ کوئی چیز پیدا کرے گا تو اس چیز کی خلق اس وقت وجود میں آئے گی۔ اسی طرح آیت: «قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا» [المجادلۃ: ۱] ”یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی“ اس عورت کے جھگڑے کے بعد ہی واقعاتی سماع وجود میں آیا، اسی طرح جہاد کرنے کا واقعاتی علم تو جہاد کے واقع ہونے کے بعد ہی ہو گا۔ مقصد یہ کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا وقوع میں آنا نہیں جانا کہ تم میں سے کس نے جہاد کیا ہے۔ {”وَ يَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ“} میں میم {” لامِ كَيْ“} کی وجہ سے منصوب ہے، جو یہاں محذوف ہے اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور تاکہ وہ صبر کرنے والوں کو جان لے۔“ خلاصہ یہ ہے کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ ایسی آزمائش کے بغیر ہی تم کو جنت میں اعلیٰ مراتب مل جائیں گے؟ مطلب یہ کہ جب تک اس قسم کی آزمائشوں میں پورے نہیں اترو گے جنت میں اعلیٰ مراتب حاصل نہیں ہو سکتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
142۔ 1 بغیر قتال کی آزمائش کے تم جنت میں چلے جاؤ گے؟ نہیں! بلکہ جنت ان لوگوں کو ملے گی جو آزمائش میں پورا اتریں گے، ابھی تم پر وہ حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھی، انہیں تنگ دستی اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ خوب بلائے گئے مذید فرمایا، کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ انہیں صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔ 142۔ 2 یہ مضمون اس سے پہلے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، یہاں موقع کی مناسبت سے پھر بیان کیا جا رہا ہے کہ جنت یوں ہی نہیں مل جائے گی اس کے لئے پہلے تمہیں آزمائش کی بھٹی سے گزارا اور میدان جہاد میں آزمایا جائے گا وہاں نرغہ اعداء میں تم سرفروشی اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہو یا نہیں؟۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
142۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس یونہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے جبکہ ابھی تک اللہ نے یہ دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں [129] اور صبر کرنے والے کون ہیں؟
[129] جہاد کے ذریعے امتحان:۔
یعنی جنت کے جن اعلیٰ درجات اور مقامات پر اللہ تعالیٰ تمہیں پہچانا چاہتا ہے کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے آرام سے وہاں جا پہنچو گے اور اللہ تمہارا امتحان لے کر یہ نہ دیکھے گا کہ جہاد میں حصہ لینے والے اور اس میں ثابت قدم رہنے والے کون کون ہیں۔ جنت کے بلند درجات پر تو وہی لوگ فائز ہوں گے جو اللہ کی راہ میں ہر طرح کی سختیاں جھیلنے اور قربانیاں پیش کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہاں بھی اللہ کے دیکھنے یا جاننے سے وہی مراد ہے جو سابقہ آیت میں مذکور ہوئی یعنی
﴿ وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ ﴾
کہ مسلمانوں کی پوری جماعت یہ صورت حال بچشم خود ملاحظہ کرے۔
﴿ وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ ﴾
کہ مسلمانوں کی پوری جماعت یہ صورت حال بچشم خود ملاحظہ کرے۔
خباب بن ارت اور مشرکین مکہ کی سزائیں:۔
مکی دور میں مسلمانوں پر قریش مکہ کی طرف سے بے پناہ مظالم اور مصائب ڈھائے جا رہے تھے۔ حضرت خباب بن ارتؓ ان مصائب سے کچھ گھبرا سے گئے اور چاہا کہ جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمائیں کہ جس وقت کی آپ بشارت سناتے ہیں وہ کب آئے گا؟ چنانچہ وہ خود راوی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ کعبہ کے سایہ میں ایک چادر پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ اس زمانہ میں ہم مشرک لوگوں سے سخت تکلیفیں اٹھا رہے تھے۔ میں نے آپ سے عرض کیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ان مشرکوں کے لیے بددعا کیوں نہیں کرتے؟ یہ سنتے ہی آپ (تکیہ چھوڑ کر) سیدھے بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ (غصے سے) سرخ ہو گیا اور فرمایا: ”تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن کے گوشت اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تھیں۔ مگر وہ اپنے سچے دین سے پھرتے نہیں تھے اور آرا ان کے سر کے درمیان رکھ کر چلا دیا جاتا اور ان کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے مگر وہ سچے دین سے نہیں پھرتے تھے اور اللہ ایک دن اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔“
[بخاری، باب بنیان الکعبة باب مالقی النبی و أصحابہ من المشرکین بمکۃ]
اور ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ ”مگر تم لوگ تو جلدی مچاتے ہو۔“ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت خباب بن ارتؓ کو صبر و استقلال اور ثابت قدمی کا وہی سبق سکھلایا جو اس آیت میں مسلمانوں کو سکھلایا جا رہا ہے۔
[بخاری، باب بنیان الکعبة باب مالقی النبی و أصحابہ من المشرکین بمکۃ]
اور ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ ”مگر تم لوگ تو جلدی مچاتے ہو۔“ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت خباب بن ارتؓ کو صبر و استقلال اور ثابت قدمی کا وہی سبق سکھلایا جو اس آیت میں مسلمانوں کو سکھلایا جا رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔