(آیت 139) {وَلَاتَهِنُوْاوَلَاتَحْزَنُوْا …:} اوپر کی آیت { ”قَدْخَلَتْ“ } اس بشارت کی تمہید تھی اور { ”وَاَنْتُمُالْاَعْلَوْنَ“ } کے لیے ایک طرح کی دلیل کہ پہلی امتوں کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اہل باطل کو اگرچہ غلبہ حاصل ہوا مگر عارضی، آخر کار وہ تباہ و برباد ہو گئے۔ یہی حال تمھارا ہے، اس لیے کسی قسم کے { ”وَهْنٌ“ } (کمزوری) سے کام نہ لو، غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو تمھی غالب رہو گے۔ چنانچہ اس کے بعد ہر لڑائی میں مسلمان غالب ہوتے رہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
139۔ 1 گذشتہ جنگ میں تمہیں جو نقصان پہنچا ہے، اس سے نہ سست ہو اور نہ اس پر غم کھاؤ کیونکہ اگر تمہارے اندر ایمانی قوت موجود رہی تو غالب اور کامران تم ہی رہو گے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی قوت کا اصل راز اور ان کی کامیابی کی ایک بنیاد واضح کردی ہے۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ اس کے بعد مسلمان ہر معرکے میں سرخرو ہی رہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
139۔ (اے مسلمانو)! نہ تم سستی دکھانا اور نہ ہی غمزدہ ہونا اور اگر فی الواقع تم مومن ہو تو تم ہی غالب [125] رہو گے
[125] ان ہدایات و ارشادات کے بعد اب پھر غزوہ احد کا بیان ہو رہا ہے اور یہ آیت غالباً اس وقت نازل ہوئی جب غزوہ احد میں مسلمان ایک دفعہ شکست کھا کر مایوسی و بد دلی کا شکار ہو رہے تھے۔ اگرچہ اس کا روئے سخن بظاہر مجاہدین احد کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے ایک کلیہ بیان فرما دیا کہ اگر تم فی الواقعہ مومن ہو اور سست اور غمزدہ ہونے کے بجائے اللہ پر توکل اور صبر کرو گے تو اللہ تعالیٰیقیناً تمہیں غلبہ عطا کرے گا اور اگر تم مغلوب و مقہور ہو تو وہ وجوہ تلاش کرو جن کی وجہ سے یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔