ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 130

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوا الرِّبٰۤوا اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَۃً ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۳۰﴾ۚ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت کھائو سود کئی گنا، جو دگنے کیے ہوئے ہوں اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔ En
اےایمان والو! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو
En
اے ایمان والو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تمہیں نجات ملے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 130) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا:} شاید سود کا ذکر یہاں (جنگ احد کے تذکرے میں) اس لیے فرمایا کہ اوپر (آیت ۱۲۲ میں) ذکر ہوا جہاد میں نامردی کا اور سود کھانے سے نامردی آتی ہے دو سبب سے، ایک یہ کہ مال حرام کھانے سے توفیق اطاعت کم ہوتی ہے اور بڑی اطاعت جہاد ہے اور دوسرے یہ کہ سود لینا کمال بخل ہے۔ چاہیے تھا کہ اپنا مال جتنا دیا تھا لے لیتا، درمیان میں کسی کا کام نکل جاتا، یہ بھی مفت نہ چھوڑے، اس کا جدا بدلہ چاہے، تو جس کو مال پر اتنا بخل ہو وہ جان کب دینا چاہے گا۔ (موضح)
پھر انصار کے یہود کے ساتھ سودی لین دین کے تعلقات تھے اور احد میں منافقینِ یہود کی وجہ سے نقصان پہنچا تھا، گویا اس کو حرام قرار دے کر ان تعلقات کو ختم کر دیا۔
➋ {اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً:} اس سے بعض لوگوں نے سود مرکب کو حرام اور سود مفرد کو حلال ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ یہاں اس زمانے کے سود خوروں کی سنگ دلی بیان ہو رہی ہے، جو آج بھی موجود ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں بہت سے لوگ دوسروں کو سودی قرض دیا کرتے، جب قرض کی میعاد ختم ہو جاتی تو مقروض سے کہتے، قرض ادا کرو ورنہ سود میں اضافہ کرو۔ قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں میعاد میں توسیع کر دی جاتی اور سود کی مقدار میں اضافہ کر دیا جاتا۔ اس طرح کچھ عرصے کے بعد سود کی مقدار اصل زر سے بھی کئی گنا زیادہ ہو جاتی اور یہ سود تجارتی اور غیر تجارتی دونوں طرح کا ہوتا تھا، جیسا کہ اس آیت کی تفسیر کے تحت تابعین نے تصریح کی ہے۔ سودی کاروبار کی اس بھیانک صورت کی طرف قرآن نے {اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً} کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے، ورنہ یہ مطلب نہیں کہ مرکب سود حرام اور سادہ جائز ہے۔ اسلام میں ہر قسم کا سود حرام ہے، صرف قرض کی ایک صورت جائز ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۲۷۹] اور اگر تم توبہ کر لو تو تمھیں اپنے اصل مال لینے کی اجازت ہے، نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

130۔ 1 چونکہ غزوہ احد میں ناکامی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اور مال دنیا کے لا لچ کے سبب ہوئی تھی اس لئے اب طمع دنیا کی سب سے زیادہ بھیانک اور مستقل شکل سود سے منع کیا جا رہا ہے اور اطاعت کی تاکید کی جا رہی ہے اور بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ کا یہ مطلب نہیں کہ بڑھا چڑھا کر نہ ہو تو مطلق سود جائز ہے بلکہ سود کم ہو یا زیادہ مفرد ہو یا مرکب مطلقًا حرام ہے جیسے کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے جس سے تنبیہ بھی مقصود ہے کہ سود خوری سے باز نہ آئے تو یہ فعل تمہیں کفر تک پہنچا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ اللہ و رسول سے محاربہ ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

130۔ اے ایمان والو! دگنا چوگنا کر کے سود [118] مت کھاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم (آخرت میں) نجات پا سکو
[118] سود کی حرمت میں تدریج:۔
سود کی حرمت کا ذکر سورہ بقرہ کی آیات 278۔ 279 میں گزر چکا ہے۔ یہ آیت اس سے پہلے کی نازل شدہ ہے۔ جبکہ مسلمانوں کو سود کی قباحتوں سے متعارف کرانا اس سے نفرت دلانا اور اس کو یکسر چھوڑ دینے کے لیے ذہنوں کو ہموار کرنا مقصود تھا۔ اس مقام پر سود کے ذکر کی وجہ سے مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جنگ احد میں ابتداءً مسلمان جو شکست پر مامور تھا، اس نے جب فتح کے آثار دیکھے تو مال کے طمع سے مغلوب ہو گئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے لگ گئے اللہ تعالیٰ نے اس صورت حال کی اصلاح کے لیے زر پرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا کیونکہ سود کا خاصہ یہ ہے کہ وہ سود خوار میں حرص و طمع و بزدلی، خود غرضی اور زرپرستی جیسی رذیل صفات پیدا کر دیتا ہے اور سود ادا کرنے والوں میں نفرت غصہ، بغض و حسد جیسی صفات رذیل صفات پیدا کر دیتا ہے اور سود ادا کرنے والوں میں نفرت، غصہ، بغض و حسد جیسی صفات پیدا ہو جاتی ہیں، اور ایسی صفات ایک اسلامی معاشرہ کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں اور جہاد کی روح کے منافی ہیں اور آخرت میں اخروی عذاب کا سبب بنتی ہیں۔ انہیں وجوہ کی بنا پر سود کو بالآخر مکمل طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے۔