لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ اَوۡ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ اَوۡ یُعَذِّبَہُمۡ فَاِنَّہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾
تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں، یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔
En
(اے پیغمبر) اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا انکے حال پر مہربانی کرے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں
En
اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے، کیونکہ وه ﻇالم ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 129،128) ➊ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ …:} اس آیت میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ بندے کو اختیار نہیں، ہر قسم کے اختیارات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ (موضح)
بئرِ معونہ پر جن قبائل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستر صحابہ کو دھوکے سے قتل کیا تھا، ان کے خلاف اور جنگِ احد میں مشرکین کی طرف سے جو لوگ پیش پیش تھے، ان کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے لے کر دعائے قنوت شروع کی۔ بئر معونہ والا واقعہ بخاری میں موجود ہے۔ [بخاری، المغازی، باب غزوۃ الرجیع…: ۴۰۸۶]
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد سر اٹھاتے تو {” سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ رَبَّنَا وَ لَكَ الْحَمْدُ “} کے بعد یہ دعا کیا کرتے: ”اے اللہ! فلاں، فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ» ”تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں۔“ [بخاری، التفسیر، باب: «لیس لک من الأمر شیء» : ۴۰۶۹]
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو جن کا نام لے کر آپ لعنت فرماتے تھے، توبہ کی توفیق عطا فرمائی اور وہ مسلمان ہو گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مختار کل اور عالم الغیب ذات صرف اللہ وحدہٗ لا شریک لہ ہی ہے، ورنہ آپ اپنے عزیز چچا کو ضرور مسلمان کر لیتے اور احد اور بئر معونہ میں ظلم کرنے والوں کو ضرور ملعون کروا لیتے۔
➋ ان آیات اور احادیث سے معلوم ہوا کہ قنوت نازلہ میں کسی کافر کا نام لے کر لعنت کرنا جائز نہیں، کیا خبر اللہ تعالیٰ اسے توبہ کی توفیق بخش دے۔ ہاں، عام کفار پر لعنت درست ہے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے۔
بئرِ معونہ پر جن قبائل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستر صحابہ کو دھوکے سے قتل کیا تھا، ان کے خلاف اور جنگِ احد میں مشرکین کی طرف سے جو لوگ پیش پیش تھے، ان کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے لے کر دعائے قنوت شروع کی۔ بئر معونہ والا واقعہ بخاری میں موجود ہے۔ [بخاری، المغازی، باب غزوۃ الرجیع…: ۴۰۸۶]
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد سر اٹھاتے تو {” سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ رَبَّنَا وَ لَكَ الْحَمْدُ “} کے بعد یہ دعا کیا کرتے: ”اے اللہ! فلاں، فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ» ”تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں۔“ [بخاری، التفسیر، باب: «لیس لک من الأمر شیء» : ۴۰۶۹]
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو جن کا نام لے کر آپ لعنت فرماتے تھے، توبہ کی توفیق عطا فرمائی اور وہ مسلمان ہو گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مختار کل اور عالم الغیب ذات صرف اللہ وحدہٗ لا شریک لہ ہی ہے، ورنہ آپ اپنے عزیز چچا کو ضرور مسلمان کر لیتے اور احد اور بئر معونہ میں ظلم کرنے والوں کو ضرور ملعون کروا لیتے۔
➋ ان آیات اور احادیث سے معلوم ہوا کہ قنوت نازلہ میں کسی کافر کا نام لے کر لعنت کرنا جائز نہیں، کیا خبر اللہ تعالیٰ اسے توبہ کی توفیق بخش دے۔ ہاں، عام کفار پر لعنت درست ہے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
128۔ 1 یعنی ان کافروں کو ہدایت دینا یا ان کے معاملے میں کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنا سب اللہ کے اختیار میں ہی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جنگ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک بھی شہید ہوگئے اور چہرا مبارک بھی زخمی ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' وہ قوم کس طرح فلاح یاب ہوگی جس نے اپنے نبی کو زخمی کردیا ' گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ہدایت سے ناآمیدی ظاہر فرمائی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اسی طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض کفار کے لئے قنوت نازلہ کا بھی اہتمام فرمایا جس میں ان کے لئے بد دعا فرمائی جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کا سلسلہ بند فرما دیا (ابن کثیر فتح القدیر) اس آیت سے ان لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہئیے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مختار کل قرار دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اتنا اختیار بھی نہ تھا کہ کسی کو راہ راست پر لگا دیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی راستے کی طرف بلانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ 128۔ 2 یہ قبیلے جن کے لئے بددعا فرماتے رہے اللہ کی توفیق سے سب مسلمان ہوگئے۔ جن سے معلوم ہوا مختار کل اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
128۔ اے نبی آپ کا اس بات میں کچھ اختیار نہیں۔ اللہ چاہے تو انہیں معاف کر دے، چاہے تو سزا دے [117] وہ بہرحال ظالم تو ہیں ہی
[117] آپﷺ کی زخمی کرنے والوں کے لیے بد دعا:۔
میدان احد کے مزید حالات تو آگے چل کر مذکور ہوں گے۔ یہاں صرف ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس آیت کے نزول کا سبب بنا۔ وہ واقعہ یہ تھا کہ جنگ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اگلا دانت ٹوٹ گیا اور سر زخمی ہو گیا۔ آپ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے اور فرماتے، ”وہ قوم کیسے فلاح پائے گی۔ جس نے اپنے نبی کا سر زخمی کر دیا اور دانت توڑ دیا۔ حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا“ تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
[مسلم۔ كتاب الجهاد، باب غزوه احد] چنانچہ اس موقع پر چند نامور مشرکین کا نام لے لے کر انہیں بددعا دی۔ مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چند ہی روز گزرے تھے کہ جن مشرکوں کے حق میں آپ نے یہ بد دعا کی تھی، انہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے قدموں پر لا ڈالا اور اسلام کے جانباز سپاہی بنا دیا۔
[مسلم۔ كتاب الجهاد، باب غزوه احد] چنانچہ اس موقع پر چند نامور مشرکین کا نام لے لے کر انہیں بددعا دی۔ مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چند ہی روز گزرے تھے کہ جن مشرکوں کے حق میں آپ نے یہ بد دعا کی تھی، انہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے قدموں پر لا ڈالا اور اسلام کے جانباز سپاہی بنا دیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔