ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 127

لِیَقۡطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَوۡ یَکۡبِتَہُمۡ فَیَنۡقَلِبُوۡا خَآئِبِیۡنَ ﴿۱۲۷﴾
تاکہ وہ ان لوگوں کا ایک حصہ کاٹ دے جنھوں نے کفر کیا، یا انھیں ذلیل کر دے، پس وہ ناکام واپس لوٹ جائیں۔ En
(یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل ومغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں
En
(اس امداد الٰہی کا مقصد یہ تھا کہ اللہ) کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ دے یا انہیں ذلیل کر ڈالے اور (سارے کے سارے) نامراد ہو کر واپس چلے جائیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 126 میں تا آیت 128 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

127۔ 1 یہ اللہ غالب و کار فرما کی مدد کا نتیجہ بتلایا جا رہا ہے سورة انفال میں فرشتوں کی تعداد ایک ہزار بتلائی گئی ہے، " اذتستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملٰئکۃ " جب تم اپنے رب سے مدد طلب کر رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہاری فریاد سنتے ہوئے کہا کہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرونگا۔ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے واقعتًا تو ایک ہزار ہی نازل ہوئے اور مسلمانوں کے حوصلے اور تسلی کے لئے تین ہزار کا اور پھر پانچ ہزار کا مزید مشروط وعدہ کیا گیا۔ پھر حسب حالات مسلمانوں کی تسلی کے نقطہ نظر سے بھی ان کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ اس لئے بعض مفسرین کے نزدیک یہ تین ہزار پانچ ہزار فرشتوں کا نزول نہیں ہوا کیونکہ مقصد تو مسلمانوں کے حوصلے بلند کرنا تھا، ورنہ اصل مددگار تو اللہ تعالیٰ ہی تھا اور اللہ اپنی مدد کے لیے فرشتوں کا یا کسی اور کا محتاج ہی نہیں ہے۔ چناچہ اس نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور جنگ بدر میں مسلمانوں کو تاریخی کامیابی حاصل ہوئی، کفر کی طاقت کمزور ہوئی اور کافروں کا گھمنڈ خاک میں مل گیا۔ (ایسرالتفاسیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

127۔ تاکہ اللہ کافروں کا ایک بازو کاٹ دے یا انہیں ایسا ذلیل کرے کہ وہ ناکام ہو کر پسپا [116] ہو جائیں
[116] اللہ کی مدد کا مقصد یہ تھا کہ کفر کا زور ٹوٹ جائے اور یہ مقصد مکمل طور پر حاصل ہو گیا۔ کافروں کے ستر سردار بمعہ ابو جہل سالار لشکر اس جنگ میں مارے گئے، اتنے ہی قید ہو گئے اور باقی لشکر ذلیل و خوار ہو کر بھاگ کھڑا ہوا جس کے سوا ان کے لیے کوئی چارہ کار ہی نہ رہ گیا تھا۔
کیا احد میں فرشتوں کا نزول ہوا تھا؟
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا فرشتوں کا نزول بدر اور احد دونوں میدانوں میں ہوا تھا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بدر میں فرشتوں کا نزول یقیناً ہوا تھا اور وہ کتاب و سنت سے ثابت شدہ ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ میدان احد میں بھی نزول ہوا تھا جیسا کہ مذکورہ آیات سے اشارہ ملتا ہے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس میدان میں مسلمانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی بنا پر ایک شدید جنگی غلطی ہو گئی تھی جس نے ایک بار مسلمانوں کو شکست سے بھی دو چار کر دیا تھا اور چونکہ اس غلطی کی وجہ محض حرص و طمع تھی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس غلطی پر عتاب بھی فرمایا۔ تاہم ان کی یہ غلطی اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دی تھی۔ اس بے صبری کی وجہ سے میدان احد میں فرشتوں کا نزول نہیں ہوا۔ اگر مسلمان ایسا بے صبری کا مظاہرہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ یہاں بھی فرشتے بھیج دیتے۔ واللہ اعلم بالصواب اور اس پر بحث پہلے [حاشيه نمبر 114] کے تحت بھی گزر چکی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد دو مقاصد کے لیے کرتا ہے۔
۱۔ تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ لے، یعنی وہ قتل ہوجائیں یا قید ہوجائیں۔ یا ان کے شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوجائے یا مال غنیمت حاصل ہو۔ اس طرح مومنوں کو قوت حاصل ہو اور کافر ذلیل ہوجائیں۔ کیونکہ اسلام کا مقابلہ کرنے اور اسلام سے جنگ کرنے کی قوت انھیں یا افراد سے حاصل ہوتی ہے یا ہتھیاروں سے یا مال سے یا زمین سے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کا ختم ہونا یا مسلمانوں کے قبضے میں آنا، ان کی قوت میں کمی کا باعث ہے۔
۲۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ کافر اپنی قوت و کثرت پر اعتماد کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی خواہش کریں، بلکہ اس کی انتہائی شدید حرص میں مبتلا ہوکر اپنی طاقت اور اپنا مال صرف کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ جنگ میں مومنوں کی مدد کرکے انھیں ناکام کردے، وہ اپنا مقصد حاصل نہ کرسکیں۔ بلکہ خسارہ اٹھا کر غم اور حسرت لے کر واپس چلے جائیں۔ جب آپ حالات پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جب مومنوں کی مدد کرتا ہے تو وہ ان دو امور سے خارج نہیں ہوتی۔ یا ان پر مسلمانوں کی فتح یا کفار کی اپنی کوششوں میں ناکامی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ليقطع طرفا من الذين كفروا أو يكبتهم فينقلبوا خائبين}؛ أي: نصر الله لعباده المؤمنين لا يعدو أن يكون قطعاً لطرف من الكفار، أو ينقلبوا بغيظهم لم ينالوا خيراً كما أرجعهم يوم الخندق بعد ما كانوا قد أتوا على حرد قادرين أرجعهم الله بغيظهم خائبين.