وَ اِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَہۡلِکَ تُبَوِّیُٔ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۲۱﴾ۙ
اور جب تو صبح سویرے اپنے گھر والوں کے پاس سے نکلا، مومنوں کو لڑائی کے لیے مختلف ٹھکانوں پر مقرر کرتا تھا اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
En
اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گھر روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
En
اے نبی! اس وقت کو بھی یاد کرو جب صبح ہی صبح آپ اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر باقاعده بٹھا رہے تھے اللہ تعالیٰ سننے جاننے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 121) {وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ …:} یہاں سے غزوۂ احد کا بیان ہے۔ غزوۂ بدر میں ذلت آمیز شکست، ستر آدمی قتل اور ستر قید ہونے کے بعد مشرکین نے جوش انتقام میں مدینہ پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنایا اور ارد گرد سے مختلف قبائل کو جمع کر کے تین ہزار کا مسلح لشکر لیا اور جبل احد کے قریب آکر ٹھہر گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔ بعض نے مدینہ میں رہ کر لڑنے کا مشورہ دیا، جب کہ بعض پرجوش نوجوانوں نے، جو بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے، میدان میں نکل کر لڑنے پر اصرار کیا۔ آپ ان کی رائے کے مطابق ایک ہزار کی جمعیت لے کر باہر نکلے۔ مقام ” شوط“ پر عبد اللہ بن ابی نے مسلمانوں کو دھوکا دیا اور اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ لوٹ آیا۔ اس سے بعض مسلمانوں کے حوصلے بھی پست ہو گئے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی بخشی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات سو صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ جمعیت لے کر آگے بڑھے اور احد کے قریب وادی میں فوج کو آراستہ کیا، جس کی طرف قرآن نے «تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِيْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ» میں اشارہ کیا ہے۔ اسلامی فوج کی پشت پر جبلِ احد تھا اور ایک جانب ٹیلے پر عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں پچاس تیر اندازوں کا دستہ متعین تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا تھا کہ اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمارے جسموں کو نوچ رہے ہیں، تو پھر بھی اس جگہ کو نہ چھوڑنا، یہاں تک کہ میں تمھیں پیغام بھیجوں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے کفار کو شکست دے دی ہے اور انھیں پامال کر دیا ہے، پھر بھی اس جگہ کو نہ چھوڑنا، یہاں تک کہ میں پیغام بھیجوں۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ کفار کو پسپا ہوتے دیکھ کر نیچے اتر آئے اور اس گھاٹی کو چھوڑ دیا جس سے مشرکین کو عقب سے حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔ اس اچانک حملے سے مسلمانوں کے پا ؤ ں اکھڑ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ثابت قدم رہے۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دانت مبارک شہید ہو گیا، سر اور پیشانی مبارک بھی زخمی ہو گئے۔ آخر کار صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد دوبارہ جمع ہوئے، جس سے میدان جنگ کا نقشہ بدل گیا اور دشمن کو ناکام ہو کر لوٹ جانا پڑا۔ یہ شوال ۳ھ کا واقعہ ہے۔ ان آیات میں جنگ کے بعض واقعات کی طرف اشارے آ رہے ہیں۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
121۔ 1 جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد جنگ احد کا واقعہ ہے جو شوال 3 ہجری میں پیش آیا۔ اس کا پس منظر مختصراً یہ ہے کہ جب جنگ بدر 2 ہجری میں کفار کو عبرت ناک شکست ہوئی، ان کے سترّ آدمی مارے گئے اور ستّر قید ہوئے تو کفار کے لئے یہ بدنامی کا باعث اور مرنے کا مقام تھا، چناچہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک زبردست انتقامی جنگ کی تیاری کی جس میں عورتیں بھی شریک ہوئیں۔ ادھر مسلمانوں کو جب اس کا علم ہوا کہ کافر تین ہزار کی تعداد میں احد پہاڑ کے نزدیک خیمہ زن ہوگئے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر رہ کر ہی مقابلہ کا مشورہ دیا اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا۔ لیکن اس کے برعکس بعض پر جوش صحابہ کرام نے جنہیں جنگ بدر میں حصہ لینے کی سعادت حاصل نہیں ہوئی تھی، مدینہ کے باہر جاکر لڑنے کی حمایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر حجرے میں تشریف فرما تھے ہتھیار پہن کر باہر آئے، دوسری رائے والوں کو ندامت ہوئی کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی خواہش کے برعکس باہر نکلنے پر مجبور کرکے ٹھیک نہیں کیا چناچہ انہوں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اگر اندر رہ کر مقابلہ کرنا پسند فرمائیں تو اندر ہی رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لباس حرب پہن لینے کے بعد کسی نبی کے لائق نہیں کہ وہ اللہ کے فیصلے کے بغیر واپس ہو اور لباس اتارے۔ چناچہ مسلمان ایک ہزار کی تعداد میں روانہ ہوگئے مگر صبح دم جب مقام شوط پر پہنچے تو عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت یہ کہہ کر واپس آگیا کہ اس کی رائے نہیں مانی گئی۔ خواہ مخواہ جان دینے کا کیا فائدہ؟ اس کے اس فیصلے سے وقتی طور پر بعض مسلمان بھی متاثر ہوگئے اور انہوں نے بھی کمزوری کا مظاہرہ کیا (ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
121۔ اور (وہ وقت بھی یاد کیجئے) جب آپ صبح دم اپنے گھر سے نکلے اور مسلمانوں کو جنگ (احد) کے لیے مورچوں پر بٹھا [110] رہے تھے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے
[110] غزوہ احد کا پس منظر اور اسباب:۔
یہاں سے ایک نیا مضمون شروع ہو رہا ہے جو جنگ احد سے متعلق ہے۔ رمضان 2ھ میں غزوہ بدر میں قریش مکہ کو عبرت ناک شکست ہوئی تھی۔ ابو جہل کی موت کے بعد ابو سفیان نے قریش کی قیادت سنبھالی۔ اس نے جنگ بدر کا بدلہ لینے اور مسلمانوں کا قلع قمع کرنے کے لیے حسب ذیل اقدامات کئے:
1۔ طے ہوا کہ اس تجارتی قافلہ کا سارا منافع جنگ کے اخراجات کے لیے دے دیا جائے جو جنگ بدر سے چند یوم پہلے بچ بچا کر نکل آیا تھا۔ اس سے ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار دینار کی خطیر رقم جنگی اخراجات کے لیے جمع ہو گئی۔
2۔ رضا کارانہ خدمت کا دروازہ کھول دیا گیا اور تمام اسلام دشمن قبائل کو اس جنگ میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ اس طرح قریش کے حلیف قبیلے بھی اور مسلمانوں کے مخالف قبیلے بھی اس قریشی جھنڈے تلے جمع ہو گئے۔
3۔ دو شعلہ بیان شعراء کی خدمات حاصل کی گئیں، جو بدوی قبائل کو مسلمانوں کے خلاف انتقام پر بھڑکاتے تھے۔ ان ایام میں جنگی پروپیگنڈہ کا سب سے موثر ذریعہ یہی تھا۔ چنانچہ شوال 3ھ میں قریش کا یہ تین ہزار مسلح افراد کا لشکر جرار ابو سفیان کی سر کردگی میں احد کے میدان میں پہنچ گیا۔ اس موقع پر ابو سفیان نے ایک خطرناک جنگی چال چلی، وہ انصار سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: آپ لوگوں سے ہماری کوئی لڑائی نہیں، آپ درمیان سے نکل جائیں تو بہتر ہے، ہم بھی آپ سے کوئی تعرض نہ کریں گے۔ لیکن انصار ابو سفیان کی اس چال کو سمجھ گئے اور اسے کھری کھری سنا دیں۔
1۔ طے ہوا کہ اس تجارتی قافلہ کا سارا منافع جنگ کے اخراجات کے لیے دے دیا جائے جو جنگ بدر سے چند یوم پہلے بچ بچا کر نکل آیا تھا۔ اس سے ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار دینار کی خطیر رقم جنگی اخراجات کے لیے جمع ہو گئی۔
2۔ رضا کارانہ خدمت کا دروازہ کھول دیا گیا اور تمام اسلام دشمن قبائل کو اس جنگ میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ اس طرح قریش کے حلیف قبیلے بھی اور مسلمانوں کے مخالف قبیلے بھی اس قریشی جھنڈے تلے جمع ہو گئے۔
3۔ دو شعلہ بیان شعراء کی خدمات حاصل کی گئیں، جو بدوی قبائل کو مسلمانوں کے خلاف انتقام پر بھڑکاتے تھے۔ ان ایام میں جنگی پروپیگنڈہ کا سب سے موثر ذریعہ یہی تھا۔ چنانچہ شوال 3ھ میں قریش کا یہ تین ہزار مسلح افراد کا لشکر جرار ابو سفیان کی سر کردگی میں احد کے میدان میں پہنچ گیا۔ اس موقع پر ابو سفیان نے ایک خطرناک جنگی چال چلی، وہ انصار سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: آپ لوگوں سے ہماری کوئی لڑائی نہیں، آپ درمیان سے نکل جائیں تو بہتر ہے، ہم بھی آپ سے کوئی تعرض نہ کریں گے۔ لیکن انصار ابو سفیان کی اس چال کو سمجھ گئے اور اسے کھری کھری سنا دیں۔
غزوہ احد سے متعلق مشورہ:۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے مشورہ کیا کہ یہ جنگ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے یا باہر نکل کر کھلے میدان میں لڑی جائے۔ آپ کی ذاتی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے اور یہ پہلا موقع تھا کہ عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین سے بھی رائے لی گئی جو حضور کی رائے سے موافق تھی۔ مگر پر جوش اور جوان مسلمان جنہیں بدر کی شرکت نصیب نہ ہوئی تھی اور شوق شہادت بے چین کر رہا تھا اس بات پر مصر ہوئے کہ باہر نکل کر کھلے میدان میں مقابلہ کیا جائے۔ تاکہ دشمن ہماری نسبت بزدلی اور کمزوری کا گمان نہ کرے۔ چنانچہ آپ گھر میں تشریف لے گئے اور زرہ پہن کر نکلے۔ بعض لوگوں کو خیال آیا کہ ہم نے آپ کو آپ کی مرضی کے خلاف باہر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ کا منشا نہ ہو تو یہیں تشریف رکھئے۔ آپ نے فرمایا: ایک پیغمبر کو یہ مناسب نہیں کہ وہ ہتھیار لگائے اور جنگ کئے بغیر اتار دے۔
عبد اللہ بن ابی کا کردار:۔
جب آپ مدینہ سے باہر نکلے تو تقریباً ایک ہزار آدمی آپ کے ساتھ تھے مگر عبد اللہ بن ابی تقریباً تین سو آدمیوں کو (جن میں بعض مسلمان بھی تھے) ساتھ لے کر راستہ سے یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ جب میرا مشورہ نہیں مانا گیا تو ہم کیوں لڑیں اور خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالیں۔ آخر آپ سات سو مجاہدین کا لشکر لے کر میدان جنگ میں پہنچ گئے۔ فوجی قاعدہ کے مطابق صفیں ترتیب دیں۔ ہر ایک دستہ کو اس کے مناسب ٹھکانے پر بٹھایا اور فرمایا جب تک میں نہ کہوں جنگ نہ شروع کی جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
غزوہ احد کی افتاد ٭٭
یہ احد کے واقعہ کا ذکر ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:510/2] ۱؎ بعض مفسرین نے اسے جنگِ خندق کا قصہ بھی کہا ہے لیکن ٹھیک یہ ہے کہ واقعہ جنگ احد کا ہے جو سن 3 ہجری 11 شوال بروز ہفتہ پیش آیا تھا، جنگ بدر میں مشرکین کو کامل شکست ہوئی تھی ان کے سردار موت کے گھاٹ اترے تھے، اب اس کا بدلہ لینے کیلئے مشرکین نے بڑی بھاری تیاری کی تھی وہ تجارتی مال جو بدر والی لڑائی کے موقعہ پر دوسرے راستے سے بچ کر آ گیا تھا وہ سب اس لڑائی کیلئے روک رکھا تھا اور چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کر کے تین ہزار کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور پورے سازو سامان کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی، ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی نماز کے بعد مالک بن عمرو رضی اللہ عنہ کے جنازے کی نماز پڑھائی جو قبیلہ بنی النجار میں سے تھے۔
پھر لوگوں سے مشورہ کیا کہ ان کی مدافعت کی کیا صورت تمہارے نزدیک بہتر ہے؟ تو عبداللہ بن ابی نے کہا کہ ہمیں مدینہ سے باہر نہ نکلنا چاہیئے اگر وہ آئے اور ٹھہرے تو گویا ہمارے جیل خانہ میں آ گئے۔ رکے اور کھڑے رہیں اور اگر مدینہ میں گھسے تو ایک طرف سے ہمارے بہادروں کی تلواریں ہوں گی دوسری جانب تیر اندازوں کے بےپناہ تیر ہوں گے پھر اوپر سے عورتوں اور بچوں کی سنگ باری ہو گی اور اگر یونہی لوٹ گئے تو بربادی اور خسارے کے ساتھ لوٹیں گے لیکن اس کے برخلاف بعض صحابہ رضی اللہ عنہم جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے ان کی رائے تھی کہ مدینہ کے باہر میدان میں جا کر خوب دل کھول کر ان کا مقابلہ کرنا چاہیئے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے اور ہتھیار لگا کر باہر آئے ان صحابہ کو اب خیال ہوا کہ کہیں ہم نے اللہ کے نبی کی خلاف منشاء تو میدان کی لڑائی پر زور نہیں دیا اس لیے یہ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہیں ٹھہر کر لڑنے کا ارادہ ہو تو یونہی کیجئے ہماری جانب سے کوئی اصرار نہیں، آپ نے فرمایا اللہ کے نبی کو لائق نہیں کہ وہ ہتھیار پہن کر اتارے اب تو میں نہ لوٹوں گا جب تک کہ وہ نہ جائے جو اللہ عزوجل کو منظور ہو [مستدرک حاکم:129/2-128]۱؎
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے اور ہتھیار لگا کر باہر آئے ان صحابہ کو اب خیال ہوا کہ کہیں ہم نے اللہ کے نبی کی خلاف منشاء تو میدان کی لڑائی پر زور نہیں دیا اس لیے یہ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہیں ٹھہر کر لڑنے کا ارادہ ہو تو یونہی کیجئے ہماری جانب سے کوئی اصرار نہیں، آپ نے فرمایا اللہ کے نبی کو لائق نہیں کہ وہ ہتھیار پہن کر اتارے اب تو میں نہ لوٹوں گا جب تک کہ وہ نہ جائے جو اللہ عزوجل کو منظور ہو [مستدرک حاکم:129/2-128]۱؎
چنانجہ ایک ہزار کا لشکر لے کر آپ مدینہ شریف سے نکل کھڑے ہوئے، شوط پر پہنچ کر اس منافق عبداللہ بن ابی نے دغا بازی کی اور اپنی تین سو کی جماعت کو لے کر واپس مڑ گیا یہ لوگ کہنے لگے ہم جانتے ہیں کہ لڑائی تو ہونے کی نہیں خواہ مخواہ زحمت کیوں اٹھائیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور صرف سات سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر میدان میں اترے اور حکم دیا کہ جب تک میں نہ کہوں لڑائی شروع نہ کرنا پچاس تیر انداز صحابیوں کو الگ کر کے ان کا امیر سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو بنایا اور ان سے فرما دیا کہ پہاڑی پر چڑھ جاؤ اور اس بات کا خیال رکھو کہ دشمن پیچھے سے حملہ آور نہ ہو دیکھو ہم غالب آ جائیں یا [اللہ نہ کرے] مغلوب ہو جائیں تم ہرگز اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، یہ انتظامات کر کے خود آپ بھی تیار ہو گئے دوہری زرہ پہنی سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا آج چند لڑکے بھی لشکر محمدی میں نظر آتے تھے یہ چھوٹے سپاہی بھی جانبازی کیلئے ہمہ تن مستعد تھے بعض اور بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ لیا تھا انہیں جنگ خندق کے لشکر میں بھرتی کیا گیا جنگ خندق اس کے دو سال بعد ہوئی تھی،
قریش کا لشکر بڑے ٹھاٹھ سے مقابلہ پر آڈٹا یہ تین ہزار سپاہیوں کا گروہ تھا ان کے ساتھ دو سو کوتل گھوڑے تھے جنہیں موقعہ پر کام آنے کیلئے ساتھ رکھا تھا ان کے داہنے حصہ پر خالد بن ولید تھا اور بائیں حصہ پر عکرمہ بن ابوجہل تھا [یہ دونوں سردار بعد میں مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہما] ان کا جھنڈے بردار قبیلہ بنو عبدالدار تھا،[تفسیر ابن جریر الطبری:7716] ۱؎
پھر لڑائی شروع ہوئی جس کے تفصیلی واقعات انہی آیتوں کی موقعہ بہ موقعہ تفسیر کے ساتھ آتے رہیں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
قریش کا لشکر بڑے ٹھاٹھ سے مقابلہ پر آڈٹا یہ تین ہزار سپاہیوں کا گروہ تھا ان کے ساتھ دو سو کوتل گھوڑے تھے جنہیں موقعہ پر کام آنے کیلئے ساتھ رکھا تھا ان کے داہنے حصہ پر خالد بن ولید تھا اور بائیں حصہ پر عکرمہ بن ابوجہل تھا [یہ دونوں سردار بعد میں مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہما] ان کا جھنڈے بردار قبیلہ بنو عبدالدار تھا،[تفسیر ابن جریر الطبری:7716] ۱؎
پھر لڑائی شروع ہوئی جس کے تفصیلی واقعات انہی آیتوں کی موقعہ بہ موقعہ تفسیر کے ساتھ آتے رہیں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
الغرض اس آیت میں اسی کا بیان ہو رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف سے نکلے اور لوگوں کو لڑائی کے مواقعہ کی جگہ مقرر کرنے لگے میمنہ میسرہ لشکر کا مقرر کیا اللہ تعالیٰ تمام باتوں کو سننے والا اور سب کے دلوں کے بھید جاننے والا ہے، روایتوں میں یہ آ چکا ہے کہ حضور علیہ السلام جمعہ کے دن مدینہ شریف سے لڑائی کیلئے نکلے اور قرآن فرماتا ہے صبح ہی صبح تم لشکریوں کی جگہ مقرر کرتے تھے تو مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن تو جا کر پڑاؤ ڈال دیا باقی کاروائی ہفتہ کی صبح شروع ہوئی۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمارے بارے میں یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ تمہارے دو گروہوں بزدلی کا ارادہ کیا تھا گو اس میں ہماری ایک کمزوری کا بیان ہے لیکن ہم اپنے حق میں اس آیت کو بہت بہتر جانتے ہیں کیونکہ اس میں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اللہ ان دونوں کا ولی ہے [صحیح بخاری:4051] ۱؎ پھر فرمایا کہ دیکھو میں نے بدر والے دن بھی تمہیں غالب کیا حالانکہ تم سب ہی کم اور بےسرد سامان تھے، بدر کی لڑائی سن 2 ہجری 17 رمضان بروز جمعہ ہوئی تھی۔ اسی کا نام یوم الفرقان رکھا گیا اس دن اسلام اور اہل اسلام کی عزت ملی شرک برباد ہوا محل شرک ویران ہوا حالانکہ اس دن مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے ان کے پاس صرف دو گھوڑے تھے فقط ستر اونٹ تھے باقی سب پیدل تھے ہتھیار بھی اتنے کم تھے کہ گویا نہ تھے اور دشمن کی تعداد اس دن تین گنا تھی۔
ایک ہزار میں کچھ ہی کم تھے ہر ایک زرہ بکتر لگائے ہوئے , ضرورت سے زیادہ وافر ہتھیار عمدہ عمدہ، کافی سے زیادہ مالداری،گھوڑے نشان زدہ، جن کو سونے کے زیور پہنائے گئے تھے اس موقعہ پر اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت اور غلبہ دیا حالات کے بارے میں ظاہر و باطن وحی کی۔ اپنے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو سرخرو کیا اور شیطان اور اس کے لشکریوں کو ذلیل و خوار کیا اب اپنے مومن بندوں اور جنتی لشکریوں کو اس آیت میں یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ تمہاری تعداد کی کمی اور ظاہری اسباب کی غیر موجودگی کے باوجود تم ہی کو غالب رکھا تاکہ تم معلوم کر لو کہ غلبہ ظاہری اسباب پر موقوف نہیں،
اسی لیے دوسری آیت میں صاف فرما دیا کہ جنگ حنین میں تم نے ظاہری اسباب پر نظر ڈالی اور اپنی زیادتی دیکھ کر خوش ہوئے لیکن اس زیادتی تعداد اور اسباب کی موجودگی نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا
اسی لیے دوسری آیت میں صاف فرما دیا کہ جنگ حنین میں تم نے ظاہری اسباب پر نظر ڈالی اور اپنی زیادتی دیکھ کر خوش ہوئے لیکن اس زیادتی تعداد اور اسباب کی موجودگی نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا
سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک میں ہمارے پانچ سردار تھے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ،سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سیدنا ابن حسنہ رضی اللہ عنہ،سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عیاض اور خلیفتہ المسلمین عمر رضی اللہ عنہ کا حکم تھا کہ لڑائی کے وقت سیدنا ابوعبیدہ سردار ہوں گے اس لڑائی میں ہمیں چاروں طرف سے شکست کے آثار نظر آنے لگے تو ہم نے خلیفہ وقت کو خط لکھا کہ ہمیں موت نے گھیر رکھا ہے امداد کیجئے، فاروق رضی اللہ عنہ کا مکتوب گرامی ہماری گزارش کے جواب میں آیا جس میں تحریر تھا کہ تمہارا طلبِ امداد کا خط پہنچا میں تمہیں ایک ایسی ذات بتاتا ہوں جو سب سے زیادہ مددگار اور سب سے زیادہ مضبوط لشکر والی ہے وہ ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے جس نے اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد بدر والے دن کی تھی بدری لشکر تو تم سے بہت ہی کم تھا
میرا یہ خط پڑھتے ہی جہاد شروع کر دو اور اب مجھے کچھ نہ لکھنا نہ کچھ پوچھنا، اس خط سے ہماری جراتیں بڑھ گئیں ہمتیں بلند ہو گئیں پھر ہم نے جم کر لڑنا شروع کیا الحمداللہ دشمن کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے۔ ہم نے بارہ میل تک انکا تعاقب کیا بہت سا مال غنیمت ہمیں ملا جو ہم نے آپس میں بانٹ لیا پھر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میرے ساتھ دوڑ کون لگائے گا؟ ایک نوجوان نے کہا اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں حاضر ہوں چنانچہ دوڑنے میں وہ آگے نکل گئے میں نے دیکھا ان کی دونوں زلفیں ہوا میں اڑ رہی تھیں اور وہ اس نوجوان کے پیچھے گھوڑا دوڑائے چلے جا رہے تھے،[مسند احمد:49/1:حسن]
بدر بن نارین ایک شخص تھا اس کے نام سے ایک کنواں مشہور تھا اور اس میدان کا جس میں یہ کنواں تھا یہی نام ہو گیا تھا بدر کی جنگ بھی اسی نام سے مشہور ہو گئی یہ جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ شکر کی توفیق ملے اور اطاعت گزاری کر سکو۔
بدر بن نارین ایک شخص تھا اس کے نام سے ایک کنواں مشہور تھا اور اس میدان کا جس میں یہ کنواں تھا یہی نام ہو گیا تھا بدر کی جنگ بھی اسی نام سے مشہور ہو گئی یہ جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ شکر کی توفیق ملے اور اطاعت گزاری کر سکو۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ آیات واقعۂ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اس کا قصہ معروف ہے جو سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے، اور اس کے درمیان میں بدر کا واقعہ لے آنے میں غالباً یہ حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا، اور دشمن کی سازشوں سے انھیں محفوظ فرمائے گا۔ یہ ایک عام حکم اور سچا وعدہ تھا، جس کی شرائط پوری کی جاتیں تو اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تھا۔ ان دو قصوںمیں اس کا ایک نمونہ پیش فرما دیا کہ اللہ نے بدر میں مسلمانوں کی مدد اس لیے فرمائی تھی کہ انھوں نے صبر کیا اورتقویٰ اختیار کیا، اور احد میں انھیں دشمنوں کے ہاتھوں اس لیے نقصان پہنچا کہ ان میں سے بعض افراد سے ایسی غلطی ہوگئی جو تقویٰ کے منافی تھی، دونوں واقعات اکٹھے بیان کرنے کا یہ مقصد ہے کہ اللہ کو بندوں کا یہ عمل پسند ہے کہ جب انھیں کوئی نا خوشگوار صورت حال پیش آجائے تو انھیں وہ نعمت یاد کرنی چاہیے جو انھیں پسند ہے، تو ان کی مصیبت ہلکی ہوجائے گی اور وہ اس بڑی نعمت پر رب کا شکر کریں گے۔ جس کے مقابلے میں یہ ظاہری مصیبت، جو حقیقت میں نعمت ہی ہے، بڑی نعمت کے مقابلے میں بہت معمولی محسوس ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں اسی حکمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ﴿ اَوَلَمَّؔاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا ﴾ ”کیابات ہے کہ جب تمھیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے۔“
واقعۂ احد کا خلاصہ یہ ہے کہ جب 2ھ میں جنگ بدر کے بعد بچے کھچے مشرکین مکہ پہنچے، تو انھوں نے اپنی طاقت کے مطابق مال، افراد اور اسلحہ کے ساتھ بھرپور تیاری کی، حتیٰ کہ اتنا کچھ جمع ہوگیا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنا مقصود حاصل کرنے اور اپنا غصہ نکالنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ تب وہ تین ہزار جنگجو افراد کا لشکر لے کر مکہ سے روانہ ہوئے اور مدینہ کے قریب آٹھہرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا، تو طے پایا کہ شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہزار آدمی لے کر روانہ ہوئے۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد عبداللہ بن ابی (منافق) اپنے جیسے تین سو افراد لے کر واپس پلٹ گیا۔ اس طرح اسلامی لشکر کی تعداد میں ایک تہائی مقدار کی کمی ہوگئی۔ مومنوں کے دو گروہ بھی پلٹ جانے کا سوچنے لگے۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے قبائل تھے۔ اللہ نے انھیں ثابت قدمی عطا فرمائی۔ جب احد کے مقام پر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کو ترتیب دے کر ان کے مختلف دستے اپنے اپنے مقام پر متعین فرمائے۔ احد کا پہاڑ ان کی پشت کی طرف تھا۔ انھوں نے اپنی پیٹھیں احد کی طرف رکھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس صحابہ کرام کو احد کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا، اور انھیں حکم دیا کہ وہیں ٹھہرے رہیں، اور وہ جگہ نہ چھوڑیں، تاکہ پیچھے سے دشمن کے حملہ کا خطرہ نہ رہے۔ جب مسلمانوں اور مشرکوں کے مابین جنگ ہوئی تو مشرکوں کو بری طرح شکست ہوئی، وہ اپنی لشکر گاہ کو پیچھے چھوڑ گئے۔ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کرکے انھیں قتل اور قید کرنا شروع کردیا۔ جن تیر اندازوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ پر متعین فرمایا تھا، جب انھوں نے یہ صورت حال دیکھی تو (انھوں نے سوچا کہ اب ہمارا فرض مکمل ہوگیا ہے، اس لیے) انھوں نے آپس میں کہا، غنیمت! غنیمت! ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں جبکہ مشرکین شکست کھاچکے ہیں۔ ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے انھیں نصیحت فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی نہ کریں۔ لیکن دوسروں نے اس طرف توجہ نہ دی۔ جب انھوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور وہاں صرف چند افراد رہ گئے، تو مشرکین کا گھڑسوار دستہ اس گھاٹی سے آگیا اور مسلمانوں کے پیچھے آکر لشکر کے پچھلے دستے پر حملہ کردیا۔ تب مسلمان کچھ ادھر ادھر ہوئے، جو اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی۔ جس سے ان کے گناہ معاف ہوئے، اور تعمیل حکم میں کوتاہی کی سزا مل گئی۔ اس کے نتیجے میں جن کی قسمت میں شہادت تھی، وہ شہید ہوگئے۔ آخرکار مسلمان جبل احد کی چوٹی کی طرف جمع ہوگئے۔اللہ نے مشرکین کے ہاتھوں کو روک دیا اور وہ لوگ اپنے وطن کی طرف لوٹ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ ﴾ ”اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ اپنے گھر سے نکلے“ اس مقام پر (غدوت) کامطلب ”مطلقاً نکلنا ہے“ صبح کے وقت نکلنا نہیں۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمعہ کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ تُبَوِّئُ الْ٘مُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ ﴾ ”مومنوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر باقاعدہ بٹھا رہے تھے“ یعنی آپ انھیں ترتیب دے رہے تھے۔ اور ہر ایک کو اس مقام پر ٹھہرا رہے تھے جو اس کے لیے مناسب تھا۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم تعریف ہے کہ آپ بنفس نفیس ان کو منظم فرما رہے تھے اور جنگ کے لیے مناسب مقامات پر ٹھہرا رہے تھے۔ اس کی وجہ آپ کے علم و فراست کا کمال، دور اندیشی اور بلند ہمتی تھی۔ علاوہ ازیں آپ کامل شجاعت سے بہرہ ور تھے، صلوات اللہ وسلامہ علیہ ﴿وَاللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴾ ”اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے“ جو ہر بات سنتا ہے۔ مومنوں کی باتیں بھی سنتا ہے اور منافقوں کی بھی۔ ہر ایک کی بات چیت سے اس کے دل کے جذبات، احساسات اور خیالات ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ بندوں کی نیتوں کو جانتا ہے، وہ ان کے مطابق انھیں مکمل بدلہ عطا فرماتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ مطلب بھی ہے کہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ تمھاری حفاظت کرتاہے۔ تمھارے معاملات سنوارتا ہے۔ اور تمھیں اپنی مدد سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام سے بھی اسی طرح فرمایا تھا: ﴿ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَاَرٰى ﴾ (طٰہٰ:20؍46) ”میں تمھارے ساتھ ہوں، اور سنتا دیکھتا ہوں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وذلك يوم أحد حين خرج - صلى الله عليه وسلم - بالمسلمين، حين وصل المشركون بجمعهم إلى قريب من أحد، فنزَّلهم - صلى الله عليه وسلم - منازلهم، ورتبهم في مقاعدهم، ونظمهم تنظيماً عجيباً، يدل على كمال رأيه وبراعته الكاملة في علوم السياسة، كما كان كاملاً في كل المقامات، {والله سميع عليم}؛ لا يخفى عليه شيء من أموركم.