تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
ابن ابی حاتم ہی نے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اہل حیرہ سے ایک نوجوان محفوظ رکھنے والا کاتب ہے، آپ اسے کاتب (سیکرٹری) رکھ لیں۔ فرمایا: ”پھر تو میں مومنوں کے سوا { ”بِطَانَةً“ } (راز دار) بنانے والا ہوں گا۔“ [ابن أبی حاتم: 147/3، ح: ۴۰۸۷] ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے پاس ایک نصرانی کاتب ہے۔“ انھوں نے فرمایا: ”اللہ تجھے مارے، یہ تم نے کیا کیا؟ کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِيَآءَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ» [المائدۃ: ۵۱] تم نے کسی مسلمان کو کیوں نہیں رکھا؟“ میں نے عرض کی: ”اے امیر المومنین! مجھے اس کی کتابت سے غرض ہے، اس کا دین اس کے لیے ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب اللہ نے انھیں رسوا کر دیا ہے تو میں ان کی تکریم نہیں کر سکتا، جب اللہ نے انھیں ذلیل کیا ہے تو میں انھیں عزت نہیں دے سکتا، جب اللہ نے انھیں دور کر دیا ہے تو میں انھیں قریب نہیں کر سکتا۔“ [السنن الکبریٰ للبیہقی: 127/10، ح: ۲۰۹۱۱، وھو حسن]
{ ”مِنْ دُوْنِكُمْ“ } (اپنے سوا) کے الفاظ عام ہیں، یہود و نصاریٰ، منافقین اور مشرکین سبھی { ”مِنْ دُوْنِكُمْ“ } میں داخل ہیں، اس لیے انتظامی امور میں کسی منافق یا غیر مسلم (ذمی) کو متعین کرنا ممنوع ہے۔ کیونکہ اس سے مسلمانوں کے راز فاش ہونے کا خطرہ ہے۔ بلکہ مسلمان کے لیے مشرکین کے ملک میں رہنا بھی درست نہیں۔ دیکھیے سورۂ نساء (۹۷، ۹۸)
افسوس کہ اس وقت مسلمان ملکوں کے حکمرانوں نے اللہ کے اس حکم کو پس پشت ڈال رکھا ہے اور غیر مسلم ان کے کلیدی عہدوں پر فائز اور تقریباً تمام اہم رازوں سے آگاہ ہیں، نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
➋ {لَا يَاْلُوْنَكُمْ:} {” أَلَا يَأْلُوْ (ن)“} کمی کرنا، کوتاہی کرنا۔ { ”خَبَالًا“ } خرابی ڈالنا، نقصان پہنچانا۔ {”مَا عَنِتُّم“ ”عَنَتٌ“} مشقت، تکلیف،یعنی ”جس سے تم تکلیف میں پڑو۔“ دلی دوست نہ بنانے کے حکم کی وجہ کی طرف اشارہ ہے، یعنی اگرچہ یہ لوگ اپنی منافقت کی بنا پر تم سے ایسی باتیں نہیں کرنا چاہتے جن سے تمھیں ان کی اسلام دشمنی کا پتا چل سکے، مگر شدید عداوت کی وجہ سے ان کی زبان پر ایسے الفاظ آ ہی جاتے ہیں، جن سے تم اندازہ کر سکتے ہو کہ یہ تمھارے خیر خواہ نہیں بلکہ بدترین دشمن ہیں اور تمھارے خلاف جو جذبات اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں، وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔
➌ {قَدْ بَيَّنَّا …:} یعنی کفار سے دوستی نہ کرنے کے سلسلہ میں یہودیوں اور منافقین کے بغض و عناد اور ان کے دلی حسد سے متعلق ہم نے پتے کی باتیں خوب کھول کر بیان کر دی ہیں۔ اب غور و فکر کرنا تمھارا کام ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ یہاں پر حیرہ کا ایک شخص بڑا اچھا لکھنے والا اور بہت اچھے حافظہ والا ہے آپ اسے اپنا محرر اور منشی مقرر کر لیں آپ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ غیر مومن کو بطانہ بنا لوں گا جو اللہ نے منع کیا ہے،[تفسیر ابن ابی حاتم:500/2]
اس واقعہ کو اور اس آیت کو سامنے رکھ کر ذہن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ذمی کفار کو بھی ایسے کاموں میں نہ لگانا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین کو مسلمانوں کے پوشیدہ ارادوں سے واقف کر دے اور ان کے دشمنوں کو ان سے ہوشیار کر دے کیونکہ ان کی تو چاہت ہی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے۔
لیکن حسن بصری رحمہ اللہ کی یہ تشریح قابل غور ہے حدیث کا ٹھیک مطلب غالباً یہ ہے کہ محمد رسول اللہ عربی خط میں اپنی انگوٹھیوں پر نقش نہ کراؤ، چنانچہ اور حدیث میں صاف ممانعت موجود ہے [صحیح مسلم:2092] ۱؎ یہ اس لیے تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے ساتھ مشابہت نہ ہو اور اول جملے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کے درمیان کی لڑائی کی آگ کو کیا تم نہیں دیکھتے؟ [سنن ابوداود:2645،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
اور حدیث میں ہے جو مشرکوں سے میل جول کرے یا ان کے ساتھ رہے بسے وہ بھی انہی جیسا ہے[سنن ابوداود:2787،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
پھر فرمایا ان کی باتوں سے بھی ان کی عداوت ٹپک رہی ہے ان کے چہروں سے بھی قیافہ شناس ان کی باطنی خباثتوں کو معلوم کر سکتا ہے پھر جو ان کے دلوں میں تباہ کن شرارتیں ہیں وہ تو تم سے مخفی ہیں لیکن ہم نے تو صاف صاف بیان کر دیا ہے عاقل لوگ ایسے مکاروں کی مکاری میں نہیں آتے
اب اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ان شریروں کی شرارت اور ان بدبختوں کے مکر سے اگر نجات چاہتے ہو تو صبرو تقویٰ اور توکل کرو اللہ عزوجل خود تمہارے دشمنوں کو گھیر لے گا کسی بھلائی کے حاصل کرنے، کسی برائی سے بچنے کی کسی میں طاقت نہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہو سکتا جو اس پر توکل کرے اسے وہ کافی ہے۔ اسی مناسبت سے اب جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے جس پر مسلمانوں کے صبرو تحمل کا بیان ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی آزمائش کا پورا نقشہ ہے اور جس میں مومن و منافق کی ظاہری تمیز ہے سنئے ارشاد ہوتا ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا تحذير من الله لعباده عن ولاية الكفار واتخاذهم بطانة أو خصيصة وأصدقاء، يسرون إليهم ويفضون لهم بأسرار المؤمنين، فوضح لعباده المؤمنين الأمور الموجبة للبراءة من اتخاذهم بطانة، بأنهم {لا يألونكم خبالاً} أي حريصون غير مقصرين في إيصال الضرر بكم، وقد بدت البغضاء من كلامهم وفلتات ألسنتهم وما تخفيه صدورهم من البغضاء والعداوة {أكبر} مما ظهر لكم من أقوالهم وأفعالهم، فإن كانت لكم فهوم وعقول فقد وضح الله لكم أمرهم، وأيضاً فما الموجب لمحبتهم واتخاذهم أولياء وبطانة، وقد تعلمون منهم الانحراف العظيم في الدين وفي مقابلة إحسانكم؟ فأنتم مستقيمون على أديان الرسل تؤمنون بكل رسول أرسله الله وبكل كتاب أنزله الله وهم يكفرون بأجلّ الكتب وأشرف الرسل، وأنتم تبذلون لهم من الشفقة والمحبة ما لا يكافئونكم على أقل القليل منه، فكيف تحبونهم وهم لا يحبونكم وهم يداهنونكم وينافقونكم، فإذا لقوكم {قالوا آمنا وإذا خلوا} مع بني جنسهم {عضوا عليكم الأنامل} من شدة الغيظ والبغض لكم ولدينكم، قال تعالى: {قل موتوا بغيظكم}؛ أي: سترون من عز الإسلام وذل الكفر ما يسوءكم، وتموتون بغيظكم فلن تدركوا شفاء ذلك بما تقصدون {إن الله عليم بذات الصدور}؛ فلذلك بين لعباده المؤمنين ما تنطوي عليه صدور أعداء الدين من الكفار والمنافقين.