اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡـًٔا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا نہ کبھی ان کے اموال انھیں اللہ سے (بچانے میں) کچھ کام آئیں گے اور نہ ان کی اولاد ، اور وہی لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
En
جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے غضب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہلِ دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے
En
کافروں کو ان کے مال اور ان کی اوﻻد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی، یہ تو جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 117،116) ➊ {لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ …:} یعنی جو مال خرچ کیا اور اللہ کی رضا پر نہ دیا، آخرت میں دیا نہ دیا برابر ہے۔ (موضح) عام طور پر مصیبت کے وقت اولاد انسان کے کام آتی ہے، مگر اس وقت کفار کی اولاد ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ اوپر کی آیات میں مومن اور متقی کے نیک اعمال کا انجام ذکر فرمایا کہ ان کی ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی بھی ضائع نہیں ہو گی، بلکہ اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا، اب اس آیت میں کافر کے صدقہ و خیرات اور رفاہی کاموں کو آخرت میں بے فائدہ اور ضائع ہونے کے اعتبار سے ان لوگوں کی کھیتی سے تشبیہ دی ہے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، جو کھیتی دیکھنے میں سرسبز و شاداب نظر آئے لیکن یکایک سخت سرد ہوا چلے اور اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دے۔ یہی حال کفار کے صدقہ و خیرات کا ہے، وہ چونکہ ایمان و اخلاص کی دولت سے محروم ہیں، اس لیے آخرت میں ان کے اعمال تباہ و برباد ہو جائیں گے اور انھیں ان اعمال کا کچھ بھی اجر نہیں ملے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ فرقان (۲۳) اور سورۂ نور(۳۹، ۴۰) ہاں کفار کو دنیا ہی میں ان کے اچھے اعمال کا بدلہ مل جائے گا۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۲۰) {”صِرٌّ “} شدید ٹھنڈی ہوا جو کھیتوں کو جلا دے۔ واضح رہے کہ قرآن میں عموماً {”رِيْحٌ“} کا لفظ عذاب کے لیے استعمال ہوا ہے اور {”رِيَاحٌ“} جمع کا لفظ رحمت کے لیے۔ (مفردات) سورۂ یونس (۲۲) میں {”رِيْحٌ“} کا لفظ موافق ہوا کے لیے آیا ہے: «وَ جَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ» دوسرے مقامات پر عذاب کی ہوا کے لیے آیا ہے۔
➋ {وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ …:} یعنی ان کے اعمال جو ضائع اور برباد ہوئے یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم کیا ہے، بلکہ خود ان کے اپنے اوپر ظلم کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ انھوں نے نہ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں اور کتابوں کی تصدیق کی اور نہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کیے، بلکہ ریاکاری کرتے رہے۔
➋ {وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ …:} یعنی ان کے اعمال جو ضائع اور برباد ہوئے یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم کیا ہے، بلکہ خود ان کے اپنے اوپر ظلم کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ انھوں نے نہ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں اور کتابوں کی تصدیق کی اور نہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کیے، بلکہ ریاکاری کرتے رہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
116۔ بلا شبہ جو لوگ کافر ہوئے ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں کچھ بھی کام نہ آسکیں گے۔ یہی لوگ اہل دوزخ ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ کافروں کو ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی، یعنی اللہ کے عذاب سے بچانے میں یا اللہ سے ثواب کے حصول میں معمولی سا بھی فائدہ نہیں دیں گی۔ جیسے فرمان الٰہی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُؔكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْ٘فٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾ (سبا:34؍37) ”یہ تمھارے مال اور تمھاری اولادیں ايسی نہیں کہ جوتمھیں ہمارا قرب بخش سکیں، لیکن جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے (اسے قرب حاصل ہوگا)“ بلکہ ان کے مال و اولاد جہنم کی طرف سفر میں ان کا زاد راہ ہیں۔ اللہ کی نعمتوں میں اضافے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا شکر ادا کیا جائے، لیکن ان کے لیے یہ چیزیں شکر نہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف حجت ہوں گی، اس لیے ان پر شکر نہ کرنے اور ناشکری کی پاداش میں انھیں سزا دی جائے گی۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰؔلِدُوْنَ ﴾ ”یہ تو جہنمی ہیں، جو ہمیشہ اس میں پڑے رہیں گے۔“ پھر اللہ نے کافروں کے مال خرچ کرنے کے بارے میں ایک مثال بیان فرمائی کہ وہ لوگ مال خرچ کرکے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، تو یہ کوششیں ناکام رہیں گی، جیسے کوئی شخص فصل بوئے اسے اس کانتیجہ ملنے اور اس سے پیداوار حاصل ہونے کی امید ہو، اچانک کھیتی پر ایک سخت ٹھنڈی ہوا چلے جس سے کھیتی تباہ ہوجائے۔ اس کے حصے میں صرف محنت، مشقت اور حسرت و افسوس ہی آئے۔ کافروں کا بھی یہی حال ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ﴾ (الانفال:8؍36) ”بے شک کافر اپنے مال اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کرتے ہیں، یہ خرچ کریں گے، پھر یہ ان کے لیے حسرت کا باعث بن جائیں گے، پھر یہ مغلوب ہوجائیں گے“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ”اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔“ کہ ان کے عمل ضائع کردیے۔ ﴿وَلٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ ﴾ ”بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔“ وہ اس طرح کہ انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کے نورکو بجھانے کی کوشش کی۔ ان بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کی نیکیاں ضائع ہوگئیں اور مال تباہ ہوگئے۔ اس کے بعد فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
بين تعالى أن الكفار الذين كفروا بآيات الله وكذبوا رسله أنه لا ينقذهم من عذاب الله منقذ ولا ينفعهم نافع ولا يشفع لهم عند الله شافع، وأن أموالهم وأولادهم التي كانوا يعدونها للشدائد والمكاره لا تفيدهم شيئاً وأن نفقاتهم التي أنفقوها في الدنيا لنصر باطلهم ستضمحل، وأن مثلها {كمثل}؛ حرث أصابته {ريح}؛ شديدة {فيها صر}؛ أي: برد شديد أو نار محرقة فأهلكت ذلك الحرث وذلك بظلمهم فلم يظلمهم الله، ويعاقبهم بغير ذنب، وإنما ظلموا أنفسهم. وهذه كقوله تعالى: {إن الذين كفروا ينفقون أموالهم ليصدوا عن سبيل الله فسينفقونها ثم تكون عليهم حسرة ثم يغلبون}.