(آیت 115) {وَمَايَفْعَلُوْامِنْخَيْرٍ …:} یعنی اہل کتاب میں سے جو لوگ بھی صفاتِ مذکورہ سے متصف ہو جائیں گے انھیں صرف ان کے بعد کے نیک اعمال کا ثواب ہی نہیں ملے گا بلکہ اسلام میں داخل ہونے سے قبل کی نیکیوں کا اجر بھی حاصل ہو گا۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے: ”تین آدمیوں کو دوہرا اجر ملے گا، ان میں سے ایک اہل کتاب میں سے وہ شخص ہے جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور پھر مجھ پر بھی، تو اسے دو اجر ملیں گے، دوسرا وہ غلام جو کسی کی ملکیت میں ہے، اللہ کا حق ادا کرتا ہے اور اپنے مالکوں کا بھی، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں اور تیسرا وہ آدمی جس نے اپنی لونڈی کو ادب سکھایا اور اچھا ادب سکھایا، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لیا تو اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔“[بخاری، العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ وأھلہ: ۹۷۔ مسلم: ۱۵۴] اور دیکھیے سورۂ حدید (۲۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
115۔ 1 یعنی سارے اہل کتاب ایسے نہیں جن کی مذمت پچھلی آیات میں بیان کی گئی ہے، بلکہ ان میں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے شرف اسلام سے نوازا اور ان میں اہل ایمان وتقویٰ والی خوبیاں پائی جاتی ہیں، رضی اللہ عنھم ورضو عنہ۔ قائمۃ کے معنی ہیں، شریعت کی اطاعت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرنے والی، یسجدون کا مطلب رات کو قیام کرتے یعنی تہجد پڑھتے اور نمازوں میں تلاوت کرتے ہیں۔ اس مقام پر امر بالمعروف کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے سے روکتے ہیں۔ اسی گروہ کا ذکر آگے بھی کیا گیا ہے (وَاِنَّمِنْاَھْلِالْكِتٰبِلَمَنْيُّؤْمِنُباللّٰهِوَمَآاُنْزِلَاِلَيْكُمْوَمَآاُنْزِلَاِلَيْھِمْخٰشِعِيْنَلِلّٰهِ) 3:199
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
115۔ جو بھی بھلائی کا کام وہ کریں گے اسی کی ناقدری [104] نہیں کی جائے گی اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
[104] اسلام لانے سے سابقہ گناہ معاف مگر نیک کاموں کا اجر ملے گا:۔
یعنی اہل کتاب کے منصف مزاج لوگ جو اسلام لے آئے ہیں۔ ان کے اسلام لانے سے پہلے کے اچھے کاموں کا انہیں بدلہ دیا جائے گا۔ کیونکہ اسلام لانے کے دو فائدے ہیں اور وہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام لانے سے پہلے کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اسلام لانے سے پہلے نیک اعمال برقرار رکھے جاتے ہیں، یعنی دور کفر کے اچھے کاموں کا بھی انہیں ثواب عطا کیا جائے گا۔ اور کافروں کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ یعنی ان کی نیکیاں برباد اور گناہ لازم ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔