(آیت 108) {وَمَااللّٰهُيُرِيْدُظُلْمًالِّلْعٰلَمِيْنَ:} یعنی جہاد اور امر بالمعروف کا جو حکم فرمایا یہ مخلوق پر ظلم نہیں، اس میں ان کی تربیت ہے۔ (موضح) جب اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم اور ہر چیز پر قدرت حاصل ہے تو اسے کسی پر ظلم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
108۔ یہ ہیں اللہ کی آیات، جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ جہان والوں پر ظلم کا کوئی [98] ارادہ نہیں رکھتا
[98] اسی لیے تو اس نے اپنے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے لوگوں کو سیدھا راستہ بتلا دیا ہے اور اس بات سے آگاہ کر دیا ہے کہ آخرت میں وہ کن امور کی باز پرس کرنے والا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار نہ کریں یا اپنے غلط طرز عمل یا معاندانہ روش سے بازنہ آئیں تو وہ اپنے آپ پر خود ظلم کرنے والے ہیں۔
ظلم کا مفہوم:۔
لفظ ظلم بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے اور اس کی ضد عدل ہے اور اللہ تعالیٰ عادل ہے۔ ظالم نہیں۔ اس لئے اس سے ایسے افعال کا صدور ممکن ہی نہیں جس میں ظلم کا شائبہ تک پایا جاتا ہو۔ مثلاً وہ کسی مستحق رحمت کو سزا دے دے، یا زیادہ اجر کے مستحق کو تھوڑا اجر دے یا کم سزا کے مستحق کو زیادہ سزا دے دے وغیرہ وغیرہ، ایسی سب باتیں اس کی صفت عدل کے منافی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تعالیٰ نے احکام و اوامر بھی بتا دیے اور ان کی جزا بھی بیان فرمادی، تو اس کے بعد فرمایا: ﴿ تِلْكَاٰیٰتُاللّٰهِنَتْلُوْهَاعَلَیْكَبِالْحَقِّ ﴾”یہ اللہ کی آیتیں ہیں، جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک بیان کررہے ہیں“ کیونکہ اس کے اوامر و نواہی حکمت و رحمت پر اور جزا و سزا پر مشتمل ہیں۔ اس طرح وہ حکمت و رحمت پر اور عدل پر مشتمل ہیں جن میں ظلم کا کوئی شائبہ نہیں“ اس لیے فرمایا: ﴿ وَمَااللّٰهُیُرِیْدُظُلْمًالِّلْ٘عٰلَمِیْنَ ﴾”اور اللہ کا ارادہ لوگوں پر ظلم کرنے کا نہیں“ ظلم کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اللہ تعالیٰ ظلم کا ارادہ بھی نہیں فرماتا۔ لہٰذا کسی کی نیکیوں میں کمی نہیں کرتا، اور ظالموں کے ظلم میں اضافہ نہیں فرماتا، بلکہ صرف ان کے کیے ہوئے اعمال کی سزا دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يثني تعالى على ما قصه على نبيه من آياته التي حصل بها الفرقان بين الحق والباطل وبين أولياء الله وأعدائه، وما أعده لهؤلاء من الثواب وللآخرين من العقاب، وأن ذلك مقتضى فضله وعدله وحكمته، وأنه لم يظلم عباده ولم ينقصهم من أعمالهم أو يعذب أحداً بغير ذنبه أو يحمل عليه وزر غيره. ولما ذكر أن له الأمر والشرع ذكر أن له تمام الملك والتصرف والسلطان فقال:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔