ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 108

تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ مَا اللّٰہُ یُرِیۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾
یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تجھ پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اللہ جہانوں پر کوئی ظلم نہیں چاہتا۔ En
یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو صحت کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں اور خدا اہلِ عالم پر ظلم نہیں کرنا چاہتا
En
اے نبی! ہم ان حقانی آیتوں کی تلاوت آپ پر کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا اراده لوگوں پر ﻇلم کرنے کا نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 108) {وَ مَا اللّٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِيْنَ:} یعنی جہاد اور امر بالمعروف کا جو حکم فرمایا یہ مخلوق پر ظلم نہیں، اس میں ان کی تربیت ہے۔ (موضح) جب اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم اور ہر چیز پر قدرت حاصل ہے تو اسے کسی پر ظلم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ (ابن کثیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

108۔ یہ ہیں اللہ کی آیات، جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ جہان والوں پر ظلم کا کوئی [98] ارادہ نہیں رکھتا
[98] اسی لیے تو اس نے اپنے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے لوگوں کو سیدھا راستہ بتلا دیا ہے اور اس بات سے آگاہ کر دیا ہے کہ آخرت میں وہ کن امور کی باز پرس کرنے والا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار نہ کریں یا اپنے غلط طرز عمل یا معاندانہ روش سے بازنہ آئیں تو وہ اپنے آپ پر خود ظلم کرنے والے ہیں۔
ظلم کا مفہوم:۔
لفظ ظلم بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے اور اس کی ضد عدل ہے اور اللہ تعالیٰ عادل ہے۔ ظالم نہیں۔ اس لئے اس سے ایسے افعال کا صدور ممکن ہی نہیں جس میں ظلم کا شائبہ تک پایا جاتا ہو۔ مثلاً وہ کسی مستحق رحمت کو سزا دے دے، یا زیادہ اجر کے مستحق کو تھوڑا اجر دے یا کم سزا کے مستحق کو زیادہ سزا دے دے وغیرہ وغیرہ، ایسی سب باتیں اس کی صفت عدل کے منافی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔