ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 1

الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾
الم۔ En
الم
En
الم En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

{سورة العنكبوت}
(آیت 1) { الٓمّٓ:} حروف مقطعات کی بحث سورۂ بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

ا لم

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ الف۔ لام۔ میم

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

امتحان اور مومن ٭٭
حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزر چکی ہے۔
پھر فرماتا ہے: یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح نیک لوگوں کا، پھر ان سے کم درجے والے، پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے اندازے پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:142]‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے؟ ‘
اسی طرح سورۃ برات اور سورۃ بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ ’ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے۔ جیسے کہ انہیں بھوک، دکھ، درد وغیرہ پہنچے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:214]‏‏‏‏
یہاں بھی فرمایا: ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی، انہیں بھی سرد و گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صرف زبانی دعوے کرتے ہیں، ان میں تمیز ہو جائے۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہو چکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے۔ پس یہاں علم روایت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما «لِنَعْلَمَ» کے معنی «لِنَرَى» کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور علم اس سے عام ہے۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے۔ ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔ ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ یہ اس کی حکمت کا تقاضا نہیں کہ جس کسی نے کہہ دیا کہ وہ مومن ہے اور وہ ایمان کا دعویٰ کرے … اسے ایسی حالت میں باقی رکھا جائے کہ جس میں وہ آزمائش و ابتلا سے سلامت رہے گا اور اسے کوئی ایسا امر پیش نہیں آئے گا جو اس کے ایمان اور اس کی فروع کو مضطرب کرے اور اگر معاملہ اسی طرح ہو تو سچے اور جھوٹے، حق اور باطل میں امتیاز نہیں ہو سکتا لیکن اس کی عادت یہ رہی ہے کہ وہ اہل ایمان کو خوشحالی اور تنگدستی، راحت اور مشقت، بشاشت اور ناگواری، فراخی اور محتاجی، بعض اوقات دشمنوں کی فتح و غلبہ اور دشمنوں کے خلاف قول و فعل کے ساتھ جہاد وغیرہ جیسی آزمائشوں کے ذریعے سے آزماتا ہے جو تمام تر شبہات کے فتنے کی طرف لوٹتی ہیں جو عقیدہ کی معارض ہیں اور شہوات کی طرف لوٹتی ہیں، جو ارادے کی معارض ہیں۔
شبہات کے وارد ہونے کے وقت جس کسی کا ایمان مضبوط رہتا ہے اور متزلزل نہیں ہوتا اور اس حق کے ذریعے سے شبہات کو دور کرتا ہے جو اس کے پاس ہے اور ان شہوات کے وارد ہونے کے وقت… جو گناہ اور معاصی کے موجب اور داعی ہیں یا وہ اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم سے روگرداں کرتے ہیں … ایمان کے تقاضوں پر عمل کرتا ہے، اپنی شہوات کے خلاف جدوجہد کرتا ہے یہ چیز اس کے ایمان کی صداقت اور صحت پر دلالت کرتی ہے۔ شبہات کے وارد ہونے کے وقت جس کسی کے دل میں شک وریب جڑ پکڑ لیتا ہے اور شہوات کے پیش آنے پر شہوات اسے گناہوں کی طرف موڑ دیتی یا واجبات کی ادائیگی سے روک دیتی ہیں تو یہ چیز اس کے ایمان کی عدم صحت اور عدم صداقت پر دلالت کرتی ہے۔
اس مقام پر لوگ بہت سے درجات میں منقسم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا کچھ لوگوں کے پاس بہت قلیل ایمان اور کچھ لوگ اس سے بہت زیادہ سے بہرہ ور ہیں۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دنیا و آخرت کی زندگی میں قول ثابت کے ذریعے سے ثابت قدمی عطا کرے اور ہمیں اپنے دین پر ثبات سے سرفراز کرے۔ ابتلا اور امتحان نفوس انسانی کے لیے ایک بھٹی کی مانند ہے جو اچھی چیز میں سے گندگی اور میل کچیل کو نکال باہر کرتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن تمام حكمتِهِ، وأنَّ حكمته لا تقتضي أنَّ كلَّ مَنْ قال إنَّه مؤمنٌ وادَّعى لنفسه الإيمان؛ أن يَبْقَوا في حالة يَسْلَمون فيها من الفتن والمحن، ولا يَعْرِضُ لهم ما يشوِّش عليهم إيمانَهم وفروعه؛ فإنَّهم لو كان الأمر كذلك؛ لم يتميَّزِ الصادقُ من الكاذب والمحقُّ من المبطل، ولكن سنَّته وعادته في الأولين وفي هذه الأمة أنْ يَبْتَلِيَهُم بالسرَّاء والضرَّاء والعسر واليسر والمنشط والمكره والغنى والفقر وإدالةِ الأعداء عليهم في بعض الأحيان ومجاهدةِ الأعداء بالقول والعمل ونحو ذلك من الفتن، التي ترجِعُ كلُّها إلى فتنة الشبهات المعارِضَة للعقيدة والشهواتِ المعارضة للإرادة؛ فمن كان عند ورودِ الشُّبُهات يَثْبُتُ إيمانُه ولا يتزلزل ويدفَعُها بما معه من الحقِّ، وعند ورود الشهواتِ الموجبة والداعية إلى المعاصي والذُّنوب أو الصارفة عن ما أمر اللهُ به ورسولُه، يعملُ بمقتضى الإيمان ويجاهدُ شهوتَه؛ دلَّ ذلك على صدق إيمانِهِ وصحَّته، ومن كان عند ورود الشُّبُهات تؤثِّر في قلبه شكًّا وريباً، وعند اعتراض الشهواتِ تَصْرِفُه إلى المعاصي أو تَصْدِفُه عن الواجبات؛ دلَّ ذلك على عدم صحَّة إيمانه وصدقه. والناس في هذا المقام درجاتٌ لا يحصيها إلاَّ الله؛ فمستقلٌّ ومستكثرٌ. فنسألُ الله تعالى أن يُثَبِّتَنا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة، وأن يثبِّتَ قلوبَنا على دينه؛ فالابتلاءُ والامتحانُ للنفوس بمنزلة الكيرِ يُخْرِجُ خَبَثَها وطيبَها.