تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ان آیات میں رات کا ذکر دن سے پہلے فرمایا، کیونکہ رات کے بعد دن آنے کی نعمت بہت بڑی نعمت ہے۔ انسان کی معیشت کا سارا سلسلہ اسی پر موقوف ہے۔ علاوہ ازیں رات ایک طرح کا عدم ہے اور ضیاء وجود اور ظاہر ہے کہ عدم وجود سے پہلے ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی طرح اگر وہ تم پر دن ہی دن کو روک دے رات آئے ہی نہیں تو بھی تمہاری زندگی تلخ ہو جائے۔ بدن کا نظام الٹ پلٹ ہو جائے تھک جاؤ تنگ ہو جاؤ کوئی نہیں جسے قدرت ہو کہ وہ رات لاسکے جس میں تم راحت و آرام حاصل کر سکو لیکن تم آنکھیں رکھتے ہوئے اللہ کی ان نشانیوں اور مہربانیوں کو دیکھتے ہی نہیں ہو۔ یہ بھی اس کا احسان ہے کہ اس نے دن رات دونوں پیدا کر دئیے ہیں کہ رات کو تمہیں سکون و آرام حاصل ہو اور دن کو تم کام کاج تجارت ذراعت سفر شغل کر سکو۔
تمہیں چاہیئے کہ تم اس مالک حقیقی اس قادر مطلق کا شکر ادا کرو رات کو اس کی عبادتیں کرو رات کے قصور کی تلافی دن میں اور دن کے قصور کی تلافی رات میں کر لیا کرو۔ یہ مختلف چیزیں قدرت کے نمونے ہیں اور اس لیے ہیں کہ تم نصیحت وعبرت سیکھو اور رب کا شکر کرو۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا امتنانٌ من الله على عبادِهِ؛ يدعوهم به إلى شكرِهِ والقيام بعبوديتِهِ وحقِّه أنْ جَعَلَ لهم من رحمته النهارَ ليبتغوا من فضل الله وينتشروا لطلبِ أرزاقهم ومعايِشِهم في ضيائه، والليلَ ليهدؤوا فيه ويسكُنوا وتستريحَ أبدانُهم وأنفسُهم من تعب التصرُّف في النهار؛ فهذا من فضلِهِ ورحمتِهِ بعبادِهِ؛ فهل أحدٌ يقدرُ على شيءٍ من ذلك فلو جَعَلَ {عليكُمُ الليلَ سرمداً إلى يوم القيامةِ من إلهٌ غيرُ الله يأتيكم بضياءٍ أفلا تسمعونَ}: مواعظَ الله وآياتِهِ سماعَ فهم وقَبول وانقيادٍ، ولو {جعل عليكم النَّهار سرمداً إلى يوم القيامة من إلهٌ غيرُ الله يأتيكم بليل تسكُنون فيه أفلا تُبْصِرونَ}: مواقع العِبَرِ ومواضع الآياتِ فتستنير بصائرُكُم وتسلكون الطريق المستقيم، وقال في الليل: {أفلا تسمعونَ}، وفي النهار: {أفلا تبصرون}؛ لأن سلطانَ السمع في الليل أبلغُ من سلطانِ البصرِ، وعكسُه النهار.
وفي هذه الآيات تنبيهٌ إلى أنَّ العبد ينبغي له أن يتدبَّر نعم الله عليه، ويستبصرَ فيها، ويقيسَها بحال عدمِها؛ فإنَّه إذا وازنَ بين حالة وجودِها وبين حالةِ عدمِها؛ تنبَّه عقلُه لموضع المنَّةِ؛ بخلاف مَنْ جرى مع العوائدِ، ورأى أنَّ هذا أمرٌ لم يزلْ مستمرًّا ولا يزالُ، وعمي قلبُه عن الثناء على الله بنعمِهِ ورؤيةِ افتقارِهِ إليها في كلِّ وقت؛ فإنَّ هذا لا يحدثُ له فكرة شكرٍ ولا ذكرٍ.