ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 71

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمُ الَّیۡلَ سَرۡمَدًا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَنۡ اِلٰہٌ غَیۡرُ اللّٰہِ یَاۡتِیۡکُمۡ بِضِیَآءٍ ؕ اَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ ﴿۷۱﴾
کہہ کیا تم نے دیکھا اگر اللہ تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمھارے پاس کوئی روشنی لے آئے؟ تو کیا تم نہیں سنتے۔ En
کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات (کی تاریکی) کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے ہے جو تم کو روشنی لا دے تو کیا تم سنتے نہیں؟
En
کہہ دیجئے! کہ دیکھو تو سہی اگر اللہ تعالیٰ تم پر رات ہی رات قیامت تک برابر کر دے تو سوائے اللہ کے کون معبود ہے جو تمہارے پاس دن کی روشنی ﻻئے؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 72،71) ➊ {قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ …: اَرَءَيْتُمْ } کا لفظی معنی ہے کیا تم نے دیکھا۔ عرب اسے {أَخْبِرُوْنِيْ} (مجھے بتاؤ) کے معنی میں استعمال کرتے ہیں، یعنی تم نے دیکھا ہے تو بتاؤ۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کی ایک اور دلیل اور اس کی نعمتوں میں سے ایک اور نعمت، جس پر وہ حمد کا مستحق ہے، رات دن کا بدلنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ [آل عمران: ۱۹۰] بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں عقلوں والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔ فرمایا: یہ بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ رات کر دے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمھارے پاس کوئی روشنی لے آئے، خواہ کسی قسم کی ہو یا کتنی معمولی ہو۔ ({بِضِيَآءٍ} کی تنوین تنکیر و تقلیل کے لیے ہے) یہاں اللہ تعالیٰ نے { اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ } (تو کیا تم سنتے نہیں) ذکر فرمایا، جب کہ اگلی آیت میں { اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ } (تو کیا تم نہیں دیکھتے) فرمایا۔ ابن ہبیرہ نے فرمایا: اس کی حکمت یہ ہے کہ سمع کی سلطنت رات کو ہوتی ہے اور بصر کی دن کو (رات کی تاریکی میں کان سنتے ہیں، آنکھ نہیں دیکھتی اور دن کی روشنی کے ذریعے سے آنکھ دیکھتی ہے، کان نہیں سنتے)۔ (بقاعی) یعنی رات کی اس تاریکی میں، جو ہمیشہ کے لیے قیامت تک مسلط ہو، یہ بات تمھارے کان سن سکتے ہیں کہ اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمھارے پاس کسی بھی طرح کی تھوڑی سے تھوڑی روشنی ہی لے آئے؟ تو کیا تم سنتے نہیں کہ سن کر سمجھو اور سمجھ کر اللہ کی توحید پر ایمان لے آؤ۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ کے لیے دن کر دے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمھارے پاس کوئی رات لے آئے جس میں تم راحت اور سکون پاسکو۔
➋ ان آیات میں رات کا ذکر دن سے پہلے فرمایا، کیونکہ رات کے بعد دن آنے کی نعمت بہت بڑی نعمت ہے۔ انسان کی معیشت کا سارا سلسلہ اسی پر موقوف ہے۔ علاوہ ازیں رات ایک طرح کا عدم ہے اور ضیاء وجود اور ظاہر ہے کہ عدم وجود سے پہلے ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

71۔ آپ ان سے پوچھئے: بھلا دیکھو تو! اگر اللہ قیامت کے دن تک ہمیشہ تم پر رات ہی طاری کر دیتا تو اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے جو تمہیں روشنی لا دیتا؟ کیا تم سنتے نہیں“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سنی ان سنی نہ کرو ٭٭
اللہ کا احسان دیکھو کہ بغیر تمہاری کوشش اور تدبیر کے دن اور رات برابر آگے پیچھے آ رہے ہیں اگر رات ہی رات رہے تو تم عاجز آ جاؤ تمہارے کام رک جائیں تم پر زندگی وبال ہو جائے تم تھک جاؤ اکتا جاؤ کسی کو نہ پاؤ جو تمہارے لیے دن نکال سکے کہ تم اس کی روشنی میں چلو پھرو، دیکھو بھالو اپنے کام کاج کر لو۔ افسوس تم سنا کر بھی بے سنا کر دیتے ہو۔
اسی طرح اگر وہ تم پر دن ہی دن کو روک دے رات آئے ہی نہیں تو بھی تمہاری زندگی تلخ ہو جائے۔ بدن کا نظام الٹ پلٹ ہو جائے تھک جاؤ تنگ ہو جاؤ کوئی نہیں جسے قدرت ہو کہ وہ رات لاسکے جس میں تم راحت و آرام حاصل کر سکو لیکن تم آنکھیں رکھتے ہوئے اللہ کی ان نشانیوں اور مہربانیوں کو دیکھتے ہی نہیں ہو۔ یہ بھی اس کا احسان ہے کہ اس نے دن رات دونوں پیدا کر دئیے ہیں کہ رات کو تمہیں سکون و آرام حاصل ہو اور دن کو تم کام کاج تجارت ذراعت سفر شغل کر سکو۔
تمہیں چاہیئے کہ تم اس مالک حقیقی اس قادر مطلق کا شکر ادا کرو رات کو اس کی عبادتیں کرو رات کے قصور کی تلافی دن میں اور دن کے قصور کی تلافی رات میں کر لیا کرو۔ یہ مختلف چیزیں قدرت کے نمونے ہیں اور اس لیے ہیں کہ تم نصیحت وعبرت سیکھو اور رب کا شکر کرو۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر احسان ہے۔ وہ ان کو اس احسان پر شکر ادا کرنے، اس کی عبودیت اور حق کو قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ بے شک اس نے اپنی بے پایاں رحمت کی وجہ سے ان کے لیے دن بنایا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کریں اوردن کی روشنی میں اپنے رزق اور معیشت کی طلب میں زمین میں پھیل جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رات پیدا کی تاکہ وہ اس میں سکون پائیں ان کے بدن، دن بھر کی تگ و دو کے بعد آرام کر کے تھکاوٹ کو دور کریں۔ یہ بندوں پر اس کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے… کیا مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی ہے جو ایسا کرنے پر قادر ہو؟
﴿ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَ٘اْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَ٘سْمَعُوْنَ اگر اللہ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ رات ہی طاری کردےتو اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے جو تمھیں روشنی لادیتا کیا تم سنتے نہیں؟ اللہ کی نصیحتوں اور آیتوں کو سمجھنے اور قبول کرنے کی غرض سے؟ اور ﴿عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَ٘اْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُ٘بْصِرُوْنَ اگر اللہ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ دن ہی طاری کر دے تو اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے جو تمھارے لیے رات لے آتا جس میں تم آرام کرسکتے کیا تم دیکھتے نہیں عبرت کے مواقع اور آیات الٰہی کے جگہیں تاکہ تمھاری بصیرت روشن رہے اور تم صراط مستقیم پر گامزن رہو۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے رات کی آیت مبارکہ میں فرمایا: ﴿ اَفَلَا تَ٘سْمَعُوْنَ کیا تم سنتے نہیں؟ اور دن کی آیت مبارکہ میں فرمایا: ﴿ اَفَلَا تُ٘بْصِرُوْنَ کیا تم دیکھتے نہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کے وقت سماعت کا حاسہ، بصارت کے حاسہ کی نسبت زیادہ قوی ہوتا ہے اور دن کے وقت بصارت کا حاسہ زیادہ قوی ہوتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غوروفکر کرے، ان میں بصیرت حاصل کرے اور ان کے وجود اور عدم وجود کے مابین موازنہ کرے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وجود اور ان کے عدم وجود کے مابین موازنہ کرے گا تو اس کی عقل کو اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت پر تنبہ حاصل ہو گا۔ اس کے برعکس جو کوئی عادت کی پیروی کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جو ہمیشہ سے اسی طرح چلا آ رہا ہے اور اسی طرح چلتا رہے گا اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کی حمدوثنا سے خالی اور اس حقیقت کی رؤیت سے بے بہرہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے… تو وہ ایسا شخص ہے جس کے دل میں کبھی شکر اور ذکر کا خیال پیدا نہیں ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا امتنانٌ من الله على عبادِهِ؛ يدعوهم به إلى شكرِهِ والقيام بعبوديتِهِ وحقِّه أنْ جَعَلَ لهم من رحمته النهارَ ليبتغوا من فضل الله وينتشروا لطلبِ أرزاقهم ومعايِشِهم في ضيائه، والليلَ ليهدؤوا فيه ويسكُنوا وتستريحَ أبدانُهم وأنفسُهم من تعب التصرُّف في النهار؛ فهذا من فضلِهِ ورحمتِهِ بعبادِهِ؛ فهل أحدٌ يقدرُ على شيءٍ من ذلك فلو جَعَلَ {عليكُمُ الليلَ سرمداً إلى يوم القيامةِ من إلهٌ غيرُ الله يأتيكم بضياءٍ أفلا تسمعونَ}: مواعظَ الله وآياتِهِ سماعَ فهم وقَبول وانقيادٍ، ولو {جعل عليكم النَّهار سرمداً إلى يوم القيامة من إلهٌ غيرُ الله يأتيكم بليل تسكُنون فيه أفلا تُبْصِرونَ}: مواقع العِبَرِ ومواضع الآياتِ فتستنير بصائرُكُم وتسلكون الطريق المستقيم، وقال في الليل: {أفلا تسمعونَ}، وفي النهار: {أفلا تبصرون}؛ لأن سلطانَ السمع في الليل أبلغُ من سلطانِ البصرِ، وعكسُه النهار.

وفي هذه الآيات تنبيهٌ إلى أنَّ العبد ينبغي له أن يتدبَّر نعم الله عليه، ويستبصرَ فيها، ويقيسَها بحال عدمِها؛ فإنَّه إذا وازنَ بين حالة وجودِها وبين حالةِ عدمِها؛ تنبَّه عقلُه لموضع المنَّةِ؛ بخلاف مَنْ جرى مع العوائدِ، ورأى أنَّ هذا أمرٌ لم يزلْ مستمرًّا ولا يزالُ، وعمي قلبُه عن الثناء على الله بنعمِهِ ورؤيةِ افتقارِهِ إليها في كلِّ وقت؛ فإنَّ هذا لا يحدثُ له فكرة شكرٍ ولا ذكرٍ.