ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 63

قَالَ الَّذِیۡنَ حَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡقَوۡلُ رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ اَغۡوَیۡنَا ۚ اَغۡوَیۡنٰہُمۡ کَمَا غَوَیۡنَا ۚ تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَیۡکَ ۫ مَا کَانُوۡۤا اِیَّانَا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿۶۳﴾
وہ لوگ کہیں گے جن پر بات ثابت ہو چکی، اے ہمارے رب! یہ ہیں وہ لوگ جنھیں ہم نے گمراہ کیا، ہم نے انھیں اسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم گمراہ ہوئے، ہم تیرے سامنے بری ہونے کا اعلان کرتے ہیں، یہ ہماری توعبادت نہیں کرتے تھے۔ En
(تو) جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اور جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے اسی طرح اُن کو گمراہ کیا تھا (اب) ہم تیری طرف (متوجہ ہوکر) اُن سے بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے
En
جن پر بات آچکی وه جواب دیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! یہی وه ہیں جنہیں ہم نے بہکا رکھا تھا، ہم نے انہیں اسی طرح بہکایا جس طرح ہم بہکے تھے، ہم تیری سرکار میں اپنی دست برداری کرتے ہیں، یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 63) ➊ {قَالَ الَّذِيْنَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ:} بات ثابت ہو چکی سے مراد ہے عذاب کی بات ثابت ہو چکی جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ [السجدۃ: ۱۳] اور لیکن میری طرف سے بات پکی ہو چکی کہ یقینا میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا۔ اور جن پر عذاب کی بات ثابت ہو چکی سے مراد شیاطین یا وہ بڑے بڑے پیشوا، سردار، لیڈر اور پیرفقیر قسم کے لوگ ہیں جن کو لوگوں نے دنیا میں { اَرْبَابًا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ} بنا لیا تھا اور جن کی بات کے مقابلے میں وہ اللہ اور اس کے رسولوں کی بات کو رد کر دیا کرتے تھے۔ وہ کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تو حلال سمجھتے، حرام کہہ دیتے تو حرام سمجھتے، یہ ان کو اللہ کے سوا رب اور اللہ کے شریک بنانا تھا۔ جن پیشواؤں نے لوگوں کو اپنی بندگی پر لگایا تھا اور جن پر عذاب کا فیصلہ ہو چکا ہو گا وہ کہیں گے اے ہمارے رب! …۔
➋ {رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ اَغْوَيْنَا …:} یعنی جنھیں اللہ کے شریک بنایا گیا تھا، وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! یہ ہیں وہ لوگ جنھیں ہم نے گمراہ کیا۔ ہم نے انھیں ویسے ہی گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے، یعنی گمراہی کی دعوت دینے والوں کی دعوت پر جس طرح ہم اپنی مرضی سے گمراہ ہوئے اسی طرح ہم نے ان کے سامنے گمراہی پیش کی تو یہ اپنی مرضی سے گمراہ ہوئے، نہ ہم پر کسی نے جبر کیا تھا اور نہ ہم نے ان پر کوئی زبردستی کی۔
➌ { تَبَرَّاْنَاۤ اِلَيْكَ:} ہم ان کی گمراہی کی ذمہ داری سے بری ہیں۔ اللہ کے سوا جن کی بھی عبادت کی گئی، وہ نیک تھے یا بد، قیامت کے دن اپنی عبادت کرنے والوں سے بری ہو جائیں گے، بلکہ ان کے دشمن ہوں گے۔ دیکھیے سورۂ مریم (۸۱، ۸۲)، احقاف (۵، ۶)، عنکبوت (۲۵) اور سورۂ بقرہ (۱۶۶، ۱۶۷)۔
➍ { مَا كَانُوْۤا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ:} کیونکہ اللہ کے سوا کسی بھی شریک کی پیروی کرنے والے یا اسے پکارنے والے درحقیقت نہ کسی موجود چیز کو پکار رہے ہیں، نہ اس کی پیروی کر رہے ہیں، کیونکہ اللہ کے کسی شریک کا وجود ہے ہی نہیں، وہ محض اپنے خیال اور گمان کی پیروی کر رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ وَ مَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ ‏‏‏‏ [یونس: ۶۶] سن لو! بے شک اللہ ہی کے لیے ہے جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور جو لوگ اللہ کے غیر کو پکارتے ہیں وہ کسی بھی قسم کے شریکوں کی پیروی نہیں کر رہے۔ وہ پیروی نہیں کرتے مگر گمان کی اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ اس لیے جنھیں شریک بنایا گیا تھا وہ صاف کہہ دیں گے کہ یہ ہماری پرستش نہیں کرتے تھے، بلکہ محض اپنے گمان کی پرستش کیا کرتے تھے اور ہمارے بندے نہیں بلکہ اپنے نفس کے بندے بنے ہوئے تھے۔
➎ اس آیت میں یہ بات قابل غور ہے کہ سوال تو ان لوگوں سے ہو گا جنھوں نے شریک بنائے تھے، مگر بول وہ اٹھیں گے جنھیں شریک بنایا گیا تھا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جب عام مشرکین سے سوال ہو گا تو پیشوا اور سردار سمجھ لیں گے کہ اب ہماری شامت آنے والی ہے، ہمارے یہ مرید اور پیروکار ضرور اپنی گمراہی کا ذمہ دار ہمیں ٹھہرائیں گے، اس لیے وہ پہلے ہی اپنی صفائی پیش کرنے لگیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

۔63-1یعنی جو عذاب الٰہی کے مستحق قرار پاچکے ہوں گے، مثلاً سرکش شیاطین اور دعویٰ کفر و شرک وغیرہ وہ کہیں گے۔ -63-2یہ جاہل عوام کی طرف اشارہ ہے جن کو دعویٰ کفر نے اور شیاطین نے گمراہ کیا تھا۔ -63-3یعنی ہم تو تھے ہی گمراہ لیکن ان کو بھی اپنے ساتھ گمراہ کئے رکھا۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان پر کوئی جبر نہیں کیا تھا، بس ہمارے ادنی سے اشارے پر ہماری طرح ہی انہوں نے بھی گمراہی احتیار کرلی۔ -63-4یعنی ہم ان سے بیزار اور الگ ہیں، ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہاں یہ تابع اور متبوع، چیلے اور گرو ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ -63-5بلکہ درحقیقت اپنی خواہشات کی پیروی کرتے تھے۔ یعنی وہ معبودین، جن کی لوگ دنیا میں عبادت کرتے تھے، اس بات سے ہی انکار کردیں گے کہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ اس مضمون کو قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

63۔ اور وہ لوگ اللہ کے مزعومہ شریک) جن پر عذاب کی بات واجب [86] ہو جائے گی: پروردگار! ہم نے ان لوگوں (اپنے پیروؤں) کو گمراہ کیا تھا (اور) انھیں ایسے ہی گمراہ کیا جیسے ہم خود ہی گمراہ تھے۔ اب ہم آپ کے سامنے ان سے برات کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے عبادت [87] نہیں کی تھی۔
[86] اس سے مراد وہ شیاطین جن و انس ہیں جن کی کسی نہ کسی رنگ میں دنیا میں عبادت کی جاتی رہی ہے۔ یہاں عبادت سے مراد محض پوجا پاٹ نہیں بلکہ بندگی اور غلامی ہے۔ یعنی وہ لوگ جو چاہتے تھے کہ اللہ کے احکام کے مقابلہ میں ان کے احکام کی اطاعت کی جائے۔ خواہ یہ دنیوی حکام ہوں یا پیرو مشائخ کی قسم کے لوگ ہوں۔
[87] عابد و معبود دونوں اپنی خواہش کے پیروکار تھے اور معبودوں کا جواب: یعنی سوال تو اللہ مشرکوں سے کرے گا کہ تم نے جو میرے مقابل شریک بنا رکھے تھے وہ کہاں ہیں۔ لیکن وہ مشرک تو ابھی کچھ جواب نہ دینے پائیں گے کہ اس سے پیشتر یہ معبود حضرات خود ہی بول اٹھیں گے اور کہیں گے کہ پروردگار! واقعی ہم ان لوگوں کی گمراہی کا سبب ضرور بنے تھے۔ مگر ہم نے انھیں زبردستی اس بات پر مجبور نہیں کیا تھا۔ بلکہ یہ لوگ بھی ایسے ہی گمراہ ہوئے جیسے ہم خود ہوئے تھے۔ ہمیں بھی ہماری خواہشات نفس کی پیروی نے گمراہ کیا تھا۔ اور انھیں بھی اسی بات میں اپنے مفاد نظر آئے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں۔ اگر یہ ہدایت کی راہ اختیار کرنے والے ہوتے تو ہماری ان پر کچھ زبردستی نہیں تھی۔ لہٰذا یہ لوگ ہرگز ہماری بندگی نہیں کر رہے تھے بلکہ اپنے نفس کی خواہشات کی بندگی کر رہے تھے ہم بھی یہی کچھ کرتے رہے اور یہ بھی وہی کچھ کرتے رہے۔ اس میں ہمارا کیا قصور تھا؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کہاں ہیں تمہارے بت ٭٭
مشرکوں کو قیامت کے دن پکار کر سامنے کھڑا کر کے اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا کہ ’ دنیا میں جنہیں تم میرے سوا پوجتے رہے جن بتوں اور پتھروں کو مانتے رہے ہو وہ کہاں ہیں؟ انہیں پکارو اور دیکھو کہ وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں؟ یا وہ خود اپنی کوئی مدد کر سکتے ہیں؟ ‘ یہ صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہو گا۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاءَ ظُهُوْرِكُمْ وَمَا نَرٰي مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰؤُا لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:94]‏‏‏‏، یعنی ’ ہم تمہیں ویسے ہی تن تنہا اور ایک ایک کر کے لائیں گے جیسے ہم نے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا دلایا تھا وہ سب تم اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے۔ ہم تو آج تمہارے ساتھ کسی سفارشی کو بھی نہیں دیکھتے جنہیں تم شریک الٰہی ٹھیرائے ہوئے تھے۔ تم میں ان میں کوئی لگاؤ نہیں رہا اور تمہارے گمان کردہ شریک سب آج تم سے کھوئے ہوئے ہیں۔ جن پر عذاب کی بات ثابت ہو چکی ‘۔
یعنی شیاطین اور سرکش لوگ اور کفر کے بانی اور شرک کی طرف لوگوں کو بلانے والے یہ سب بڑے بڑے لوگ اس دن کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے انہیں گمراہ کیا اور انہوں نے ہماری کفریہ باتیں سنیں اور مانیں جیسے ہم بہکے ہوئے تھے انہیں بھی بہکایا۔ ہم ان کی عبادت سے تیرے سامنے اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا» الخ ۱؎ [19-مريم:81-82]‏‏‏‏، ’ انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنالئے تاکہ وہ ان کے لیے باعث عزت بنیں لیکن ایسا نہیں ہونے کا یہ تو ان کی عبادت سے بھی انکار کر جائیں گے اور الٹے ان کے دشمن بن جائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ» الخ ۱؎ [46-الأحقاف:5-6]‏‏‏‏، ’ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتا ہے جو قیامت کی گھڑی تک انہیں جواب نہ دے سکیں اور وہ ان کی پکار سے بھی غافل ہوں اور قیامت کے دن لوگوں کے حشر کے موقعہ پر ان کے دشمن بن جائیں اور اس بات سے صاف انکار کر دیں کہ انہوں نے ان کی عبادت کی تھی ‘۔
خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے جن بتوں کی پوجا پاٹ شروع کر رکھی ہے ان سے صرف دنیاکی ہی دوستی ہے قیامت کے دن تو تم سب ایک دوسرے کے منکر ہو جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔‏‏‏‏
اور آیت میں ہے «اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ» الخ ۱؎ [2-البقرة:167-166]‏‏‏‏، یعنی ’ جو تابعداری کرنے والے تھے اور وہ ان کی پرجوش کی تابعداری کرتے رہے مگر یہ ان سے بری اور بیزار ہو جائیں گے یعنی عذابوں کو سامنے دیکھتے ہوئے سب تعلقات ٹوٹ جائیں گے ‘۔
ان سے فرمایا جائے گا کہ ’ دنیا میں جنہیں پوجتے رہے ہو آج انہیں کیوں نہیں پکارتے؟‘ اب یہ پکاریں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ یہ آگ کے عذاب میں جائیں گے اس وقت آرزو کریں گے کہ کاش ہم راہ یافتہ ہوتے؟