(آیت 6) {وَنُمَكِّنَلَهُمْفِيالْاَرْضِ …:} ہامان فرعون کا وزیر تھا، جو ظلم و ستم میں اس کا شریک اور آلہ کار تھا۔ یعنی ہم چاہتے تھے کہ انھیں زمین میں اقتدار بخشیں اور ان کا سِکّہ جما دیں اور فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں نے جس خطرے کی وجہ سے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنا شروع کیا تھا کہ کہیں ان کی تعداد اور قوت اتنی نہ بڑھ جائے کہ وہ ہماری حکومت پر قابض ہو جائیں، بنی اسرائیل ہی کے ذریعے سے وہ خطرہ انھیں حقیقت بنا کر دکھا دیں اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ اللہ کی تقدیر کبھی ٹل نہیں سکتی، نہ اس کے ارادے کو پورا ہونے سے کوئی طاقت روک سکتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَاللّٰهُغَالِبٌعَلٰۤىاَمْرِهٖوَلٰكِنَّاَكْثَرَالنَّاسِلَايَعْلَمُوْنَ }»[یوسف: ۲۱]”اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6-1یہاں زمین سے مراد ارض شام ہے جہاں وہ کنعانیوں کی زمین کے وارث بنے کیونکہ مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل مصر واپس نہیں گئے، واللہ اعلم۔ 6-2یعنی انھیں جو اندیشہ تھا کہ ایک اسرائیلی کے ہاتھوں فرعون کی اور اس کے ملک و لشکر کی تباہی ہوگی، ان کے اس اندیشے کو ہم نے حقیقت کر دکھایا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ اور انھیں اس ملک میں اقتدار بخشیں اور فرعون اور ہامان [8] اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھا دیں [9] جس کا انھیں ان (بنی اسرائیل) سے خطرہ تھا۔
[8] فرعون کا وزیر جو اس ظلم و ستم کا شریک اور آلہ کار بنا ہوا تھا۔ اس کی تفصیل اسی سورۃ میں آگے مذکور ہے۔ [9] یعنی فرعون، ہامان اور ان کے ساتھیوں کی کوشش یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو اتنا کمزور بنا دیا جائے کہ وہ آئندہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہیں۔ اسی غرض سے ان کی نسل ختم کر دینے کی سکیم تیار کی گئی تھی۔ مگر ہم یہ چاہتے تھے کہ جس خطرہ کی روک تھام کے لئے وہ سارے پاپڑ بیل رہے تھے وہی خطرہ ہم ان کی آنکھوں سے انھیں دکھا دیں۔ اور وہ اپنے جیتے جی یہ دیکھ لیں کہ اللہ کی تقدیر کبھی ٹل نہیں سکتی، نہ اسے کوئی طاقت روک سکتی یا اس میں تاخیر پیدا کر سکتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَنُمَؔكِّ٘نَلَهُمْفِیالْاَرْضِ ﴾”اور ملک میں ان کو قدرت دیں۔“ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾”اور“ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِیَفِرْعَوْنَوَهَامٰنَوَجُنُوْدَهُمَا ﴾”فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے) ﴿ مِنْهُمْ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّاكَانُوْایَحْذَرُوْنَ ﴾”وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔“ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔
ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ونمكِّن لهم في الأرض}: فهذه الأمور كلُّها قد تعلَّقت بها إرادة الله وجرتْ بها مشيئتُه. {و}: كذلك نريد أن {نُرِيَ فرعون وهامان}: وزيره {وجنودَهما}: التي بها صالوا، وجالوا وعَلَوا وبَغَوا، {منهم}؛ أي: من هذه الطائفة المستضعفة {ما كانوا يَحْذَرونَ}: من إخراجِهم من ديارهم، ولذلك كانوا يسعَوْن في قمعهم وكسر شوكتهم وتقتيل أبنائهم الذين هم محلُّ ذلك؛ فكل هذا قد أراده الله، وإذا أراد أمراً؛ سهَّل أسبابه ونَهَّجَ طرقه، وهذا الأمر كذلك؛ فإنَّه قدَّر وأجرى من الأسباب ـ التي لم يشعرْ بها لا أولياؤه ولا أعداؤه ـ ما هو سببٌ موصلٌ إلى هذا المقصود.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔