ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغۡوَ اَعۡرَضُوۡا عَنۡہُ وَ قَالُوۡا لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَ لَکُمۡ اَعۡمَالُکُمۡ ۫ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ ۫ لَا نَبۡتَغِی الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۵۵﴾
اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ سلام ہے تم پر، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے۔ En
اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال۔ تم کو سلام۔ ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں
En
اور جب بیہوده بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کناره کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم پر سلام ہو، ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 55) ➊ { وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ:} یعنی جب کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: { وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا } [الفرقان: ۷۲] جب بے ہودہ کام کے پاس سے گزرتے ہیں تو باعزت گزر جاتے ہیں۔
➋ { وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ:} یعنی جب کوئی جاہل بے وقوفی کی کوئی حرکت کرے یا نامناسب بات کرے تو جواب میں ایسی بات یا حرکت نہیں کرتے، بلکہ کہتے ہیں، ہمارے لیے ہمارے عمل ہیں اور تمھارے لیے تمھارے عمل، تم جہالت کرو گے ہم صبر ہی کریں گے۔ مزید دیکھیے سورۂ شوریٰ (۱۵) اور سبا (۲۵، ۲۶)۔
➌ { سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ:} دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا [الفرقان: ۶۳] اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔ جاہلوں کو سلام محبت اور دعا کا سلام نہیں، بلکہ جدائی اور قطع تعلق کا سلام ہے۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ سلام ایمان والوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے دعا ہے اور جاہلوں کا جہل برداشت کرنے کی علامت ہے۔
➍ اس سے معلوم ہوا کہ جس جاہل سے توقع نہ ہو کہ سمجھانے سے سمجھے گا تو اس سے کنارا ہی بہتر ہے۔
➎ { لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ:} یعنی ہم نہ دوستی اور مجلس کے لیے جاہلوں کو چاہتے ہیں، نہ جہالت میں مقابلے یا گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے لیے انھیں چاہتے ہیں، بلکہ دور ہی سے سلام کہہ کر ان سے کنارا کرتے ہیں۔ یہ بات دل میں کہتے ہیں، کیونکہ اونچی کہنے سے تو خواہ مخواہ جھگڑا ہو سکتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

55-1یہاں لغو سے مراد وہ سب و شتم اور دین کے ساتھ استہزاء ہے جو مشرکین کرتے تھے۔ 55-2یہ سلام، سلام تحیہ نہیں بلکہ سلام متارکہ ہے یعنی ہم تم جیسے جاہلوں سے بحث اور گفتگو کے روادار ہی نہیں، جیسے اردو میں بھی کہتے ہیں جاہلوں کو دور ہی سے سلام، ظاہر ہے سلام سے مراد ترک بول چال اور آمنا سامنا ہی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

55۔ اور جب کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں [75] اور کہتے ہیں: ہمارے لئے ہمارے اعمال میں اور تمہارے لئے تمہارے۔ تم پر سلام! ہم جاہلوں سے تعلق نہیں رکھنا چاہتے“
[75] لغو سے کنارہ کرنے والے نومسلم عیسائی اور ابو جہل :۔
ایسے مسلمانوں کی تیسری صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ لغو کاموں یا بے ہودہ باتوں میں نہ صرف یہ کہ ان میں شامل نہیں ہوتے بلکہ ایسے کاموں سے کنارہ کش رہتے ہیں۔ اور اگر ایسے لوگوں سے سابقہ پڑ جائے تو ان سے تعرض نہیں کرتے بلکہ سلام کہہ کر گزر جاتے ہیں جس سے ان کی مراد ایسے کاموں سے بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔ سیرت کی کئی کتابوں میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ ہجرت حبشہ کے بعد جب حبشہ کے لوگ اسلام اور اس کی دعوت سے متعارف ہوئے تو وہاں سے بیس آدمی، جو عیسائی تھے اس غرض کے لئے مکہ آئے کہ یہ تحقیق کریں کہ پیغمبر اسلام کیسے شخص آئے ہیں۔ جب وہ لوگ آپ سے ملے اور گفتگو شروع ہوئی تو آپ نے انھیں قرآن پڑھ کر سنایا جس سے وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور بڑے پرزور طریقہ پر آپ کی تصدیق و تائید کی۔ جب مشرف بہ اسلام ہو کر حبشہ واپس جانے لگے تو ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے ان پر آوازے کسے کہ ایسے احمقوں کا قافلہ آج تک کسی نے نہ دیکھا ہو گا۔ جو ایک شخص کی تحقیق کرنے کے لئے آئے تھے۔ اور اب اس کے غلام بن کر اور اپنا دین چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ انہوں نے جواب میں کہا: ہماری طرف سے تم پر سلام ہے ہم تمہاری جہالت کا جواب جہالت سے نہیں دینا چاہتے۔ ہم میں اور تم میں جو جس حال پر ہے وہی کچھ اس کا حصہ ہے۔ ہم نے اپنے آپ کا بھلا چاہنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اسی کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں۔ [البدايه والنهايه ج 3 ص 82]
ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص سے یہ توقع نہ ہو کہ ہدایت کی بات قبول کر لے گا بلکہ یہ خطرہ ہو کہ یہ الٹا چڑ جائے گا ایسے شخص کو سمجھانے کے بجائے اس سے کنارہ کرنا ہی بہتر ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔