ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 51

وَ لَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَہُمُ الۡقَوۡلَ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۵۱﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں پے در پے بات پہنچائی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ En
اور ہم پے درپے اُن لوگوں کے پاس (ہدایت کی) باتیں بھیجتے رہے ہیں تاکہ نصیحت پکڑیں
En
اور ہم برابر پے درپے لوگوں کے لیے اپنا کلام بھیجتے رہے تاکہ وه نصیحت حاصل کرلیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51) {وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ …: وَصَّلَ الْقَوْلَ تَوْصِيْلاً } بات کے ساتھ بات ملانا، پے در پے بات پہنچانا۔ قرآن اور تورات کو جادو قرار دے کر دونوں کے انکار کے اعلان کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے مطابق اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی ہدایت آئی ہی نہیں اور بلاغت کا قاعدہ ہے کہ انکار جتنا شدید ہو اتنی ہی تاکید کے ساتھ بات کی جاتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے لام اور {قَدْ} کی دوہری تاکید کے ساتھ، جو قسم کا مفہوم رکھتی ہے، فرمایا: اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں پے در پے بات پہنچائی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں، ایک یہ کہ ہم ایک رسول کے بعد دوسرا رسول اور ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب بھیجتے رہے اور اس طرح مسلسل اپنی بات لوگوں تک پہنچاتے رہے، ان سب کی تعلیمات ان تک بھی پہنچتی رہیں، تاکہ یہ خوابِ غفلت سے بیدار ہوں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید ایک ہی دفعہ نازل کر دینے کے بجائے ہم انھیں اس کی آیات یکے بعد دیگرے پے در پے پہنچا رہے ہیں، کبھی وعدہ و وعید کی صورت میں، کبھی وعظ و نصیحت کی صورت میں، کبھی قصوں اور عبرتوں کے بیان کی صورت میں اور کبھی امر و نہی کی صورت میں کہ کسی طور پر نصیحت حاصل کریں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

51-1یعنی ایک رسول کے بعد دوسرا رسول، ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب ہم بھیجتے رہے اور اس طرح مسلسل لگاتار ہم اپنی بات لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ 51-2مقصد اس سے یہ تھا کہ لوگ پچھلے لوگوں کے انجام سے ڈر کر اور ہماری باتوں سے نصیحت حاصل کر کے ایمان لے آئیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ اور ہم انھیں لگاتار (نصیحت کی) باتیں پہنچاتے رہے ہیں۔ [69] تاکہ وہ نصیحت کو قبول کریں۔
[69] اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جتنے بھی نبی ان کے آس پاس مبعوث رہے ہیں۔ اب سب کی تعلیمات ان تک بھی پہنچتی رہی ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب سے قرآن کا نزول شروع ہوا ہے۔ لگاتار انھیں ہدایت کی آیات پہنچ رہی ہیں۔ جس کا مقصد یہی تھا کہ وہ کچھ نصیحت قبول کر لیتے۔ اور اگر یہ فی الواقع ہدایت کے طالب ہوتے تو کب کے ہدایت قبول کر چکے ہوتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔