ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 5

وَ نُرِیۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ نَجۡعَلَہُمۡ اَئِمَّۃً وَّ نَجۡعَلَہُمُ الۡوٰرِثِیۡنَ ۙ﴿۵﴾
اور ہم چاہتے تھے کہ ہم ان لوگوں پر احسان کریں جنھیں زمین میں نہایت کمزور کر دیا گیا اور انھیں پیشوا بنائیں اور انھی کو وارث بنائیں۔ En
اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کر دیئے گئے ہیں اُن پر احسان کریں اور اُن کو پیشوا بنائیں اور انہیں (ملک کا) وارث کریں
En
پھر ہماری چاہت ہوئی کہ ہم ان پر کرم فرمائیں جنہیں زمین میں بےحد کمزور کر دیا گیا تھا، اور ہم انہیں کو پیشوا اور (زمین) کا وارث بنائیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) ➊ { وَ نُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ …:} فرعون کے اس ظلم کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کس طرح برداشت کر سکتی تھی، خصوصاً جب مظلوم قوم مسلمان بھی ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: [اِتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَ بَيْنَ اللّٰهِ حِجَابٌ] [بخاري، الزکاۃ، باب أخذ الصدقۃ من الأغنیاء …: ۱۴۹۶] مظلوم کی بد دعا سے بچ، کیونکہ اس کے درمیان اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔ یعنی فرعون تو اس مظلوم قوم کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنے پر تلا ہوا تھا، مگر ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ان لوگوں پر احسان کریں جنھیں نہایت کمزور کیا گیا۔ احسان وہ عطیہ ہے جو کسی عوض کے بغیر دیا جائے، یعنی بنی اسرائیل پر فرعون سے نجات کی نعمت اور دوسری نعمتیں محض ہمارا احسان اور فضل و کرم تھا۔
➋ { وَ نَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً:} مستضعفین کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ کی غیرت جب جوش میں آتی ہے تو وہ ان سے صرف ظلم ہی دور نہیں کرتا، بلکہ انھیں مزید انعامات سے بھی نوازتا ہے۔ چنانچہ فرمایا، ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں اور انھیں دین کی پیشوائی کے ساتھ حکومت و اقتدار کے پیشوا بھی بنائیں، تاکہ کسی کو ان پر ظلم کی جرأت ہی نہ ہو۔
➌ { وَ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِيْنَ:} اور انھیں فرعون اور آل فرعون کے غلبے و اقتدار کا اور ان تمام چیزوں کا وارث بنائیں جو وہ چھوڑ کر غرق ہونے والے تھے، اور ایسا ہی ہوا۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۳۷)، شعراء (۵۷ تا ۵۹) اور دخان (۲۵ تا ۲۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5-1چناچہ ایسا ہی ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس کمزور اور غلام قوم کو مشرق و مغرب کا وارث (مالک و حکمران) بنادیا نیز انھیں دین کا پیشوا اور امام بھی بنادیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ اور ہم یہ چاہتے تھے کہ جس گروہ کو اس ملک میں کمزور بنایا [7] گیا تھا اس پر احسان کریں، انھیں سرکردہ بنائیں اور (اس ملک کے) وارث بنائیں
[7] مظلوم بنی اسرائیل پر اللہ کی نظر کرم:۔
یعنی فرعون تو اس مظلوم گروہ کا کلی طور پر استیصال کرنا چاہتا تھا۔ مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اللہ یہ چاہتا تھا کہ ایسی سفاک اور ظالم قوم کا استیصال ہونا چاہئے۔ اور جن بے چاروں پر یہ ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں۔ انھیں نہ صرف ان سے نجات دلائی جائے۔ بلکہ انھیں ان ظالموں کی جائیدادوں اور ملک کا وارث بھی بنا دیا جائے۔ دین کی امامت بھی ان کے سپرد کی جائے اور دنیا کی سرداری کا تاج بھی ان کے سر پر رکھ دیا جائے۔ اور اللہ کی سنت جاریہ یہی ہے کہ وہ ظالموں اور متکبروں سے زمین کو خالی کرا کر ان کی جگہ ان مظلوموں کو آباد کرتا ہے۔ جن پر ظلم ڈھائے گئے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔