وَ مَا کُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَیۡنَا وَ لٰکِنۡ رَّحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىہُمۡ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴۶﴾
اور نہ تو پہاڑ کے کنارے پر تھا جب ہم نے آواز دی اور لیکن تیرے رب کی طرف سے رحمت ہے، تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
En
اور نہ تم اس وقت جب کہ ہم نے (موسٰی کو) آواز دی طور کے کنارے تھے بلکہ (تمہارا بھیجا جانا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ تم اُن لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا ہدایت کرو تاکہ وہ نصیحت پکڑیں
En
اور نہ تو طور کی طرف تھا جب کہ ہم نے آواز دی بلکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے ایک رحمت ہے، اس لیے کہ تو ان لوگوں کو ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں پہنچا، کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کرلیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 46) ➊ { وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَيْنَا:} ان تینوں آیات میں {” وَ مَا كُنْتَ “} (اور تو وہاں موجود نہ تھا) کی تکرار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق اور صدق پر ہونے کو واضح فرمایا گیا ہے کہ جب آپ ان مقامات میں سے کہیں بھی موجود نہیں تھے، پھر بھی ان کے بارے میں اصل حقائق کو صحیح طور پر اور بالکل واقعہ کے مطابق بیان کرتے ہیں تو یہ اس بات کی کھلی دلیل اور واضح ثبوت ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اس کی وحی آپ کے پاس آتی ہے جس کے ذریعے سے آپ یہ سب کچھ اتنی صحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
➋ { ” وَ مَا كُنْتَ “} (اور تو وہاں موجود نہ تھا) کی تکرار کے ساتھ یہ اہم حقیقت بھی واضح فرما دی گئی ہے کہ پیغمبر حاضر و ناظر اور ہر جگہ موجود نہیں ہوتے، نہ وہ عالم الغیب ہوتے ہیں۔ انھیں جو علم ہوتا ہے وحی کے ذریعے سے ہوتا ہے اور وہ بھی اتنا جتنی وحی کی جائے۔
➌ { وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ:} یعنی آپ کو یہ واقعات اس لیے معلوم نہیں ہوئے کہ آپ ان مواقع پر موجود تھے، یا انھیں دیکھ رہے تھے، بلکہ یہ آپ کے رب کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور وحی سے نوازا۔
➍ {لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ …:} اس قوم سے مراد اہل مکہ اور عرب ہیں۔ ان میں ابراہیم، اسماعیل اور شعیب علیھم السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ ہزاروں برس کی اس طویل مدت میں باہر کے انبیاء کی دعوتیں تو ضرور وہاں پہنچتی رہیں، مثلاً موسیٰ اور عیسیٰ علیھما السلام کی دعوت، کیونکہ اس کے بغیر ان کا کفر و شرک پر جمے رہنے کا عذر موجود رہتا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے یہ عذر کسی کے لیے باقی نہیں چھوڑا، مگر خاص اس سر زمین میں کسی نبی کی بعثت نہیں ہوئی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہاں آخری پیغمبر کو مبعوث فرمایا۔ اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ سجدہ (۳) اور یٰس (۱ تا ۶)۔
➋ { ” وَ مَا كُنْتَ “} (اور تو وہاں موجود نہ تھا) کی تکرار کے ساتھ یہ اہم حقیقت بھی واضح فرما دی گئی ہے کہ پیغمبر حاضر و ناظر اور ہر جگہ موجود نہیں ہوتے، نہ وہ عالم الغیب ہوتے ہیں۔ انھیں جو علم ہوتا ہے وحی کے ذریعے سے ہوتا ہے اور وہ بھی اتنا جتنی وحی کی جائے۔
➌ { وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ:} یعنی آپ کو یہ واقعات اس لیے معلوم نہیں ہوئے کہ آپ ان مواقع پر موجود تھے، یا انھیں دیکھ رہے تھے، بلکہ یہ آپ کے رب کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور وحی سے نوازا۔
➍ {لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ …:} اس قوم سے مراد اہل مکہ اور عرب ہیں۔ ان میں ابراہیم، اسماعیل اور شعیب علیھم السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ ہزاروں برس کی اس طویل مدت میں باہر کے انبیاء کی دعوتیں تو ضرور وہاں پہنچتی رہیں، مثلاً موسیٰ اور عیسیٰ علیھما السلام کی دعوت، کیونکہ اس کے بغیر ان کا کفر و شرک پر جمے رہنے کا عذر موجود رہتا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے یہ عذر کسی کے لیے باقی نہیں چھوڑا، مگر خاص اس سر زمین میں کسی نبی کی بعثت نہیں ہوئی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہاں آخری پیغمبر کو مبعوث فرمایا۔ اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ سجدہ (۳) اور یٰس (۱ تا ۶)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
46-1یعنی اگر آپ رسول برحق نہ ہوتے تو موسیٰ ؑ کے واقعے کا علم بھی آپ کو نہ ہوتا۔ 46-2یعنی آپ کا علم، مشاہدہ روئیت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ آپ کے پروردگار کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبی بنایا اور وحی سے نوازا۔ 46-3اس سے مراد اہل مکہ اور عرب ہیں جن کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا، کیونکہ حضرت ابراہیم ؑ کے بعد نبوت کا سلسلہ خاندان ابراہیمی ہی میں رہا اور ان کی بعث بنی اسرائیل کی طرف سے ہی ہوتی رہی بنی اسماعیل یعنی عربوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نبی تھے اور سلسلہ نبوت کے خاتم تھے۔ ان کی طرف نبی بھیجنے کی ضرورت اس لئے نہیں سمجھی گئی ہوگی کہ دوسرے انبیاء کی دعوت اور ان کا پیغام ان کو پہنچتا رہا ہوگا۔ کیونکہ اس کے بغیر ان کے لئے کفر و شرک پر جمے رہنے کا عذر موجود رہے گا اور یہ عذر اللہ نے کسی کے لئے باقی نہیں چھوڑا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ نیز آپ طور کے کنارے پر بھی نہ تھے جب ہم نے (موسیٰ کو) [61] ندا کی تھی، لیکن یہ آپ کے پروردگار کی رحمت ہے (کہ اس نے آپ کو یہ سچی غیب کی خبریں دیں) تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی [62] ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔ شاید وہ نصیحت قبول کریں۔
[61] یہ تینوں واقعات آپ کی نبوت پر دلیل ہیں اور سابقہ کتب کی تحریف کی تصحیح بھی:۔
گویا ان تین واقعات کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لئے آپ کی نبوت کی صداقت کے طور پر پیش فرمایا۔ ایک وہ وقت جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو معجزات عطا کر کے انھیں فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا اور امر رسالت تفویض کیا تھا۔ دوسرے مدین کے حالات کے تفصیل اور تیسرے وہ وقت جب موسیٰؑ راستہ بھول کر آگ لینے کی غرض سے آئے تھے۔ تو ہم نے خود انھیں پکار کر رسالت بھی عطا کی تھی اور ہم کلامی کا شرف بھی بخشا تھا۔ اور یہ واقعات آپ کی نبوت پر دلیل اس طرح ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے۔ کہ آپ نے کسی کتاب سے پڑھ کر یہ حالات معلوم کر لئے ہوں اور لوگوں کو سنا دیا ہو۔ دوسرے یہ کہ آپ کا کوئی استاد ہی نہ تھا جس کے آگے آپ نے زانوئے تلمذ تہ کیا ہو اور اس نے آپ کو ان واقعات سے مطلع کر دیا ہو۔ اب تیسری صورت یہی باقی رہ جاتی ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہوں اور اللہ نے بذریعہ وحی آپ کو ان حالات سے مطلع کر دیا ہو۔ پھر ان سابقہ کتب میں یا موجودہ میں انہی واقعات سے متعلق بے شمار جزوی اختلاف موجود تھے۔ اللہ نے جو حالات آپ کو وحی کے ذریعہ بتلائے یہ حالات اصل حقائق کے ٹھیک مطابق ہیں۔
[62] یعنی اہل حجاز کے لئے اس دو ہزار سال میں کوئی نبی مبعوث نہ ہوا تھا ان لوگوں کا ان واقعات سے متعلق ذریعہ معلومات بسی وہی خبریں تھیں جو ادھر ادھر سے وہ سن لیتے تھے اور ان خبروں میں بھی کافی اختلافات تھے۔ اب ہم نے ان لوگوں میں آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ انھیں صحیح حالات کا علم ہو جائے۔ اور وہ امم سابقہ کے انجام سے متنبہ ہو کر سبق حاصل کریں۔ اور اللہ سے شرک اور سرکشی کی راہ چھوڑ کر راہ راست پر آ جائیں تاکہ ان کا انجام بھی ویسا ہی نہ ہو جیسا کہ مذکور امتوں کا ہوا تھا۔
[62] یعنی اہل حجاز کے لئے اس دو ہزار سال میں کوئی نبی مبعوث نہ ہوا تھا ان لوگوں کا ان واقعات سے متعلق ذریعہ معلومات بسی وہی خبریں تھیں جو ادھر ادھر سے وہ سن لیتے تھے اور ان خبروں میں بھی کافی اختلافات تھے۔ اب ہم نے ان لوگوں میں آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ انھیں صحیح حالات کا علم ہو جائے۔ اور وہ امم سابقہ کے انجام سے متنبہ ہو کر سبق حاصل کریں۔ اور اللہ سے شرک اور سرکشی کی راہ چھوڑ کر راہ راست پر آ جائیں تاکہ ان کا انجام بھی ویسا ہی نہ ہو جیسا کہ مذکور امتوں کا ہوا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔