ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 42

وَ اَتۡبَعۡنٰہُمۡ فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا لَعۡنَۃً ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ہُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِیۡنَ ﴿٪۴۲﴾
اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے دن وہ دور دفع کیے گئے لوگوں سے ہوں گے۔ En
اور اس دنیا سے ہم نے اُن کے پیچھے لعنت لگادی اور وہ قیامت کے روز بھی بدحالوں میں ہوں گے
En
اور ہم نے اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے اپنی لعنت لگا دی اور قیامت کے دن بھی وه بدحال لوگوں میں سے ہوں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 42) ➊ {وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً:} یعنی دنیا میں جو بھی ان کا ذکر کرتا ہے ان پر لعنت بھیجتا ہے۔
➋ {وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ: الْمَقْبُوْحِيْنَ أَيْ مَطْرُوْدِيْنَ} یعنی دور دفع کیے ہوئے، قبیح بنائے گئے۔ یعنی صرف دنیا ہی میں ان پر لعنت نہیں پڑے گی بلکہ قیامت کے دن بھی وہ اللہ کی رحمت سے دور کیے ہوئے ہوں گے، ان کی شکلیں قبیح ہوں گی اور چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

42-1یعنی دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ان کا مقدر بنی اور آخرت میں بھی وہ بد حال ہونگے۔ یعنی چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلگوں جیسا کہ جہنمیوں کے تذکرے میں آتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے دن ان کا بہتر برا حال [55] ہو گا۔
[55] یعنی فرعون اور آل فرعون پر بعد میں آنے والی دنیا لعنت ہی بھیجتی رہے گی اور انھیں برے لفظوں میں یاد کیا جاتا رہے گا۔ اور قیامت کے دن تو ان کی بڑی درگت بنائی جائے گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیئے جائیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰؔذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ ﴿ وَیَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْ٘مَقْبُوْحِیْنَ اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأتْبَعْناهم في هذه الدُّنيا لعنةً}؛ أي: وأتْبَعْناهم زيادةً في عقوبتهم وخِزْيِهِم في الدنيا لعنةً يلعنون، ولهم عند الخلق الثناء القبيح والمقتُ والذمُّ، وهذا أمرٌ مشاهدٌ؛ فهم أئمةُ الملعونين في الدُّنيا ومقدمتهم. {ويوم القيامةِ هم من المقبوحينَ}: المبعَدين، المستقذرة أفعالهم، الذين اجتمع عليهم مقتُ الله ومقتُ خلقِهِ ومقتُ أنفسهم.