(آیت 42) ➊ {وَاَتْبَعْنٰهُمْفِيْهٰذِهِالدُّنْيَالَعْنَةً:} یعنی دنیا میں جو بھی ان کا ذکر کرتا ہے ان پر لعنت بھیجتا ہے۔ ➋ {وَيَوْمَالْقِيٰمَةِهُمْمِّنَالْمَقْبُوْحِيْنَ: ”الْمَقْبُوْحِيْنَ“”أَيْمَطْرُوْدِيْنَ“} یعنی دور دفع کیے ہوئے، قبیح بنائے گئے۔ یعنی صرف دنیا ہی میں ان پر لعنت نہیں پڑے گی بلکہ قیامت کے دن بھی وہ اللہ کی رحمت سے دور کیے ہوئے ہوں گے، ان کی شکلیں قبیح ہوں گی اور چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
42-1یعنی دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ان کا مقدر بنی اور آخرت میں بھی وہ بد حال ہونگے۔ یعنی چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلگوں جیسا کہ جہنمیوں کے تذکرے میں آتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
42۔ ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے دن ان کا بہتر برا حال [55] ہو گا۔
[55] یعنی فرعون اور آل فرعون پر بعد میں آنے والی دنیا لعنت ہی بھیجتی رہے گی اور انھیں برے لفظوں میں یاد کیا جاتا رہے گا۔ اور قیامت کے دن تو ان کی بڑی درگت بنائی جائے گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیئے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔