(آیت 41) ➊ {وَجَعَلْنٰهُمْاَىِٕمَّةًيَّدْعُوْنَاِلَىالنَّارِ: ”اَىِٕمَّةً“”إِمَامٌ“} کی جمع ہے، جس کی پیروی کی جائے، جیسا کہ نماز میں مقتدی امام کی پیروی کرتا ہے۔ امامت نیکی میں بھی ہوتی ہے اور برائی میں بھی، جیسا کہ ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیھم السلام کے متعلق فرمایا: «{ وَجَعَلْنٰهُمْاَىِٕمَّةًيَّهْدُوْنَبِاَمْرِنَا }» [الأنبیاء: ۷۳]”اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے۔“ برائی میں امامت کی مثال فرعون اور اس کے لشکر تھے۔ فرمایا، ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے، یعنی جب تک زندہ رہے کفر میں لوگوں کے پیشوا رہے اور اپنے قول و فعل سے انھیں کفر کی دعوت دیتے رہے، جس کا نتیجہ آگ ہے۔ اسی طرح یہ قیامت کے دن بھی امام اور پیشوا ہوں گے، مگر آگ کی طرف، فرمایا: «{ يَقْدُمُقَوْمَهٗيَوْمَالْقِيٰمَةِفَاَوْرَدَهُمُالنَّارَوَبِئْسَالْوِرْدُالْمَوْرُوْدُ }»[ھود: ۹۸]”وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہوگا، پس انھیں پینے کے لیے آگ پر لے آئے گا اور وہ پینے کی بری جگہ ہے، جس پر پینے کے لیے آیا جائے۔“ ➋ { وَيَوْمَالْقِيٰمَةِلَايُنْصَرُوْنَ:} یعنی یہاں کے لشکر وہاں کام نہ دیں گے، نہ کسی طرف سے کوئی مدد پہنچ سکے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
41-1یعنی جو بھی ان کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو اللہ کی توحید یا اس کے وجود کے منکر ہوں گے، تو ان کا امام و پیشوا یہی فرعونی سمجھے جائیں گے جو جہنم کے داعی ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
41۔ نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا [53] اور قیامت کے دن انھیں کہیں سے مدد نہ [54] مل سکے گی۔
[53] فرعون منکرین حق کا رہنما تھا :۔
یعنی تمام منکرینِ حق اور باطل پرستوں کے لئے وہ مثال قائم کر گیا کہ حق کو کن کن حیلوں بہانوں سے ٹھکرایا جا سکتا ہے۔ انکار حق پر ڈٹ جانے اور آخر دم تک ڈٹے رہنے کے لئے کیا کیا ہتھکنڈے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ حق پرستوں پر کیسے کیسے مظالم ڈھائے جا سکتے ہیں اور حق کو کیونکر دبایا جا سکتا ہے۔ یہ سب طریقے اپنے بعد میں آنے والوں کو دکھلا کر وہ جہنم کو سدھار چکا اور آج کے مشرکین مکہ انھیں کے طور طریقے اختیار کر کے اسی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پھر جس طرح فرعون نے اس دنیا میں حق کے دشمنوں کو جہنم کی راہ دکھلائی اسی طرح قیامت کے دن بھی وہ اہل دوزخ کی پیشوائی کرے گا۔ اور انھیں جہنم میں جا پہنچائے گا اور خود ان کی قیادت کر رہا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ ہود کی آیت نمبر 98 میں اس بات کی صراحت فرما دی ہے۔ [54] یعنی اس دنیا میں تو فرعون اور اس کے درباریوں کو اپنے لاؤ لشکر پر بڑا ناز تھا۔ اور انہی فوجوں اور لاؤ لشکر نے ان کا دماغ خراب کر رکھا تھا۔ حالانکہ ان کا لاؤ لشکر ان کی غرقابی کے وقت کسی کام نہ آسکا بلکہ ان کے ساتھ ہی غرق ہو گیا۔ تو قیامت کو بھی یہ لاؤ لشکر ان کے کسی کام نہ آ سکے گا۔ نہ ہی کسی دوسرے ذریعہ سے یہ جہنم کے عذاب سے بچ سکیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔