کہا ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو ضرور مضبوط کریں گے اور تم دونوں کے لیے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے، ہماری نشانیوں کے ساتھ تم دونوں اور جنھوں نے تمھاری پیروی کی، غالب آنے والے ہو۔
En
(خدا نے) فرمایا ہم تمہارے بھائی سے تمہارے بازو مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے تو ہماری نشانیوں کے سبب وہ تم تک پہنچ نہ سکیں گے (اور) تم اور جنہوں نے تمہاری پیروی کی غالب رہو گے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو مضبوط کردیں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے فرعونی تم تک پہنچ ہی نہ سکیں گے، بسبب ہماری نشانیوں کے، تم دونوں اور تمہاری تابعداری کرنے والے ہی غالب رہیں گے
En
(آیت 35) ➊ { قَالَسَنَشُدُّعَضُدَكَبِاَخِيْكَ …:} اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور تین باتوں کا وعدہ فرمایا، پہلا یہ کہ ہم ہارون کو نبی بنا کر تمھارا بازو ضرور مضبوط کریں گے (سین تاکید کے لیے ہے)، وہ تمھارے ساتھ فرعون کے دربار میں جائیں گے۔ بعض سلف نے فرمایا، کسی بھائی پر اس کے بھائی کا اتنا بڑا احسان نہیں جتنا بڑا احسان موسیٰ علیہ السلام کا ہارون علیہ السلام پر ہے کہ ان کی شفاعت سے انھیں نبوت مل گئی، اس سے اللہ تعالیٰ کے ہاں موسیٰ علیہ السلام کا مرتبہ بھی معلوم ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَكَانَعِنْدَاللّٰهِوَجِيْهًا }»[الأحزاب: ۶۹]”اور وہ (یعنی موسیٰ علیہ السلام) اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔“ ➋ { فَلَايَصِلُوْنَاِلَيْكُمَابِاٰيٰتِنَاۤ:} دوسرا وعدہ یہ کہ فرعونیوں کے مقابلے میں تم دونوں کو ہم ایسا غلبہ اور دبدبہ عطا کریں گے کہ ہمارے معجزے تمھارے ساتھ ہونے کی وجہ سے وہ تم تک پہنچ نہیں پائیں گے اور نہ کسی قسم کی دست درازی کر سکیں گے۔ چنانچہ بعد میں ایسے ہی ہوا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کو تمام تر اسباب و وسائل اور اسلحہ و افواج کے باوجود کبھی اس بات کی جرأت و ہمت نہ ہو سکی کہ ان پر کسی طرح ہاتھ اٹھا سکیں۔ یہ تفسیر {”بِاٰيٰتِنَاۤ“} کو {”فَلَايَصِلُوْنَ“} کے متعلق کرنے کی صورت میں ہے۔ ➌ {بِاٰيٰتِنَاۤاَنْتُمَاوَمَنِاتَّبَعَكُمَاالْغٰلِبُوْنَ:} یہ تیسرا وعدہ ہے کہ تم دونوں اور تمھارے پیروکار ہی آخر کار غالب ہوں گے۔ {”بِاٰيٰتِنَاۤ“} کو{”الْغٰلِبُوْنَ“} کے متعلق کرنے سے معنی یہ ہوگا کہ تم دونوں اور تمھارے پیروکار ہی ہمارے معجزات کی بدولت غالب رہو گے۔ یہ مضمون کہ رسول اور ان کے پیروکار ہی آخر غالب ہوں گے، قرآن میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورۂ مومن (۵۱) اور مجادلہ (۲۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
35-1یعنی حضرت موسیٰ ؑ کی دعا قبول کرلی گئی اور ان کی سفارش پر حضرت ہارون ؑ کو بھی نبوت سے سرفراز فرما کر ان کا ساتھی اور مددگار بنادیا گیا۔ 35-2یعنی ہم تمہاری حفاظت فرمائیں گے، فرعون اور اس کے حوالی موالی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ 35-3یہ وہی مضمون ہے جو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا مثلاً، (قُلْيٰٓاَهْلَالْكِتٰبِلَسْتُمْعَلٰيشَيْءٍحَتّٰيتُقِيْمُواالتَّوْرٰىةَوَالْاِنْجِيْلَوَمَآاُنْزِلَاِلَيْكُمْمِّنْرَّبِّكُمْۭوَلَيَزِيْدَنَّكَثِيْرًامِّنْهُمْمَّآاُنْزِلَاِلَيْكَمِنْرَّبِّكَطُغْيَانًاوَّكُفْرًا ۚ فَلَاتَاْسَعَلَيالْقَوْمِالْكٰفِرِيْنَ) 5۔ المائدہ:68، (الَّذِيْنَيُبَلِّغُوْنَرِسٰلٰتِاللّٰهِوَيَخْشَوْنَهٗوَلَايَخْشَوْنَاَحَدًااِلَّااللّٰهَۭوَكَفٰىباللّٰهِحَسِيْبًا) 33۔ الاحزاب:39) (كَتَبَاللّٰهُلَاَغْلِبَنَّاَنَاوَرُسُلِيْ ۭ اِنَّاللّٰهَقَوِيٌّعَزِيْزٌ) 58۔ المجادلہ:21) (اِنَّالَنَنْصُرُرُسُلَنَاوَالَّذِيْنَاٰمَنُوْافِيالْحَيٰوةِالدُّنْيَاوَيَوْمَيَقُوْمُالْاَشْهَادُ 51ۙ يَوْمَلَايَنْفَعُالظّٰلِمِيْنَمَعْذِرَتُهُمْوَلَهُمُاللَّعْنَةُوَلَهُمْسُوْۗءُالدَّارِ 52) 40۔ غافر:52-51)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
35۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم تیرے بھائی سے تیرا بازو مضبوط کر دیں گے اور تم دونوں کو ایسا غلبہ عطا کریں گے کہ وہ تم پر دست درازی نہ کر سکیں گے۔ ہمارے معجزات کی وجہ سے تم دونوں اور تمہارے پیروکار ہی غالب رہیں گے۔ [45]
[45] اس مطالبہ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے تین امور بیان فرمائے۔ سب سے پہلے یہ کہ وہ لوگ تم پر ہرگز درست درازی نہ کر سکیں گے۔ اور تمہارا بال بھی بیکا نہیں ہو گا۔ تمہیں قتل کرنے کی بجائے انھیں اپنے معاملات حکومت کی فکر پڑ جائے گی۔ دوسرے تمہارے بھائی ہارون کو نبی بنا کر تمہارے ہمراہ بھیجنے کا مطالبہ منظور کیا جاتا ہے۔ وہ تمہارے ہمراہ فرعون کے دربار میں جائے گا اور تیسرے یہ کہ تم اس بات کا یقین رکھو کہ بالآخر فتح تمہاری ہی ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔