ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 26

قَالَتۡ اِحۡدٰىہُمَا یٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡہُ ۫ اِنَّ خَیۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِیُّ الۡاَمِیۡنُ ﴿۲۶﴾
دونوں میں سے ایک نے کہا اے میرے باپ! اسے اجرت پر رکھ لے، کیونکہ سب سے بہتر شخص جسے تو اجرت پر رکھے طاقت ور، امانت دار ہی ہے۔ En
ایک لڑکی بولی کہ ابّا ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ بہتر نوکر جو آپ رکھیں وہ ہے (جو) توانا اور امانت دار (ہو)
En
ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ ابا جی! آپ انہیں مزدوری پر رکھ لیجئے، کیونکہ جنہیں آپ اجرت پر رکھیں ان میں سے سب سے بہتر وه ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26) ➊ { قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا يٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ:} ان دونوں میں سے ایک نے کہا، ابا جان! آپ اسے مزدور رکھ لیں، تاکہ ہم عورتوں کو بکریاں چرانے کی مشقت سے رہائی مل جائے۔ ضروری نہیں کہ اس نے یہ بات موسیٰ علیہ السلام کی اس کے باپ سے پہلی ملاقات کے وقت ہی کہہ دی ہو۔ تین دن مہمان نوازی تو حق ہے، اس لیے غالب یہی ہے کہ اس دوران ان لڑکیوں اور ان کے والد نے موسیٰ علیہ السلام کے اوصاف حمیدہ کا اچھی طرح سے مشاہدہ کر لیا تو لڑکی نے اپنے باپ سے یہ بات کہی۔
➋ { اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ:} تفسیر ابن کثیر میں ہے: عمر، ابن عباس، شریح قاضی، ابو مالک، قتادہ، محمد بن اسحاق اور کئی ایک نے فرمایا کہ اس کے والد نے پوچھا، تمھیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی؟ اس نے کہا، اس نے وہ پتھر اٹھا لیا جو دس آدمیوں سے کم اٹھا نہیں سکتے اور جب میں اس کے ساتھ آئی تو اس کے آگے چل رہی تھی، اس نے مجھ سے کہا، میرے پیچھے چلی آؤ اور جہاںراستہ بدلنا ہو مجھے کنکری کے ساتھ اشارہ کر دو، میں سمجھ جاؤں گا کس طرف جانا ہے۔ تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا، عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنھم کا قول ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ [ابن أبي حاتم: ۱۶۸۴۳] دوسرے ائمہ کے اقوال بھی طبری (۲۷۶۰۹) یا ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیے ہیں، مگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں، اس لیے اس کا ماخذ اسرائیلی روایات ہی ہے۔
➌ سب سے بہتر شخص جسے تم اجرت پر رکھو وہ ہے جو قوت والا اور امانت دار ہو۔ یہ ہے وہ قاعدہ جو کسی شخص کو ذمہ داری دیتے وقت ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک وقت میں یہ دونوں صفات بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔ کوئی شخص اگر کام کی اہلیت اور قوت رکھتا ہے تو امانت میں کمزور ہے اور اگر امین ہے تو قوت و اہلیت نہیں رکھتا۔ آج کل حکومتیں کسی عہدے پر مقرر کرنے سے پہلے امتحانات اور انٹرویو کے ذریعے سے اہلیت کا اندازہ تو کرتی ہیں مگر امانت کا نہیں، نتیجہ بے حساب بد دیانتی اور خیانت ہے، جس نے مسلمان ملکوں کی معیشت اور معاشرت دونوں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔
➍ اس بات سے اس لڑکی کی کمال فراست اور آدمیوں کی پہچان کا اندازہ ہوتا ہے۔ ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ فراست والے تین ہیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فراست عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں، عزیز مصر کی یوسف علیہ السلام کے متعلق فراست، جب اس نے بیوی سے کہا: «{اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ [یوسف: ۲۱] اس کی رہائش باعزت رکھ۔ اور موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ والی خاتون کی فراست کہ جس نے کہا: «{ يٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ [القصص: ۲۶] اے میرے باپ! اسے اجرت پر رکھ لے، کیونکہ سب سے بہتر شخص جسے تو اجرت پر رکھے طاقت ور، امانت دار ہی ہے۔ [ابن أبي حاتم: ۱۶۸۳۸]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

26-1بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ باپ نے بچیوں سے پوچھا تمہیں کس طرح معلوم ہے کہ یہ طاقتور بھی ہے اور ایمان دار بھی، جس پر بچیوں نے بتلایا کہ جس کنویں سے پانی پلایا، اس پر اتنا بھاری پتھر رکھا ہوتا ہے کہ اسے اٹھانے کے لئے دس آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم نے دیکھا کہ اس شخص نے وہ پتھر اکیلے ہی اٹھا لیا اور پھر بعد میں رکھ دیا اسی طرح جب میں اس کو بلا کر ساتھ لا رہی تھی، تو چونکہ راستے کا علم مجھے ہی تھا، میں آگے آگے چل رہی تھی اور یہ پیچھے پیچھے لیکن ہوا سے میری چادر اڑ جاتی تھی تو اس شخص نے کہا تو پیچھے چل، میں آگے آگے چلتا ہوں تاکہ میری نگاہ تیرے جسم کے کسی حصے پر نہ پڑے۔ راستے کی نشان دہی کے لئے پیچھے سے پتھر کی کنکری مار دیا کر، واللہ اعلم (ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ ان میں سے ایک بولی، ابا جان! اسے اپنا نوکر رکھ لیجئے۔ بہترین آدمی جسے آپ نوکر رکھنا چاہیں وہی ہو سکتا ہے جو طاقتور اور امین ہو۔ [36]
[36] سیدنا موسیٰؑ کو ملازم رکھنے کی سفارش:۔
حضرت شعیبؑ کا کوئی لڑکا نہ تھا۔ بس دو لڑکیاں ہی لڑکیاں تھیں جنہیں اندر اور باہر دونوں طرف کے کام کرنا پڑتے تھے۔ لہٰذا شعیبؑ پہلے اس جستجو میں تھے کہ کوئی شریف آدمی مل جائے تو اسے ملازم رکھ لیا جائے۔ حضرت موسیٰؑ کے چند روزہ قیام میں ہی گھر کے سب افراد نے حضرت موسیٰ کے متعلق یہ رائے قائم کر کے اس پر اتفاق کر لیا کہ اگر یہی پردیسی نوجوان ہمارے ہاں رہنا قبول کر لیں تو یہ بہت مناسب رہے گا۔ چنانچہ ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ اگر آپ کوئی آدمی ملازم رکھنا ہی چاہتے ہیں تو شاید اس سے بہتر آپ کو کوئی آدمی نہ مل سکے۔ کیونکہ یہ شخص نوجوان ہے اور طاقتور ہے۔ ہلکے اور بھاری سب کام کر سکتا ہے۔ دوسرے یہ امین بھی ہے۔ اور یہ باتیں اس لڑکی نے اپنے مشاہدہ کی بنا پر کہی تھیں۔ حضرت موسیٰؑ نے اکیلے وہ ڈول کنوئیں سے کھینچ لیا تھا۔ جسے دو آدمی بمشکل کھینچتے تھے۔ پھر وہ لڑکی جب انھیں گھر لانے کے لئے گئی تھی۔ تو اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کس قدر با حیا، دیانت دار، خدا ترس اور امین آدمی ہے۔
ملازمت کی ضروری شرائط:۔
ضمناً اس آیت یہ بھی معلوم ہوا کہ ملازمت کے لئے دو باتوں کو دیکھنا ضروری ہے ایک یہ کہ جس کام کے لئے کوئی شخص ملازم رکھا جا رہا ہے۔ وہ اس کی اہلیت بھی رکھتا ہے یا نہیں۔ بالفاظ دیگر اس کام کا اسے پہلے سے کچھ علم اور تجربہ ہے؟ اور اگر کوئی محنت والا کام ہے تو کیا اس کی جسمانی حالت اور قوت اتنی ہے کہ وہ اس کام کو بجا لا سکے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ دیانتدار اور امین ہو۔ اور یہ دیانت و امانت دین سے بیزار اور خدا فراموش آدمیوں میں کبھی پیدا نہیں ہو سکتی۔
ان شرائط کو نظر انداز کرنے کے مفاسد:۔
اب تعجب کی بات یہ ہے کہ جب کسی شخص نے کوئی نجی یا گھریلو ملازم رکھنا ہو تو وہ ان دونوں باتوں کو ملحوظ رکھتا ہے تو سرکاری ملازمتوں کے وقت صرف شرط اول یعنی اہلیت کو تو ملحوظ رکھا جاتا ہے لیکن دوسری شرط کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اور غالباً اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ملازم رکھنے والے افسروں میں بھی یہ دوسری شرط مفقود ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رشوت عام ہو جاتی ہے۔ جس کا تعلق ملازمین سے ہی ہوتا ہے۔ لوگوں کے حقوق غصب اور تلف ہوتے ہیں۔ ظالمانہ قسم کی حکومت قائم ہو جاتی ہے اور عوام کے لئے اتنی شکایات اور مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جن کا حل ناممکن ہو جاتا ہے۔ اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہوتی ہے کہ شرائط ملازمت میں سے دوری شرط دیانت و امانت کو درخور اعتناء سمجھا ہی نہیں جاتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

موسیٰ اور شعیب علیہما السلام کا معاہدہ ٭٭
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب موسیٰ علیہ السلام نے پانی پلا دیا تو یہ اپنی بکریاں لے کر واپس اپنے گھر گئیں۔ باپ نے دیکھا کہ آج وقت سے پہلے یہ آگئیں ہیں تو دریافت فرمایا کہ آج کیا بات ہے؟ انہوں نے سچا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے اسی وقت ان دونوں میں سے ایک کو بھیجا کہ جاؤ اور ان کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں اور جس طرح گھر گھرہست پاک دامن عفیفہ عورتوں کا دستور ہوتا ہے شرم وحیاء سے اپنی چادر میں لپٹی ہوئی پردے کے ساتھ چل رہی تھی۔ منہ بھی چادر کے کنارے سے چھپائے ہوئے تھیں پھر اس دانائی اور صداقت کو دیکھئیے کہ صرف یہی نہیں کہا کہ میرے ابا آپ علیہ السلام کو بلا رہے ہیں کیونکہ اس میں شبہ کی باتوں کی گنجائش تھی صاف کہہ دیا کہ میرے والد آپ کی مزدوری دینے کے لیے اور اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لیے بلا رہے ہیں، جو آپ علیہ السلام نے ہماری بکریوں کو پانی پلا کر ہمارے ساتھ کیا ہے۔‏‏‏‏
کلیم اللہ علیہ السلام کو جو بھوکے پیاسے تن تنہا مسافر اور بے خرچ تھے یہ موقعہ غنیمت معلوم ہوا یہاں آئے۔ انہیں ایک بزرگ سمجھ کر ان کے سوال پر اپنا سارا واقعہ بلا کم و کاست سنایا۔ انہوں نے دلجوئی کی اور فرمایا اب کیا خوف ہے؟ ان ظالموں کے ہاتھ سے آپ نکل آئے۔ یہاں ان کی حکومت نہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ بزرگ شعیب علیہ السلام تھے جو مدین والوں کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہوئے تھے۔ یہ مشہور قول ہے۔
امام حسن بصری رحمۃ اللہ اور بہت سے علماء بھی یہی فرماتے ہیں۔ طبرانی کی ایک حدیث میں ہے کہ { جب سعد رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی طرف سے ایلچی بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شعیب علیہ السلام کی قوم اور موسیٰ علیہ السلام کے سسرال والوں کو مرحبا ہو کہ تمہیں ہدایت کی گئی } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2828:ضعیف]‏‏‏‏
بعض کہتے ہیں کہ یہ شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے کوئی کہتا ہے کہ قوم شعیب علیہ السلام کے ایک مومن مرد تھے۔ بعض کا قول ہے کہ شعیب علیہ السلام کا زمانہ تو موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے بہت پہلے کا ہے۔
ان کا قول قرآن میں اپنی قوم سے یہ مروی ہے کہ «وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ» ۱؎ [11-ھود:89]‏‏‏‏ یعنی ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ لوطیوں کی ہلاکت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے میں ہوئی تھی۔ اور یہ بھی بہت ظاہر ہے کہ ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام کے درمیان کا زمانہ بہت لمبا زمانہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کا ہے جیسے اکثر مورخین کا قول ہے ہاں بعض لوگوں نے اس مشکل کا یہ جواب دیا ہے کہ شعیب علیہ السلام کی بڑی لمبی عمر ہوئی تھی۔ ان کا مقصد غالباً اس اعتراض سے بچنا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک اور بات بھی خیال میں رہے کہ اگر یہ بزرگ شعیب علیہ السلام ہی ہوئے تو چاہیئے تھا کہ قرآن میں اس موقعہ پر ان کا نام صاف لے دیا جاتا۔ ہاں البتہ بعض احادیث میں یہ آیا ہے کہ یہ شعیب علیہ السلام تھے۔ لیکن ان احادیث کی سندیں صحیح نہیں جیسے کہ ہم عنقریب وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا نام ثیرون بتلایاگیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے فرماتے ہیں ثیرون شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ یثربی تھے۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بات اس وقت ہوتی کہ جب اس بارے میں کوئی خبر مروی ہوتی اور ایسا ہے نہیں۔ ان کی دونوں صاحبزادیوں میں سے ایک نے باپ کی توجہ دلائی۔ یہ توجہ دلانے والی صاحبزادی وہی تھیں جو آپ علیہ السلام کو بلانے گئی تھیں۔ کہا کہ انہیں آپ ہماری بکریوں کی چرائی پر رکھ لیجئے کیونکہ وہ کام کرنے والا اچھا ہوتا ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔‏‏‏‏ باپ نے بیٹی سے پوچھا تم نے یہ کیسے جان لیا کہ ان میں یہ دونوں وصف ہیں۔‏‏‏‏ بچی نے جواب دیا کہ دس آدمی مل کر جس پتھر کو کنویں سے ہٹا سکتے تھے انہوں نے تنہا اس کو ہٹا دیا ان سے ان کی قوت کا اندازہ با آسانی ہوسکتا ہے۔ امانت داری کا علم مجھے اس طرح ہوا کہ جب میں انہیں لے کر آپ کے پاس آنے لگی تو اس لیے کہ راستے سے ناواقف تھے میں آگے ہولی انہوں نے کہاتم میرے پیچھے رہو اور جہاں راستہ بدلنا ہو اس طرف کنکر پھینک دینا میں سمجھ لونگا کہ مجھے اس راستے چلنا چاہیئے۔‏‏‏‏
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تین شخص کی سی زیرکی، معاملہ فہی، دانائی اور دوربینی کسی اور میں نہیں پائی گئی، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دانائی کہ جب انہوں نے اپنے بعد خلافت کے لیے جناب عمر رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا۔ یوسف علیہ السلام کے خریدنے والے مصری جنہوں نے بیک نظر یوسف علیہ السلام کو پہچان لیا اور جا کر اپنی بیوی سے فرمایا کہ انہیں اچھی طرح رکھو۔ اور اس بزرگ کی صاحبزادی جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی نسبت اپنے باپ سے سفارش کی کہ انہیں اپنے کام پر رکھ لیجئے۔‏‏‏‏
یہ سنتے ہی اس بچی کے باپ نے فرمایا کہ اگر آپ علیہ السلام پسند کریں تو میں اس مہر پر ان دو بچیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دیتا ہوں کہ آپ آٹھ سال تک ہماری بکریاں چرائیں۔ ان دونوں کا نام صفوراً اور اولیا تھا یا صفوراً اور شرفایا صفوررا ورلیا۔ اصحاب ابی حنیفہ رحمۃ اللہ نے اسی سے استدلال کیا ہے کہ جب کوئی شخص اس طرح کی بیع کرے کہ ان دوغلاموں میں سے ایک کو ایک سوکے بدلے فروخت کرتا ہوں اور خریدار منظور کر لے تو یہ بیع ثابت اور صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس بزرگ نے کہا کہ آٹھ سال تو ضروری ہے اس کے بعد آپ علیہ السلام کو اختیار ہے دس سال کا۔ اگر آپ اپنی خوشی سے دو سال تک اور بھی میراکام کریں تو اچھا ہے ورنہ آپ علیہ السلام پر لازمی نہیں۔ آپ دیکھیں گے کی میں بد آدمی نہیں آپ کو تکلیف نہ دونگا۔‏‏‏‏
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کر کے فرمایا ہے کہ اگر کوئی کہے میں فلاں چیز کو نقد دس اور ادھار بیس پر بیچتا ہوں تو یہ بیع صحیح ہے اور خریدار کو اختیار ہے کہ دس پر نقد لے بیس پر ادھار لے۔‏‏‏‏ وہ اس حدیث کا بھی یہی مطلب لے رہے ہیں جس میں ہے { جو شخص دو بیع ایک بیع میں کرے اس کے لیے کمی والی بیع ہے یا سود }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3461،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏ لیکن یہ مذہب غور طلب ہے جس کی تفصیل کا یہ مقام نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اصحاب امام احمد رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ کھانے پینے اور کپڑے پر کسی کو مزدوری اور کام کاج پر لگا لینا درست ہے۔‏‏‏‏ اس کی دلیل میں ابن ماجہ کی ایک حدیث بھی ہے جو اس بات میں ہے کہ { مزدور مقرر کرنا اس مزدوری پر کہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا کرے گا اس میں حدیث لائیں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس کی تلاوت کی جب موسیٰ علیہ السلام کے ذکر تک پہنچے تو فرمانے لگے { موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیٹ کے بھرنے اور اپنی شرمگاہ کو بچانے کے لیے آٹھ سال یادس سال کے لیے اپنے آپ کو ملازم کر لیا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2444،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ اس حدیث کا راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے جو ضعیف ہے۔ یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن وہ سند بھی نظر سے خالی نہیں۔
کلیم اللہ علیہ السلام نے برزگ کی اس شرط کو قبول کر لیا اور فرمایا کہ ہم تم میں یہ طے شدہ فیصلہ ہے مجھے اختیار ہو گا کہ خواہ دس سال پورے کروں یا آٹھ سال کے بعد چھوڑ دوں آٹھ سال کے بعد آپ کا کوئی حق مزدوری مجھ پر لازم نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے اس معاملہ پر گواہ کرتے ہیں اسی کی کارسازی کافی ہے۔‏‏‏‏ تو گو دس سال پورا کرنا مباح ہے لیکن وہ فاضل چیز ہے ضروری نہیں ضروری آٹھ سال ہیں جیسے منٰی کے آخری دو دن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے اور جیسے کہ حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا جو بکثرت روزے رکھا کرتے تھے کہ { اگر تم سفر میں روزے رکھو تو تمہیں اختیار ہے اور اگر نہ رکھو تو تمہیں اختیار ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1121]‏‏‏‏ باوجود یکہ دوسری دلیل سے رکھنا افضل ہے۔
چنانچہ اس کی دلیل بھی آ چکی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال ہی پورے کئے۔ بخاری شریف میں ہے { سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے یہودیوں نے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے آٹھ سال پورے کئے تھے یا دس سال؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے خبر نہیں پھر میں عرب کے بہت بڑے عالم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان دونوں میں جو زیادہ اور پاک مدت تھی وہی آپ علیہ السلام نے پوری کی یعنی دس سال۔ اللہ تعالیٰ کے نبی جو کہتے ہیں پورا کرتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2684]‏‏‏‏
حدیث فنون میں ہے کہ { سائل نصرانی تھا } لیکن بخاری میں جو ہے وہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے کون سی مدت پوری کی تھی تو جواب ملا کہ ان دونوں میں سے جو کامل اور مکمل مدت تھی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27409:ضعیف]‏‏‏‏
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا جبرائیل علیہ السلام نے اور فرشتے سے یہاں تک کہ فرشتے نے اللہ سے۔ اللہ نے جواب دیا کہ ’ دونوں میں ہی پاک اور پوری مدت یعنی دس سال ‘ }۔
ایک حدیث میں ہے کہ { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال کی مدت کا پورا کرنا بتایا اور یہ بھی فرمایا کہ { اگر تجھ سے پوچھا جائے کہ کون سی لڑکی سے موسیٰ علیہ السلام نے نکاح کیا تھا تو جواب دینا کہ دونوں میں جو چھوٹی تھیں } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2244:ضعیف]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت دراز کو پورا کرنا بتایا پھر فرمایا کہ { جب موسیٰ علیہ السلام، شعیب علیہ السلام سے رخصتی لے کر جانے لگے تو اپنی بیوی صاحبہ سے فرمایا کہ اپنے والد سے کچھ بکریاں لے لو جن سے ہمارا گزارہ ہو جائے آپ نے اپنے والد سے سوال کیا جس پر انہوں نے وعدہ کیا کہ اس میں سے جتنی چت کبری بکریاں ہونگی سب تمہاری۔ موسیٰ علیہ السلام نے بکریوں کے پیٹ پر اپنی لکڑی پھیری تو ہر ایک کو دو دو تین تین بچے ہوئے اور سب کے سب چتکبرے جن کی نسل اب تک تلاش کرنے سے مل سکتی ہے } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2246:ضعیف]‏‏‏‏
دوسری روایت میں ہے کہ شعیب علیہ السلام کی سب بکریاں کالے رنگ کی خوبصورت تھیں۔ جتنے بچے ان کے اس سال ہوئے سب کے سب بے عیب تھے اور بڑے بڑے بھرے ہوئے تھنوں والے اور زیادہ دودھ دینے والے ان تمام روایتوں کا مدار عبداللہ بن لہیعہ پر ہے جو حافظہ کے اچھے نہیں اور ڈر ہے کہ یہ روایتیں مرفوع نہ ہوں۔
چنانچہ اور سند سے یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ سب بکریوں کے بچے اس سال ابلق ہوئے سوائے ایک بکری کے۔ جن سب کو آپ علیہ السلام لے گئے۔