فَجَآءَتۡہُ اِحۡدٰىہُمَا تَمۡشِیۡ عَلَی اسۡتِحۡیَآءٍ ۫ قَالَتۡ اِنَّ اَبِیۡ یَدۡعُوۡکَ لِیَجۡزِیَکَ اَجۡرَ مَا سَقَیۡتَ لَنَا ؕ فَلَمَّا جَآءَہٗ وَ قَصَّ عَلَیۡہِ الۡقَصَصَ ۙ قَالَ لَا تَخَفۡ ٝ۟ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۵﴾
تو ان دونوں میں سے ایک بہت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی، اس نے کہا بے شک میرا والد تجھے بلا رہا ہے، تاکہ تجھے اس کا بدلہ دے جو تو نے ہمارے لیے پانی پلایا ہے۔ تو جب وہ اس کے پاس آیا اور اس کے سامنے حال بیان کیا تو اس نے کہا خوف نہ کر، تو ان ظالم لوگوں سے بچ نکلا ہے۔
En
(تھوڑی دیر کے بعد) ان میں سے ایک عورت جو شرماتی اور لجاتی چلی آتی تھی۔ موسٰی کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ تم کو میرے والد بلاتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے لئے پانی پلایا تھا اس کی تم کو اُجرت دیں۔ جب وہ اُن کے پاس آئے اور اُن سے اپنا ماجرا بیان کیا تو اُنہوں نے کہا کہ کچھ خوف نہ کرو۔ تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو
En
اتنے میں ان دونوں عورتوں میں سے ایک ان کی طرف شرم وحیا سے چلتی ہوئی آئی، کہنے لگی کہ میرے باپ آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے (جانوروں) کو جو پانی پلایا ہے اس کی اجرت دیں، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس پہنچے اور ان سے اپنا سارا حال بیان کیا تو وه کہنے لگے اب نہ ڈر تو نے ﻇالم قوم سے نجات پائی
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 25) ➊ {فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَى اسْتِحْيَآءٍ: ”عَلٰي حَيَاءٍ“} کا معنی ہے حیا کے ساتھ، {” عَلَى اسْتِحْيَآءٍ “} میں حروف زیادہ ہونے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی بہت حیا کے ساتھ۔
➋ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”عورتوں نے پہچانا کہ چھاؤں پکڑتا ہے مسافر ہے، دور سے آیا ہوا تھکا، بھوکا، جا کر اپنے باپ سے کہا۔“ ابن کثیر لکھتے ہیں: ”جب وہ دونوں باپ کے پاس جلدی واپس پہنچ گئیں تو اسے تعجب ہوا اور اس نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کے احسان کا ذکر کیا، تو اس نے ان میں سے ایک کو انھیں بلانے کے لیے بھیجا۔“
➌ ” تو ان دونوں میں سے ایک بہت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ کے پاس آئی۔“ سبحان اللہ! وہ خاتون کس قدر باحیا ہو گی جس کے بہت حیا کی شہادت رب العالمین نے دی ہے۔ {” تَمْشِيْ بِاسْتِحْيَاءٍ“} کے بجائے {” تَمْشِيْ عَلَى اسْتِحْيَآءٍ “} اس لیے فرمایا گویا وہ حیا کی سواری پر سوار ہو کر چلی آ رہی تھی، حیا کی ہر صورت اس کی دسترس میں تھی۔ ابن ابی حاتم نے عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: [ «{ فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَى اسْتِحْيَآءٍ }» قَائِلَةٌ بِثَوْبِهَا عَلٰی وَجْهِهَا لَيْسَتْ بِسَلْفَعِ مِنَ النِّسَاءِ وَلَّاجَةً، خَرَّاجَةً] [طبري: ۲۷۵۸۵۔ ابن أبي حاتم: ۱۶۸۳۲] ”وہ نہایت حیا کے ساتھ اپنا کپڑا چہرے پر ڈالے ہوئے آئی، بے باک عورتوں کی طرح نہیں جو بے دھڑک اور بے خوف چلی آتی ہوں، ہر جگہ جا گھستی ہر طرف نکل جاتی ہوں۔“ ابن کثیر نے فرمایا: {” هٰذَا إِسْنَادٌ صَحِيْحٌ “} اور تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا: {”وَ سَنَدُهُ صَحِيْحٌ۔“} ظاہر یہی ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے، مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ہاں حیا کا مطلب کیا تھا۔ جو لوگ چہرے کے پردے کے قائل نہیں انھیں غور کرنا چاہیے کہ امیر المومنین چہرہ ڈھانکنے کو حیا قرار دے رہے ہیں۔
➍ { قَالَتْ اِنَّ اَبِيْ يَدْعُوْكَ:} اس خاتون کے بلانے کے انداز سے بھی اس کی کمال دانائی اور حیا ظاہر ہو رہی ہے۔ اس نے اپنی طرف سے ساتھ چلنے کو نہیں کہا، بلکہ باپ کی طرف سے پیغام دیا، کیونکہ ایک باحیا خاتون کو زیب ہی نہیں دیتا کہ کسی اجنبی مرد کو ساتھ چلنے کے لیے کہے۔
➎ { لِيَجْزِيَكَ اَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا:} یہ بات بھی اس نے حیا ہی کی وجہ سے کہی، کیونکہ ایک غیر مرد کو ساتھ لے جانے کی کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے، اس کے بغیر شبہات پیدا ہو سکتے تھے، جن کا اس نے پہلے ہی سدباب کر دیا۔
➏ یہاں مفسرین نے ایک سوال اٹھایا ہے کہ انبیاء تو احسان کا بدلا نہیں لیتے، پھر موسیٰ علیہ السلام پانی پلانے کی اجرت لینے کے لیے کیوں چل پڑے؟ جواب اس کا ایک تو یہ ہے کہ یہ معروف معنوں میں اجرت نہیں، بلکہ احسان کا بدلا ہے، احسان کے بدلے میں کوئی احسان کرے تو اسے قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ }» [الرحمٰن: ۶۰]”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول کرتے تھے اور اس کا بدلا بھی دیتے تھے، حدیث کے الفاظ ہیں: [كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَ يُثِيْبُ عَلَيْهَا] [بخاري، الھبۃ، باب المکافأۃ في الھبۃ: ۲۵۸۵] پھر موسیٰ علیہ السلام اس وقت سخت اضطرار کی حالت میں تھے، انھوں نے اس دعوت کو اپنی دعا کی قبولیت کا نتیجہ سمجھا اور خواہ مخواہ کی خود داری سے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اس موقع کو ضائع نہیں کیا۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ اگر کسی کو اصرار ہو کہ یہ اجرت ہی تھی تو محنت کے بدلے میں مزدوری لینا موسیٰ علیہ السلام منع نہیں سمجھتے تھے، نہ ہی یہ منع ہے، خصوصاً جب کوئی بلا طلب مزدوری دے دے، جیسا کہ خضر علیہ السلام کے واقعہ میں ہے کہ جب انھوں نے گرتی ہوئی دیوار سیدھی کر دی تو موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: «{ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ اَجْرًا }» [الکہف: ۷۷] ”اگر تو چاہتا تو ضرور اس پر کچھ اجرت لے لیتا۔“
➐ { فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ:} جب موسیٰ علیہ السلام اس بزرگ کے پاس آئے تو ظاہر ہے سب سے پہلی بات تعارف تھا، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنا نام و نسب، اپنی قوم پر فرعون کا ظلم و ستم، اپنی پیدائش اور پرورش کا قصہ اور ایک نادانستہ قتل پر فرعون کے ان کی جان کے درپے ہونے کا حال بیان کیا۔
➑ { قَالَ لَا تَخَفْ …:} اس بزرگ نے کھانا وغیرہ پیش کرنے سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کا خوف دور کیا، کیونکہ خوف میں مبتلا شخص بھوک کے مارے کھانا کھائے بھی تو اس میں اسے لذت نہیں ملتی، اس لیے سب سے پہلے اس نے کہا ڈرو مت، اس جگہ فرعون کی حکومت نہیں، تم ان ظالموں سے نجات پا چکے ہو۔ اس کے بعد نہایت عزت و احترام سے ان کی مہمان نوازی کی۔
➋ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”عورتوں نے پہچانا کہ چھاؤں پکڑتا ہے مسافر ہے، دور سے آیا ہوا تھکا، بھوکا، جا کر اپنے باپ سے کہا۔“ ابن کثیر لکھتے ہیں: ”جب وہ دونوں باپ کے پاس جلدی واپس پہنچ گئیں تو اسے تعجب ہوا اور اس نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کے احسان کا ذکر کیا، تو اس نے ان میں سے ایک کو انھیں بلانے کے لیے بھیجا۔“
➌ ” تو ان دونوں میں سے ایک بہت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ کے پاس آئی۔“ سبحان اللہ! وہ خاتون کس قدر باحیا ہو گی جس کے بہت حیا کی شہادت رب العالمین نے دی ہے۔ {” تَمْشِيْ بِاسْتِحْيَاءٍ“} کے بجائے {” تَمْشِيْ عَلَى اسْتِحْيَآءٍ “} اس لیے فرمایا گویا وہ حیا کی سواری پر سوار ہو کر چلی آ رہی تھی، حیا کی ہر صورت اس کی دسترس میں تھی۔ ابن ابی حاتم نے عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: [ «{ فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَى اسْتِحْيَآءٍ }» قَائِلَةٌ بِثَوْبِهَا عَلٰی وَجْهِهَا لَيْسَتْ بِسَلْفَعِ مِنَ النِّسَاءِ وَلَّاجَةً، خَرَّاجَةً] [طبري: ۲۷۵۸۵۔ ابن أبي حاتم: ۱۶۸۳۲] ”وہ نہایت حیا کے ساتھ اپنا کپڑا چہرے پر ڈالے ہوئے آئی، بے باک عورتوں کی طرح نہیں جو بے دھڑک اور بے خوف چلی آتی ہوں، ہر جگہ جا گھستی ہر طرف نکل جاتی ہوں۔“ ابن کثیر نے فرمایا: {” هٰذَا إِسْنَادٌ صَحِيْحٌ “} اور تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا: {”وَ سَنَدُهُ صَحِيْحٌ۔“} ظاہر یہی ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے، مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ہاں حیا کا مطلب کیا تھا۔ جو لوگ چہرے کے پردے کے قائل نہیں انھیں غور کرنا چاہیے کہ امیر المومنین چہرہ ڈھانکنے کو حیا قرار دے رہے ہیں۔
➍ { قَالَتْ اِنَّ اَبِيْ يَدْعُوْكَ:} اس خاتون کے بلانے کے انداز سے بھی اس کی کمال دانائی اور حیا ظاہر ہو رہی ہے۔ اس نے اپنی طرف سے ساتھ چلنے کو نہیں کہا، بلکہ باپ کی طرف سے پیغام دیا، کیونکہ ایک باحیا خاتون کو زیب ہی نہیں دیتا کہ کسی اجنبی مرد کو ساتھ چلنے کے لیے کہے۔
➎ { لِيَجْزِيَكَ اَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا:} یہ بات بھی اس نے حیا ہی کی وجہ سے کہی، کیونکہ ایک غیر مرد کو ساتھ لے جانے کی کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے، اس کے بغیر شبہات پیدا ہو سکتے تھے، جن کا اس نے پہلے ہی سدباب کر دیا۔
➏ یہاں مفسرین نے ایک سوال اٹھایا ہے کہ انبیاء تو احسان کا بدلا نہیں لیتے، پھر موسیٰ علیہ السلام پانی پلانے کی اجرت لینے کے لیے کیوں چل پڑے؟ جواب اس کا ایک تو یہ ہے کہ یہ معروف معنوں میں اجرت نہیں، بلکہ احسان کا بدلا ہے، احسان کے بدلے میں کوئی احسان کرے تو اسے قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ }» [الرحمٰن: ۶۰]”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول کرتے تھے اور اس کا بدلا بھی دیتے تھے، حدیث کے الفاظ ہیں: [كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَ يُثِيْبُ عَلَيْهَا] [بخاري، الھبۃ، باب المکافأۃ في الھبۃ: ۲۵۸۵] پھر موسیٰ علیہ السلام اس وقت سخت اضطرار کی حالت میں تھے، انھوں نے اس دعوت کو اپنی دعا کی قبولیت کا نتیجہ سمجھا اور خواہ مخواہ کی خود داری سے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اس موقع کو ضائع نہیں کیا۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ اگر کسی کو اصرار ہو کہ یہ اجرت ہی تھی تو محنت کے بدلے میں مزدوری لینا موسیٰ علیہ السلام منع نہیں سمجھتے تھے، نہ ہی یہ منع ہے، خصوصاً جب کوئی بلا طلب مزدوری دے دے، جیسا کہ خضر علیہ السلام کے واقعہ میں ہے کہ جب انھوں نے گرتی ہوئی دیوار سیدھی کر دی تو موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: «{ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ اَجْرًا }» [الکہف: ۷۷] ”اگر تو چاہتا تو ضرور اس پر کچھ اجرت لے لیتا۔“
➐ { فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ:} جب موسیٰ علیہ السلام اس بزرگ کے پاس آئے تو ظاہر ہے سب سے پہلی بات تعارف تھا، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنا نام و نسب، اپنی قوم پر فرعون کا ظلم و ستم، اپنی پیدائش اور پرورش کا قصہ اور ایک نادانستہ قتل پر فرعون کے ان کی جان کے درپے ہونے کا حال بیان کیا۔
➑ { قَالَ لَا تَخَفْ …:} اس بزرگ نے کھانا وغیرہ پیش کرنے سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کا خوف دور کیا، کیونکہ خوف میں مبتلا شخص بھوک کے مارے کھانا کھائے بھی تو اس میں اسے لذت نہیں ملتی، اس لیے سب سے پہلے اس نے کہا ڈرو مت، اس جگہ فرعون کی حکومت نہیں، تم ان ظالموں سے نجات پا چکے ہو۔ اس کے بعد نہایت عزت و احترام سے ان کی مہمان نوازی کی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
25-1اللہ نے حضرت موسیٰ ؑ کی دعا قبول فرمالی اور دونوں میں سے ایک لڑکی انہیں بلانے آگئی۔ لڑکی کی شرم و حیا کا قرآن نے بطور خاص ذکر کیا ہے کہ یہ عورت کا اصل زیور ہے اور مردوں کی طرح حیاء و حجاب سے بےنیازی اور بےباکی عورت کے لئے شرعا ناپسندیدہ ہے۔ 25-2بچیوں کا باپ کون تھا؟ قرآن کریم نے وضاحت سے کسی کا نام نہیں لیا ہے۔ مفسرین کی اکثریت نے اس سے مراد حضرت شعیب ؑ کو لیا ہے جو اہل مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ امام شوکانی نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ لیکن امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب ؑ کا زمانہ نبوت، حضرت موسیٰ ؑ سے بہت پہلے کا ہے۔ اس لئے یہاں حضرت شعیب ؑ کا برادر زادہ یا کوئی اور قوم شعیب ؑ کا شخص مراد ہے، واللہ اعلم۔ بہرحال حضرت موسیٰ ؑ نے بچیوں کے ساتھ ہمدردی اور احسان کیا، وہ بچیوں نے جا کر بوڑھے باپ کو بتلایا، جس سے باپ کے دل میں بھی ہمدردی پیدا ہوئی کہ احسان کا بدلہ احسان کے ساتھ دیا جائے یا اس کی محنت کی اجرت ہی ادا کردی جائے۔ 25-3یعنی اپنے مصر کی سرگزشت اور فرعون کے ظلم و ستم کی تفصیل سنائی جس پر انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ فرعون کی حدود حکمرانی سے باہر ہے اس لئے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ نے ظالموں سے نجات عطا فرما دی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ اتنے میں ان دونوں عورتوں میں سے ایک عورت شرم سے کانپتی ہوئی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”آپ نے ہماری بکریوں کو جو پانی پلایا ہے تو میرا باپ آپ کو بلاتا ہے تاکہ آپ کو اس کا اس کا صلہ دے“ [34] پھر جب موسیٰ اس شخص (شعیب) کے پاس آئے اور انھیں اپنا سارا [35] حال سنایا تو اس نے کہا: ڈرو نہیں۔ تم نے ان ظالموں سے نجات پا لی“
[34] سیدنا شعیبؑ کا موسیٰ کو اپنے پاس بلانا:۔
یہ عورتیں دل ہی دل میں ان کی احسان مند تھیں کہ ایک اجنبی شخص نے ان سے کیسی بھلائی کی ہے۔ واپس جاتے ہوئے مڑ کر جو دیکھا تو موسیٰؑ ایک درخت کے سایہ میں آبیٹھے تھے۔ اس سے انہوں نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ کوئی مسافر ہے۔ جس کے رہنے کے لئے یہاں کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ موسیٰؑ کو ابھی سایہ میں بیٹھے اور اللہ سے دعا کئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی، کہ ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی لجائی شرمائی منہ چھپائے اور گھونگٹ لٹکائے آپ کے پاس آ کر کہنے لگی کہ میرا والد آپ کو بلا رہا ہے۔ آپ نے ہماری بکریوں کو پانی پلا کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے وہ آپ کو اس کا کچھ بدلہ دینا چاہتا ہے۔ گویا اللہ نے حضرت موسیٰؑ کی دعا کو بہت بلند شرف قبولیت بخشا اور جس خیر کو طلب کر رہے تھے اللہ نے غیر متوقع طور پر اس خبر کا فوراً سامان کر دیا۔ موسیٰؑ فوراً اس لڑکی کے ساتھ ہو لئے۔ اسی بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ بھوک سے کس قدر بے تاب تھے۔ پھر وہ اس جگہ ٹھکانا بھی چاہتے تھے اور اپنا کوئی مونس غم خوار بھی انھیں درکار تھا۔ ورنہ ایک شریف آدمی نے اگر عورت ذات کو پریشانی میں مبتلا دیکھ کر اس کی کوئی مدد کر دی ہو تو حضرت موسیٰؑ جیسے عالی ظرف انسان کے لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ اس کام کا بدلہ دینے کے لئے کہا جائے تو وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوں۔ آپ نے بھی اس لڑکی سے کہا کہ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں مگر میں آگے آگے چلوں گا تم میرے پیچھے پیچھے آؤ۔ البتہ مجھے راستہ کی رہنمائی کرتے جانا اور یہ آپ نے اس لئے کہا کہ اجنبی عورت پر عمداً نظر پڑنے کی نوبت نہ آئے۔ چنانچہ وہ پیچھے پیچھے راستہ بتلاتی انھیں لے کر اپنے گھر پہنچ گئی۔
[35] مدین میں سیدنا موسیٰؑ کے قیام کا بندوبست:۔
گھر پہنچ کر موسیٰؑ نے لڑکیوں کے باپ کو اپنی زندگی کے مختصراً اور واقعہ قتل اور وہاں سے فرار ہونے کا واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ سنا دیا۔ اگرچہ لڑکیوں کے باپ کے متعلق یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا وہ شعیبؑ تھے یا کوئی اور بزرگ تھے۔ لیکن اکثر مفسرین نے اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ وہ شعیبؑ تھے۔ بہرحال جو بزرگ بھی وہ تھے، نیک اور دیندار تھے وہ دین ابراہیمی کے پیرو تھے۔ ان میں اور موسیٰؑ کے عقائد و خیالات اور کردار میں پوری ہم آہنگی پائی جاتی تھی۔ چنانچہ موسیٰؑ کے حالات سن کر انہوں نے تسلی دی کہ اب گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آپ اس ظالم قوم کی حکومت کی حدود سے باہر آ چکے ہیں اور اب آپ میرے ہاں قیام فرمائیے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے وقتی طور پر موسیٰ کے قیام و طعام کا مسئلہ حل فرما دیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
موسیٰ اور شعیب علیہما السلام کا معاہدہ ٭٭
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب موسیٰ علیہ السلام نے پانی پلا دیا تو یہ اپنی بکریاں لے کر واپس اپنے گھر گئیں۔ باپ نے دیکھا کہ آج وقت سے پہلے یہ آگئیں ہیں تو دریافت فرمایا کہ ”آج کیا بات ہے؟“ انہوں نے سچا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے اسی وقت ان دونوں میں سے ایک کو بھیجا کہ جاؤ اور ان کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں اور جس طرح گھر گھرہست پاک دامن عفیفہ عورتوں کا دستور ہوتا ہے شرم وحیاء سے اپنی چادر میں لپٹی ہوئی پردے کے ساتھ چل رہی تھی۔ منہ بھی چادر کے کنارے سے چھپائے ہوئے تھیں پھر اس دانائی اور صداقت کو دیکھئیے کہ صرف یہی نہیں کہا کہ ”میرے ابا آپ علیہ السلام کو بلا رہے ہیں“ کیونکہ اس میں شبہ کی باتوں کی گنجائش تھی صاف کہہ دیا کہ ”میرے والد آپ کی مزدوری دینے کے لیے اور اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لیے بلا رہے ہیں، جو آپ علیہ السلام نے ہماری بکریوں کو پانی پلا کر ہمارے ساتھ کیا ہے۔“
کلیم اللہ علیہ السلام کو جو بھوکے پیاسے تن تنہا مسافر اور بے خرچ تھے یہ موقعہ غنیمت معلوم ہوا یہاں آئے۔ انہیں ایک بزرگ سمجھ کر ان کے سوال پر اپنا سارا واقعہ بلا کم و کاست سنایا۔ انہوں نے دلجوئی کی اور فرمایا اب کیا خوف ہے؟ ان ظالموں کے ہاتھ سے آپ نکل آئے۔ یہاں ان کی حکومت نہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ بزرگ شعیب علیہ السلام تھے جو مدین والوں کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہوئے تھے۔ یہ مشہور قول ہے۔
کلیم اللہ علیہ السلام کو جو بھوکے پیاسے تن تنہا مسافر اور بے خرچ تھے یہ موقعہ غنیمت معلوم ہوا یہاں آئے۔ انہیں ایک بزرگ سمجھ کر ان کے سوال پر اپنا سارا واقعہ بلا کم و کاست سنایا۔ انہوں نے دلجوئی کی اور فرمایا اب کیا خوف ہے؟ ان ظالموں کے ہاتھ سے آپ نکل آئے۔ یہاں ان کی حکومت نہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ بزرگ شعیب علیہ السلام تھے جو مدین والوں کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہوئے تھے۔ یہ مشہور قول ہے۔
امام حسن بصری رحمۃ اللہ اور بہت سے علماء بھی یہی فرماتے ہیں۔ طبرانی کی ایک حدیث میں ہے کہ { جب سعد رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی طرف سے ایلچی بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شعیب علیہ السلام کی قوم اور موسیٰ علیہ السلام کے سسرال والوں کو مرحبا ہو کہ تمہیں ہدایت کی گئی } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2828:ضعیف]
بعض کہتے ہیں کہ یہ شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے کوئی کہتا ہے کہ قوم شعیب علیہ السلام کے ایک مومن مرد تھے۔ بعض کا قول ہے کہ شعیب علیہ السلام کا زمانہ تو موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے بہت پہلے کا ہے۔
ان کا قول قرآن میں اپنی قوم سے یہ مروی ہے کہ «وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ» ۱؎ [11-ھود:89] یعنی ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ لوطیوں کی ہلاکت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے میں ہوئی تھی۔ اور یہ بھی بہت ظاہر ہے کہ ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام کے درمیان کا زمانہ بہت لمبا زمانہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کا ہے جیسے اکثر مورخین کا قول ہے ہاں بعض لوگوں نے اس مشکل کا یہ جواب دیا ہے کہ شعیب علیہ السلام کی بڑی لمبی عمر ہوئی تھی۔ ان کا مقصد غالباً اس اعتراض سے بچنا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بعض کہتے ہیں کہ یہ شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے کوئی کہتا ہے کہ قوم شعیب علیہ السلام کے ایک مومن مرد تھے۔ بعض کا قول ہے کہ شعیب علیہ السلام کا زمانہ تو موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے بہت پہلے کا ہے۔
ان کا قول قرآن میں اپنی قوم سے یہ مروی ہے کہ «وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ» ۱؎ [11-ھود:89] یعنی ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ لوطیوں کی ہلاکت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے میں ہوئی تھی۔ اور یہ بھی بہت ظاہر ہے کہ ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام کے درمیان کا زمانہ بہت لمبا زمانہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کا ہے جیسے اکثر مورخین کا قول ہے ہاں بعض لوگوں نے اس مشکل کا یہ جواب دیا ہے کہ شعیب علیہ السلام کی بڑی لمبی عمر ہوئی تھی۔ ان کا مقصد غالباً اس اعتراض سے بچنا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک اور بات بھی خیال میں رہے کہ اگر یہ بزرگ شعیب علیہ السلام ہی ہوئے تو چاہیئے تھا کہ قرآن میں اس موقعہ پر ان کا نام صاف لے دیا جاتا۔ ہاں البتہ بعض احادیث میں یہ آیا ہے کہ یہ شعیب علیہ السلام تھے۔ لیکن ان احادیث کی سندیں صحیح نہیں جیسے کہ ہم عنقریب وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا نام ثیرون بتلایاگیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے فرماتے ہیں ثیرون شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ یثربی تھے۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بات اس وقت ہوتی کہ جب اس بارے میں کوئی خبر مروی ہوتی اور ایسا ہے نہیں۔ ان کی دونوں صاحبزادیوں میں سے ایک نے باپ کی توجہ دلائی۔ یہ توجہ دلانے والی صاحبزادی وہی تھیں جو آپ علیہ السلام کو بلانے گئی تھیں۔ کہا کہ ”انہیں آپ ہماری بکریوں کی چرائی پر رکھ لیجئے کیونکہ وہ کام کرنے والا اچھا ہوتا ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔“ باپ نے بیٹی سے پوچھا ”تم نے یہ کیسے جان لیا کہ ان میں یہ دونوں وصف ہیں۔“ بچی نے جواب دیا کہ ”دس آدمی مل کر جس پتھر کو کنویں سے ہٹا سکتے تھے انہوں نے تنہا اس کو ہٹا دیا ان سے ان کی قوت کا اندازہ با آسانی ہوسکتا ہے۔ امانت داری کا علم مجھے اس طرح ہوا کہ جب میں انہیں لے کر آپ کے پاس آنے لگی تو اس لیے کہ راستے سے ناواقف تھے میں آگے ہولی انہوں نے کہاتم میرے پیچھے رہو اور جہاں راستہ بدلنا ہو اس طرف کنکر پھینک دینا میں سمجھ لونگا کہ مجھے اس راستے چلنا چاہیئے۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین شخص کی سی زیرکی، معاملہ فہی، دانائی اور دوربینی کسی اور میں نہیں پائی گئی، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دانائی کہ جب انہوں نے اپنے بعد خلافت کے لیے جناب عمر رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا۔ یوسف علیہ السلام کے خریدنے والے مصری جنہوں نے بیک نظر یوسف علیہ السلام کو پہچان لیا اور جا کر اپنی بیوی سے فرمایا کہ انہیں اچھی طرح رکھو۔ اور اس بزرگ کی صاحبزادی جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی نسبت اپنے باپ سے سفارش کی کہ انہیں اپنے کام پر رکھ لیجئے۔“
یہ سنتے ہی اس بچی کے باپ نے فرمایا کہ ”اگر آپ علیہ السلام پسند کریں تو میں اس مہر پر ان دو بچیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دیتا ہوں کہ آپ آٹھ سال تک ہماری بکریاں چرائیں۔ ان دونوں کا نام صفوراً اور اولیا تھا یا صفوراً اور شرفایا صفوررا ورلیا۔ اصحاب ابی حنیفہ رحمۃ اللہ نے اسی سے استدلال کیا ہے کہ جب کوئی شخص اس طرح کی بیع کرے کہ ان دوغلاموں میں سے ایک کو ایک سوکے بدلے فروخت کرتا ہوں اور خریدار منظور کر لے تو یہ بیع ثابت اور صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے فرماتے ہیں ثیرون شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ یثربی تھے۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بات اس وقت ہوتی کہ جب اس بارے میں کوئی خبر مروی ہوتی اور ایسا ہے نہیں۔ ان کی دونوں صاحبزادیوں میں سے ایک نے باپ کی توجہ دلائی۔ یہ توجہ دلانے والی صاحبزادی وہی تھیں جو آپ علیہ السلام کو بلانے گئی تھیں۔ کہا کہ ”انہیں آپ ہماری بکریوں کی چرائی پر رکھ لیجئے کیونکہ وہ کام کرنے والا اچھا ہوتا ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔“ باپ نے بیٹی سے پوچھا ”تم نے یہ کیسے جان لیا کہ ان میں یہ دونوں وصف ہیں۔“ بچی نے جواب دیا کہ ”دس آدمی مل کر جس پتھر کو کنویں سے ہٹا سکتے تھے انہوں نے تنہا اس کو ہٹا دیا ان سے ان کی قوت کا اندازہ با آسانی ہوسکتا ہے۔ امانت داری کا علم مجھے اس طرح ہوا کہ جب میں انہیں لے کر آپ کے پاس آنے لگی تو اس لیے کہ راستے سے ناواقف تھے میں آگے ہولی انہوں نے کہاتم میرے پیچھے رہو اور جہاں راستہ بدلنا ہو اس طرف کنکر پھینک دینا میں سمجھ لونگا کہ مجھے اس راستے چلنا چاہیئے۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین شخص کی سی زیرکی، معاملہ فہی، دانائی اور دوربینی کسی اور میں نہیں پائی گئی، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دانائی کہ جب انہوں نے اپنے بعد خلافت کے لیے جناب عمر رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا۔ یوسف علیہ السلام کے خریدنے والے مصری جنہوں نے بیک نظر یوسف علیہ السلام کو پہچان لیا اور جا کر اپنی بیوی سے فرمایا کہ انہیں اچھی طرح رکھو۔ اور اس بزرگ کی صاحبزادی جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی نسبت اپنے باپ سے سفارش کی کہ انہیں اپنے کام پر رکھ لیجئے۔“
یہ سنتے ہی اس بچی کے باپ نے فرمایا کہ ”اگر آپ علیہ السلام پسند کریں تو میں اس مہر پر ان دو بچیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دیتا ہوں کہ آپ آٹھ سال تک ہماری بکریاں چرائیں۔ ان دونوں کا نام صفوراً اور اولیا تھا یا صفوراً اور شرفایا صفوررا ورلیا۔ اصحاب ابی حنیفہ رحمۃ اللہ نے اسی سے استدلال کیا ہے کہ جب کوئی شخص اس طرح کی بیع کرے کہ ان دوغلاموں میں سے ایک کو ایک سوکے بدلے فروخت کرتا ہوں اور خریدار منظور کر لے تو یہ بیع ثابت اور صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس بزرگ نے کہا کہ ”آٹھ سال تو ضروری ہے اس کے بعد آپ علیہ السلام کو اختیار ہے دس سال کا۔ اگر آپ اپنی خوشی سے دو سال تک اور بھی میراکام کریں تو اچھا ہے ورنہ آپ علیہ السلام پر لازمی نہیں۔ آپ دیکھیں گے کی میں بد آدمی نہیں آپ کو تکلیف نہ دونگا۔“
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کر کے فرمایا ہے کہ ”اگر کوئی کہے میں فلاں چیز کو نقد دس اور ادھار بیس پر بیچتا ہوں تو یہ بیع صحیح ہے اور خریدار کو اختیار ہے کہ دس پر نقد لے بیس پر ادھار لے۔“ وہ اس حدیث کا بھی یہی مطلب لے رہے ہیں جس میں ہے { جو شخص دو بیع ایک بیع میں کرے اس کے لیے کمی والی بیع ہے یا سود }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3461،قال الشيخ الألباني:حسن] لیکن یہ مذہب غور طلب ہے جس کی تفصیل کا یہ مقام نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اصحاب امام احمد رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ ”کھانے پینے اور کپڑے پر کسی کو مزدوری اور کام کاج پر لگا لینا درست ہے۔“ اس کی دلیل میں ابن ماجہ کی ایک حدیث بھی ہے جو اس بات میں ہے کہ { مزدور مقرر کرنا اس مزدوری پر کہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا کرے گا اس میں حدیث لائیں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس کی تلاوت کی جب موسیٰ علیہ السلام کے ذکر تک پہنچے تو فرمانے لگے { موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیٹ کے بھرنے اور اپنی شرمگاہ کو بچانے کے لیے آٹھ سال یادس سال کے لیے اپنے آپ کو ملازم کر لیا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2444،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث کا راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے جو ضعیف ہے۔ یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن وہ سند بھی نظر سے خالی نہیں۔
کلیم اللہ علیہ السلام نے برزگ کی اس شرط کو قبول کر لیا اور فرمایا کہ ”ہم تم میں یہ طے شدہ فیصلہ ہے مجھے اختیار ہو گا کہ خواہ دس سال پورے کروں یا آٹھ سال کے بعد چھوڑ دوں آٹھ سال کے بعد آپ کا کوئی حق مزدوری مجھ پر لازم نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے اس معاملہ پر گواہ کرتے ہیں اسی کی کارسازی کافی ہے۔“ تو گو دس سال پورا کرنا مباح ہے لیکن وہ فاضل چیز ہے ضروری نہیں ضروری آٹھ سال ہیں جیسے منٰی کے آخری دو دن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے اور جیسے کہ حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا جو بکثرت روزے رکھا کرتے تھے کہ { اگر تم سفر میں روزے رکھو تو تمہیں اختیار ہے اور اگر نہ رکھو تو تمہیں اختیار ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1121] باوجود یکہ دوسری دلیل سے رکھنا افضل ہے۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کر کے فرمایا ہے کہ ”اگر کوئی کہے میں فلاں چیز کو نقد دس اور ادھار بیس پر بیچتا ہوں تو یہ بیع صحیح ہے اور خریدار کو اختیار ہے کہ دس پر نقد لے بیس پر ادھار لے۔“ وہ اس حدیث کا بھی یہی مطلب لے رہے ہیں جس میں ہے { جو شخص دو بیع ایک بیع میں کرے اس کے لیے کمی والی بیع ہے یا سود }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3461،قال الشيخ الألباني:حسن] لیکن یہ مذہب غور طلب ہے جس کی تفصیل کا یہ مقام نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اصحاب امام احمد رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ ”کھانے پینے اور کپڑے پر کسی کو مزدوری اور کام کاج پر لگا لینا درست ہے۔“ اس کی دلیل میں ابن ماجہ کی ایک حدیث بھی ہے جو اس بات میں ہے کہ { مزدور مقرر کرنا اس مزدوری پر کہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا کرے گا اس میں حدیث لائیں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس کی تلاوت کی جب موسیٰ علیہ السلام کے ذکر تک پہنچے تو فرمانے لگے { موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیٹ کے بھرنے اور اپنی شرمگاہ کو بچانے کے لیے آٹھ سال یادس سال کے لیے اپنے آپ کو ملازم کر لیا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2444،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث کا راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے جو ضعیف ہے۔ یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن وہ سند بھی نظر سے خالی نہیں۔
کلیم اللہ علیہ السلام نے برزگ کی اس شرط کو قبول کر لیا اور فرمایا کہ ”ہم تم میں یہ طے شدہ فیصلہ ہے مجھے اختیار ہو گا کہ خواہ دس سال پورے کروں یا آٹھ سال کے بعد چھوڑ دوں آٹھ سال کے بعد آپ کا کوئی حق مزدوری مجھ پر لازم نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے اس معاملہ پر گواہ کرتے ہیں اسی کی کارسازی کافی ہے۔“ تو گو دس سال پورا کرنا مباح ہے لیکن وہ فاضل چیز ہے ضروری نہیں ضروری آٹھ سال ہیں جیسے منٰی کے آخری دو دن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے اور جیسے کہ حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا جو بکثرت روزے رکھا کرتے تھے کہ { اگر تم سفر میں روزے رکھو تو تمہیں اختیار ہے اور اگر نہ رکھو تو تمہیں اختیار ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1121] باوجود یکہ دوسری دلیل سے رکھنا افضل ہے۔
چنانچہ اس کی دلیل بھی آ چکی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال ہی پورے کئے۔ بخاری شریف میں ہے { سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے یہودیوں نے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے آٹھ سال پورے کئے تھے یا دس سال؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے خبر نہیں پھر میں عرب کے بہت بڑے عالم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان دونوں میں جو زیادہ اور پاک مدت تھی وہی آپ علیہ السلام نے پوری کی یعنی دس سال۔ اللہ تعالیٰ کے نبی جو کہتے ہیں پورا کرتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2684]
حدیث فنون میں ہے کہ { سائل نصرانی تھا } لیکن بخاری میں جو ہے وہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے کون سی مدت پوری کی تھی تو جواب ملا کہ ان دونوں میں سے جو کامل اور مکمل مدت تھی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27409:ضعیف]
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا جبرائیل علیہ السلام نے اور فرشتے سے یہاں تک کہ فرشتے نے اللہ سے۔ اللہ نے جواب دیا کہ ’ دونوں میں ہی پاک اور پوری مدت یعنی دس سال ‘ }۔
ایک حدیث میں ہے کہ { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال کی مدت کا پورا کرنا بتایا اور یہ بھی فرمایا کہ { اگر تجھ سے پوچھا جائے کہ کون سی لڑکی سے موسیٰ علیہ السلام نے نکاح کیا تھا تو جواب دینا کہ دونوں میں جو چھوٹی تھیں } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2244:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت دراز کو پورا کرنا بتایا پھر فرمایا کہ { جب موسیٰ علیہ السلام، شعیب علیہ السلام سے رخصتی لے کر جانے لگے تو اپنی بیوی صاحبہ سے فرمایا کہ اپنے والد سے کچھ بکریاں لے لو جن سے ہمارا گزارہ ہو جائے آپ نے اپنے والد سے سوال کیا جس پر انہوں نے وعدہ کیا کہ اس میں سے جتنی چت کبری بکریاں ہونگی سب تمہاری۔ موسیٰ علیہ السلام نے بکریوں کے پیٹ پر اپنی لکڑی پھیری تو ہر ایک کو دو دو تین تین بچے ہوئے اور سب کے سب چتکبرے جن کی نسل اب تک تلاش کرنے سے مل سکتی ہے } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2246:ضعیف]
حدیث فنون میں ہے کہ { سائل نصرانی تھا } لیکن بخاری میں جو ہے وہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے کون سی مدت پوری کی تھی تو جواب ملا کہ ان دونوں میں سے جو کامل اور مکمل مدت تھی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27409:ضعیف]
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا جبرائیل علیہ السلام نے اور فرشتے سے یہاں تک کہ فرشتے نے اللہ سے۔ اللہ نے جواب دیا کہ ’ دونوں میں ہی پاک اور پوری مدت یعنی دس سال ‘ }۔
ایک حدیث میں ہے کہ { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال کی مدت کا پورا کرنا بتایا اور یہ بھی فرمایا کہ { اگر تجھ سے پوچھا جائے کہ کون سی لڑکی سے موسیٰ علیہ السلام نے نکاح کیا تھا تو جواب دینا کہ دونوں میں جو چھوٹی تھیں } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2244:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت دراز کو پورا کرنا بتایا پھر فرمایا کہ { جب موسیٰ علیہ السلام، شعیب علیہ السلام سے رخصتی لے کر جانے لگے تو اپنی بیوی صاحبہ سے فرمایا کہ اپنے والد سے کچھ بکریاں لے لو جن سے ہمارا گزارہ ہو جائے آپ نے اپنے والد سے سوال کیا جس پر انہوں نے وعدہ کیا کہ اس میں سے جتنی چت کبری بکریاں ہونگی سب تمہاری۔ موسیٰ علیہ السلام نے بکریوں کے پیٹ پر اپنی لکڑی پھیری تو ہر ایک کو دو دو تین تین بچے ہوئے اور سب کے سب چتکبرے جن کی نسل اب تک تلاش کرنے سے مل سکتی ہے } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2246:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ شعیب علیہ السلام کی سب بکریاں کالے رنگ کی خوبصورت تھیں۔ جتنے بچے ان کے اس سال ہوئے سب کے سب بے عیب تھے اور بڑے بڑے بھرے ہوئے تھنوں والے اور زیادہ دودھ دینے والے ان تمام روایتوں کا مدار عبداللہ بن لہیعہ پر ہے جو حافظہ کے اچھے نہیں اور ڈر ہے کہ یہ روایتیں مرفوع نہ ہوں۔
چنانچہ اور سند سے یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ سب بکریوں کے بچے اس سال ابلق ہوئے سوائے ایک بکری کے۔ جن سب کو آپ علیہ السلام لے گئے۔
چنانچہ اور سند سے یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ سب بکریوں کے بچے اس سال ابلق ہوئے سوائے ایک بکری کے۔ جن سب کو آپ علیہ السلام لے گئے۔