ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 16

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِیۡ فَاغۡفِرۡ لِیۡ فَغَفَرَ لَہٗ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۶﴾
کہا اے میرے رب! یقینا میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا، سو مجھے بخش دے۔ تو اس نے اسے بخش دیا، بے شک وہی تو بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
بولے کہ اے پروردگار میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تو خدا نے اُن کو بخش دیا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
En
پھر دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار! میں نے خود اپنے اوپر ﻇلم کیا، تو مجھے معاف فرما دے، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا، وه بخشش اور بہت مہربانی کرنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16) ➊ {قَالَ رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ …:} گو موسیٰ علیہ السلام نے جان بوجھ کر قتل نہیں کیا تھا، مگر پیغمبروں کی شان بڑی ہے، ان کی شان کے لحاظ سے یہ بے احتیاطی بھی مناسب نہ تھی، اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اسے گناہ سمجھا اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کے طلب گار ہوئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی، مگر موسیٰ علیہ السلام اس کے بعد بھی نادم رہے اور قیامت کے دن جب لوگ ان کے پاس جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری شفاعت کیجیے تو اپنی ندامت کا اظہار ان الفاظ میں کریں گے: [إِنِّيْ قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُوْمَرْ بِقَتْلِهَا] [مسلم، الإیمان، باب أدنٰی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا: ۱۹۴] میں نے ایک شخص قتل کر دیا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا۔
➋ قرآن کے بیان سے ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے یہ قتل نا دانستہ ہوا تھا، مگر بائبل موسیٰ علیہ السلام کو قتلِ عمد کا مجرم ٹھہراتی ہے۔ چنانچہ اس کی روایت ہے کہ مصری اور اسرائیلی کو لڑتے دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام نے اِدھر اُدھر نگاہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے، تو اس مصری کو جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا۔ (خروج: ۲: ۱۲) یہ یہود کی ان تحریفات میں سے ہے جن کی اصلاح قرآن نے فرمائی، جو پہلی تمام کتابوں پر مہیمن ہے۔
موسیٰ علیہ السلام کی دعا { فَاغْفِرْ لِيْ } میں بخشش کی درخواست کے ساتھ پردہ ڈالنے کی درخواست کا مفہوم بھی شامل ہے۔ {مِغْفَرٌ } اس خَود کو کہتے ہیں جس کے ساتھ جنگ میں سر ڈھانپتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو معاف فرما دیا اور اس واقعہ پر پردہ بھی ڈال دیا اور اگلے دن پیش آنے والے واقعہ تک کسی کو خبر نہیں ہوئی کہ قتل کس نے کیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16-1یہ اتفاقیہ قتل اگرچہ کبیرہ گناہ نہیں تھا، کیونکہ کبیرہ گناہوں سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کی حفاطت فرماتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایسا گناہ نظر آتا تھا جس کے لئے بہت بخشش انہوں نے ضروری سمجھی۔ دوسرے، انھیں خطرہ تھا کہ فرعون کو اس کی اطلاع ملی تو اس کے بدلے انھیں قتل نہ کر دے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ پھر دعا کی: ”پروردگار! بلا شبہ میں نے اپنے آپ پر [26] ظلم کیا ہے۔ لہذا مجھے معاف فرما دے۔ چنانچہ اللہ نے اسے معاف کر دیا۔ بلا شبہ وہ بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔
[26] قتل خطا پر سیدنا موسیٰؑ کی دعائے مغفرت:۔
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ مقتول کوئی بڈھا اور کمزور سا انسان ہو گا اور پہلے ہی مرنے کے قریب ہو گا۔ اوپر سے موسیٰ جیسے طاقتور انسان کے ایک ہی مکا سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ ورنہ عام حالات میں کسی طاقتور کے مکے سے بھی کم از کم موت واقع نہیں ہوتی۔ اور سبطی سے تو وہ اس شہ پر لڑ رہا تھا کہ وہ حکمران قوم کا فرد تھا۔ اب موسیٰؑ کے ہاتھوں جو اس کی موت واقع ہو گئی تو یہ بہرحال قتل کا جرم تو تھا مگر نا دانستہ طور پر ایسا ہوا تھا اس قتل خطا کے جرم کی موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ جرم معاف فرما دیا۔ اس آیت میں ﴿غَفَرَ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور ﴿غَفَرَ کا معنی معاف کرنا بھی ہے اور ڈھانپنا، چھپانا اور پردہ پوشی کرنا بھی اور ﴿مَغْفَرٌ اس خول کو کہتے ہیں جو سپاہی دوران جنگ سر پر رکھ لیتے ہیں۔ اور ان معنوں میں بھی اس لفظ کا استعمال عام ہے۔ اس لحاظ سے حضرت موسیٰؑ کی دعا کا مطلب یہ ہو گا کہ یا اللہ! میرے اس جرم یا میری خطا پر پردہ ڈال دے تاکہ کسی کو اس کی خبر نہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ یہ یہی بات فرقہ وارانہ اشتعال کا باعث بن کر بنی اسرائیل پر کسی عظیم فتنہ کا پیش خیمہ بن جائے۔ اور بہتر یہی ہے کہ موسیٰ کی اس دعا کو دونوں معنوں پر محمول کیا جائے۔ چنانچہ واقعتاً اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کی اس خطا پر پردہ ڈال دیا اور سوائے اس اسرائیلی کے جس کی آپ نے مدد کی تھی کسی کو بھی اس واقعہ کی خبر نہ ہو سکی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔