وَ اِذَا وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ اَخۡرَجۡنَا لَہُمۡ دَآبَّۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ تُکَلِّمُہُمۡ ۙ اَنَّ النَّاسَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾
اور جب ان پر بات واقع ہو جائے گی تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے، جو ان سے کلام کرے گا کہ فلاں فلاں لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
En
اور جب اُن کے بارے میں (عذاب) کا وعدہ پورا ہوگا تو ہم اُن کے لئے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بیان کر دے گا۔ اس لئے کہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے
En
جب ان کے اوپر عذاب کا وعده ﺛابت ہو جائے گا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 82) ➊ { وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ …:} یعنی جس وعید کو یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں اور اسے لانے کی جلدی مچا رہے ہیں، جب اس کا وقت آ جائے گا تو ہم زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو انوکھی قسم کا ہو گا (تنوین تنکیر سے انوکھے کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے)۔ وہ جانور قیامت کی علامات میں سے ہو گا، اس کے بعد ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا، کیونکہ آخرت کی حقیقتوں سے حجاب اٹھنے کے بعد آزمائش کا مقصد ختم ہو جاتا ہے۔ بعض تفاسیر میں ہے کہ وہ جانور ستر ہاتھ لمبا ہو گا، اس کی چار ٹانگیں اور دو پر ہوں گے، اس کے پاس موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہو گی وغیرہ۔ مگر کسی صحیح حدیث میں اس جانور کی کیفیت بیان نہیں ہوئی، اس لیے ہمیں اتنا ہی کافی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا۔ بعض لوگوں نے اسے حدیثِ دجّال میں مذکور جانور ”جساسہ “ قرار دیا ہے اور بعض نے یاجوج ماجوج، مگر یہ سب اندھیرے میں تیر ہیں۔
➋ { تُكَلِّمُهُمْ:} وہ جانور لوگوں سے بات کرے گا۔ قیامت کے قریب اس قسم کے عجیب و غریب واقعات کثرت سے ہوں گے کہ وہ چیزیں جو عام طور پر کلام نہیں کرتیں، کلام کریں گی۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ، وَ حَتّٰی يُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَشِرَاكُ نَعْلِهِ وَتُخْبِرُهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ] [ترمذي، الفتن، باب ما جاء في کلام السباع: ۲۱۸۱، و قال الألباني صحیح و رواہ أحمد: 84/3، ح: ۱۱۷۹۸] ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے اور آدمی سے اس کے کوڑے کا کنارا اور جوتے کا تسمہ بات کرے گا اور اس کی ران اسے بتائے گی کہ اس کے گھر والوں نے اس کے بعد کیا کیا۔“ حتیٰ کہ جب قیامت بالکل قریب ہو گی اور اس کی علاماتِ خاصہ کا ظہور شروع ہو گا، جن کے ظاہر ہونے کے بعد کسی کا ایمان لانا قبول نہیں ہو گا (دیکھیے انعام: ۱۵۸) اس وقت وہ جانور زمین سے نکلے گا۔ حذیفہ بن اُسید غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالا خانے سے ہمیں جھانک کر دیکھا، ہم قیامت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّهَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ، فَذَكَرَ الدُّخَانَ، وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّةَ، وَ طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنُزُوْلَ عِيْسَی ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، وَيَأْجُوْجَ وَ مَأْجُوْجَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوْفٍ، خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَ خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَ خَسْفٌ بِجَزِيْرَةِ الْعَرَبِ، وَ آخِرُ ذٰلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ، تَطْرُدُ النَّاسَ إِلٰي مَحْشَرِهِمْ] [مسلم، الفتن، باب في الآیات التي تکون قبل الساعۃ: ۲۹۰۱] ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم دس نشانیاں دیکھو۔“ اور آپ نے وہ نشانیاں شمار کیں کہ سورج کا اس کے مغرب سے طلوع ہونا، دخان (دھواں)، دابہ (زمین سے نکلنے والا جانور)، یاجوج ماجوج کا نکلنا، عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام اور دجال کا نکلنا اور تین خسف (زمین کا دھنس جانا) ایک خسف مغرب میں، ایک خسف مشرق میں اور ایک خسف جزیرۂ عرب میں اور آخر میں یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ہانکتی ہوئی ان کے محشر کی طرف لے جائے گی۔“
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی، جو میں ابھی تک نہیں بھولا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوْجًا، طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِهَا، وَخُرُوْجُ الدَّابَّةِ عَلَی النَّاسِ ضُحًی، وأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا، فَالْأُخْرٰی عَلٰی إِثْرِهَا قَرِيْبٌ] [مسلم، الفتن، باب في خروج الدجال…: ۲۹۴۱] ”آیات (نشانیوں) میں سب سے پہلی سورج کا اس کے مغرب سے طلوع ہونا اور دابہ (ایک جانور) کا دوپہر کے وقت لوگوں کے سامنے نکلنا، ان میں سے جو بھی دونوں سے پہلے ہو گی، دوسری اس کے بعد قریب ہی ظاہر ہو جائے گی۔“ ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَخْرُجُ الدَّابَّةُ فَتَسِمُ النَّاسَ عَلٰی خَرَاطِيْمِهِمْ، ثُمَّ يُغْمَرُوْنَ فِيْكُمْ حَتّٰی يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْبَعِيْرَ فَيَقُوْلَ مِمَّنِ اشْتَرَيْتَهُ؟ فَيَقُوْلُ اشْتَرَيْتُهُ مِنْ أَحَدِ الْمُخَطَّمِيْنَ] [مسند أحمد: 268/5، ح:۲۲۳۷۱۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۳۲۲] ”(زمین سے) ایک جانور نکلے گا، جو لوگوں کی پیشانیوں پر نشان لگائے گا اور وہ (نشان زدہ) لوگ بہت زیادہ ہو جائیں گے، حتیٰ کہ آدمی کسی سے اونٹ خریدے گا تو کوئی پوچھے گا کہ یہ تو نے کس سے خریدا ہے؟ وہ جواب دے گا کہ میں نے یہ کسی نشان زدہ سے خریدا ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [بَادِرُوْا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِهَا، أَوِ الدُّخَانَ، أَوِ الدَّجَّالَ، أَوِ الدَّابَّةَ، أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ، أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ] [مسلم، الفتن، باب في بقیۃ من أحادیث الدجال: ۲۹۴۷] ”چھ چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کر لو، ایک سورج کا مغرب سے نکلنا، دوسری دخان (دھواں)، تیسری دجّال، چوتھی زمین کا جانور، پانچویں موت اور چھٹی قیامت۔“
➌ { اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا …:} اس کی ایک تفسیر وہ ہے جس کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے کہ {” النَّاسَ “} سے مراد مخصوص لوگ ہیں، یعنی وہ جانور لوگوں سے یہ کلام کرے گا کہ فلاں فلاں لوگ ({النَّاسَ}) ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے، یعنی وہ ایمان نہ لانے والوں کی نشان دہی کرے گا، جیسا کہ اوپر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما کی حدیث میں گزرا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ{” اَنَّ النَّاسَ “} سے پہلے لام محذوف ہے، گویا عبارت یوں ہے: {” تُكَلِّمُهُمْ لِأَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيَاتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ“} یعنی وہ دابہ ان سے کلام کرے گا، کیونکہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے۔ اس صورت میں اس دابّہ کا کلام کرنا ہی قیامت کی نشانی ہو گا۔ دونوں معنوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پہلی صورت میں یہ {” اَنَّ النَّاسَ “} جانور کا کلام ہے اور بعد والے معنی کے لحاظ سے {” اَنَّ النَّاسَ “} کے ساتھ جانور کے نکلنے یا اس کے کلام کرنے کی وجہ بیان ہوئی ہے۔
➋ { تُكَلِّمُهُمْ:} وہ جانور لوگوں سے بات کرے گا۔ قیامت کے قریب اس قسم کے عجیب و غریب واقعات کثرت سے ہوں گے کہ وہ چیزیں جو عام طور پر کلام نہیں کرتیں، کلام کریں گی۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ، وَ حَتّٰی يُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَشِرَاكُ نَعْلِهِ وَتُخْبِرُهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ] [ترمذي، الفتن، باب ما جاء في کلام السباع: ۲۱۸۱، و قال الألباني صحیح و رواہ أحمد: 84/3، ح: ۱۱۷۹۸] ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے اور آدمی سے اس کے کوڑے کا کنارا اور جوتے کا تسمہ بات کرے گا اور اس کی ران اسے بتائے گی کہ اس کے گھر والوں نے اس کے بعد کیا کیا۔“ حتیٰ کہ جب قیامت بالکل قریب ہو گی اور اس کی علاماتِ خاصہ کا ظہور شروع ہو گا، جن کے ظاہر ہونے کے بعد کسی کا ایمان لانا قبول نہیں ہو گا (دیکھیے انعام: ۱۵۸) اس وقت وہ جانور زمین سے نکلے گا۔ حذیفہ بن اُسید غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالا خانے سے ہمیں جھانک کر دیکھا، ہم قیامت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّهَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ، فَذَكَرَ الدُّخَانَ، وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّةَ، وَ طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنُزُوْلَ عِيْسَی ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، وَيَأْجُوْجَ وَ مَأْجُوْجَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوْفٍ، خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَ خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَ خَسْفٌ بِجَزِيْرَةِ الْعَرَبِ، وَ آخِرُ ذٰلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ، تَطْرُدُ النَّاسَ إِلٰي مَحْشَرِهِمْ] [مسلم، الفتن، باب في الآیات التي تکون قبل الساعۃ: ۲۹۰۱] ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم دس نشانیاں دیکھو۔“ اور آپ نے وہ نشانیاں شمار کیں کہ سورج کا اس کے مغرب سے طلوع ہونا، دخان (دھواں)، دابہ (زمین سے نکلنے والا جانور)، یاجوج ماجوج کا نکلنا، عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام اور دجال کا نکلنا اور تین خسف (زمین کا دھنس جانا) ایک خسف مغرب میں، ایک خسف مشرق میں اور ایک خسف جزیرۂ عرب میں اور آخر میں یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ہانکتی ہوئی ان کے محشر کی طرف لے جائے گی۔“
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی، جو میں ابھی تک نہیں بھولا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوْجًا، طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِهَا، وَخُرُوْجُ الدَّابَّةِ عَلَی النَّاسِ ضُحًی، وأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا، فَالْأُخْرٰی عَلٰی إِثْرِهَا قَرِيْبٌ] [مسلم، الفتن، باب في خروج الدجال…: ۲۹۴۱] ”آیات (نشانیوں) میں سب سے پہلی سورج کا اس کے مغرب سے طلوع ہونا اور دابہ (ایک جانور) کا دوپہر کے وقت لوگوں کے سامنے نکلنا، ان میں سے جو بھی دونوں سے پہلے ہو گی، دوسری اس کے بعد قریب ہی ظاہر ہو جائے گی۔“ ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَخْرُجُ الدَّابَّةُ فَتَسِمُ النَّاسَ عَلٰی خَرَاطِيْمِهِمْ، ثُمَّ يُغْمَرُوْنَ فِيْكُمْ حَتّٰی يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْبَعِيْرَ فَيَقُوْلَ مِمَّنِ اشْتَرَيْتَهُ؟ فَيَقُوْلُ اشْتَرَيْتُهُ مِنْ أَحَدِ الْمُخَطَّمِيْنَ] [مسند أحمد: 268/5، ح:۲۲۳۷۱۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۳۲۲] ”(زمین سے) ایک جانور نکلے گا، جو لوگوں کی پیشانیوں پر نشان لگائے گا اور وہ (نشان زدہ) لوگ بہت زیادہ ہو جائیں گے، حتیٰ کہ آدمی کسی سے اونٹ خریدے گا تو کوئی پوچھے گا کہ یہ تو نے کس سے خریدا ہے؟ وہ جواب دے گا کہ میں نے یہ کسی نشان زدہ سے خریدا ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [بَادِرُوْا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِهَا، أَوِ الدُّخَانَ، أَوِ الدَّجَّالَ، أَوِ الدَّابَّةَ، أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ، أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ] [مسلم، الفتن، باب في بقیۃ من أحادیث الدجال: ۲۹۴۷] ”چھ چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کر لو، ایک سورج کا مغرب سے نکلنا، دوسری دخان (دھواں)، تیسری دجّال، چوتھی زمین کا جانور، پانچویں موت اور چھٹی قیامت۔“
➌ { اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا …:} اس کی ایک تفسیر وہ ہے جس کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے کہ {” النَّاسَ “} سے مراد مخصوص لوگ ہیں، یعنی وہ جانور لوگوں سے یہ کلام کرے گا کہ فلاں فلاں لوگ ({النَّاسَ}) ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے، یعنی وہ ایمان نہ لانے والوں کی نشان دہی کرے گا، جیسا کہ اوپر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما کی حدیث میں گزرا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ{” اَنَّ النَّاسَ “} سے پہلے لام محذوف ہے، گویا عبارت یوں ہے: {” تُكَلِّمُهُمْ لِأَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيَاتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ“} یعنی وہ دابہ ان سے کلام کرے گا، کیونکہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے۔ اس صورت میں اس دابّہ کا کلام کرنا ہی قیامت کی نشانی ہو گا۔ دونوں معنوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پہلی صورت میں یہ {” اَنَّ النَّاسَ “} جانور کا کلام ہے اور بعد والے معنی کے لحاظ سے {” اَنَّ النَّاسَ “} کے ساتھ جانور کے نکلنے یا اس کے کلام کرنے کی وجہ بیان ہوئی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
82-1یعنی جب نیکی کا حکم دینے والا اور برائی سے روکنے والا نہیں رہ جائے گا۔ 82-2یہ وہی ہے جو قرب قیامت کی علامات میں سے ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو، ان میں ایک جانور نکلنا ہے۔ (صحیح بخاری) دوسری روایت میں ہے ' سب سے پہلی نشانی جو ظاہر ہوگی، وہ ہے سورج کا مشرق کی بجائے، مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت جانور کا نکلنا۔ ان دونوں میں سے جو پہلے ظاہر ہوگی، دوسری اس کے فوراً بعد ظاہر ہوجائے گی (صحیح بخاری)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
82۔ اور جب (عذاب کی) بات پوری ہونے کا وقت آجائے گا تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ (فلاں فلاں) لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دابتہ الارض ٭٭
جس جانور کا یہاں ذکر ہے یہ لوگوں کے بالکل بگڑ جانے اور دین حق کو چھوڑ بیٹھنے کے وقت آخر زمانے میں ظاہر ہو گا۔ جب کہ لوگوں نے دین حق کو بدل دیا ہو گا۔ بعض کہتے ہیں یہ مکہ شریف سے نکلے گا بعض کہتے ہیں اور کسی جگہ سے جس کی تفصیل ابھی آئے گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔ وہ بولے گا باتیں کرے گا اور کہے گا کہ لوگ اللہ کی آیتوں کا یقین نہیں کرتے تھے۔
ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو مختار کہتے ہیں۔ لیکن اس قول میں نظر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ وہ انہیں زخمی کرے گا ایک روایت میں ہے کہ وہ یہ اور وہ دونوں کرے گا۔ یہ قول بہت اچھا ہے اور دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو مختار کہتے ہیں۔ لیکن اس قول میں نظر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ وہ انہیں زخمی کرے گا ایک روایت میں ہے کہ وہ یہ اور وہ دونوں کرے گا۔ یہ قول بہت اچھا ہے اور دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
وہ احادیث و آثار جو دابتہ الارض کے بارے میں مروی ہیں۔ ان میں سے کچھ ہم یہاں بیان کرتے ہیں «واللہ المستعان» ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک مرتبہ بیٹھے قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے آئے۔ ہمیں ذکر میں مشغول دیکھ کر فرمانے لگے کہ قیامت قائم نہ ہو گی کہ تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، دابتہ الارض، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ظہور، اور دجال کانکلنا اور مغرب، مشرق اور جزیرہ عرب میں تین خسف ہونا، اور ایک آگ کا عدن سے نکلنا جو لوگوں کا حشر کرے گی۔ انہی کے ساتھ رات گزارے گی اور انہی کے ساتھ دوپہر کا سونا سوئے گی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:7214]
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے آئے۔ ہمیں ذکر میں مشغول دیکھ کر فرمانے لگے کہ قیامت قائم نہ ہو گی کہ تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، دابتہ الارض، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ظہور، اور دجال کانکلنا اور مغرب، مشرق اور جزیرہ عرب میں تین خسف ہونا، اور ایک آگ کا عدن سے نکلنا جو لوگوں کا حشر کرے گی۔ انہی کے ساتھ رات گزارے گی اور انہی کے ساتھ دوپہر کا سونا سوئے گی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:7214]
ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ { دابتہ الارض تین مرتبہ نکلے گا دور دراز کے جنگل سے ظاہر ہو گا اور اس کا ذکر شہر یعنی مکہ تک نہ پہنچے گا پھر ایک لمبے زمانے کے بعد دوبارہ ظاہر ہو گا اور لوگوں کی زبانوں پر اس کا قصہ چڑھ جائے گا یہاں تک کہ مکہ میں بھی اس کی شہرت پہنچے گی۔
پھر جب لوگ اللہ کی سب سے زیادہ حرمت و عظمت والی مسجد مسجد الحرام میں ہوں گے اسی وقت اچانک دفعتا دابتہ الارض انہیں وہی دکھائی دے گا کہ رکن مقام کے درمیان اپنے سر سے مٹی جھاڑ رہا ہو گا۔ لوگ اس کو دیکھ کر ادھر ادھر ہونے لگیں گے یہ مومنوں کی جماعت کے پاس جائے گا اور ان کے منہ کو مثل روشن ستارے کے منور کر دے گا اس سے بھاگ کر نہ کوئی بچ سکتا ہے اور نہ چھپ سکتا ہے۔
یہاں تک کہ ایک شخص اس کو دیکھ کر نماز کو کھڑا ہو جائے گا یہ اس کو کہے گا اب نماز کو کھڑا ہوا ہے؟ پھر اس کے پیشانی پر نشان کر دے گا اور چلاجائے گا اس کے ان نشانات کے بعد کافر مومن کا صاف طور امتیاز ہو جائے گایہاں تک کہ مومن کافر سے کہے گا کہ اے کافر! میرا حق ادا کر اور کافر مومن سے کہے گا اے مومن! میرا حق ادا کر۔ }
یہ روایت سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی مروی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ { یہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہو گا جب کہ آپ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے ہونگے۔ } لیکن اس کی اسناد صحیح نہیں ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ { سب سے پہلے جو نشانی ظاہر ہو گی وہ سورج کا مغرب سے نکلنا اور دابتہ الارض کا ضحی کے وقت آ جانا ہے۔ ان دونوں میں سے جو پہلے ہو گا اس کے بعد ہی دوسرا ہو گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2941]
صحیح مسلم شریف میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھ چیزوں کی آمد سے پہلے نیک اعمال کر لو۔ سورج کا مغرب سے نکلنا، دھویں کا آنا، دجال کا آنا، اور دابتہ الارض کا آنا تم میں سے ہر ایک کا خاص امر اور عام امر۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:.2947-128] یہ حدیث اور سندوں سے دوسری کتابوں میں بھی ہے۔
ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ { دابتہ الارض کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کی لکڑی اور سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہو گی۔ کافروں کی ناک پر لکڑی سے مہر لگائے گا اور مومنوں کے منہ انگوٹھی سے منور کر دے گا یہاں تک کہ ایک دستر خوان بیٹھے ہوئے مومن کافر سب ظاہر ہونگے۔ } ۱؎ [مسند طیالسی:2564:ضعیف]
ایک اور حدیث میں جو مسند احمد میں ہے، مروی ہے کہ { کافروں کے ناک پر انگوٹھی سے مہر کرے گا اور مومنوں کے چہرے لکڑی سے چمکا دے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:295/2:ضعیف]
ابن ماجہ میں سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر مکہ کے پاس ایک جنگل میں گئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک خشک زمین ہے جس کے اردگرد ریت ہے۔ فرمانے لگے یہیں سے دابتہ الارض نکلے گا۔ } سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس کے کئی سال بعد میں حج کے لیے نکلا تو مجھے لکڑی دکھائی دی جو میری اس لکڑی کے برابر تھی۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4066،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس کے چار پیر ہونگے صفا کے کھڈ سے نکلے گا بہت تیزی سے خروج کرے گا جیسے کہ کوئی تیز رفتار گھوڑا ہو لیکن تاہم تین دن میں اس کے جسم کا تیسرا حصہ بھی نہ نکلا ہو گا۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس کی بابت پوچھا گیا تو فرمانے لگے جیاد میں ایک چٹان ہے اس کے نیچے سے نکلے گا میں اگر وہاں ہوتا تو تمہیں وہ چٹان دکھا دیتا۔ یہ سیدھا مشرق کی طرف جائے گا اور اس شور سے جائے گا کہ ہر طرف اس کی آواز پہنچ جائے گی۔ پھر شام کی طرف جائے گا وہاں بھی چیخ لگا کر، پھر یمن کی طرف متوجہ ہوگا یہاں بھی آواز لگا کر شام کے وقت مکہ سے چل کر صبح کو عسفان پہنچ جائے گا۔ لوگوں نے پوچھا پھر کیا ہو گا؟ فرمایا پھر مجھے معلوم نہیں۔
پھر جب لوگ اللہ کی سب سے زیادہ حرمت و عظمت والی مسجد مسجد الحرام میں ہوں گے اسی وقت اچانک دفعتا دابتہ الارض انہیں وہی دکھائی دے گا کہ رکن مقام کے درمیان اپنے سر سے مٹی جھاڑ رہا ہو گا۔ لوگ اس کو دیکھ کر ادھر ادھر ہونے لگیں گے یہ مومنوں کی جماعت کے پاس جائے گا اور ان کے منہ کو مثل روشن ستارے کے منور کر دے گا اس سے بھاگ کر نہ کوئی بچ سکتا ہے اور نہ چھپ سکتا ہے۔
یہاں تک کہ ایک شخص اس کو دیکھ کر نماز کو کھڑا ہو جائے گا یہ اس کو کہے گا اب نماز کو کھڑا ہوا ہے؟ پھر اس کے پیشانی پر نشان کر دے گا اور چلاجائے گا اس کے ان نشانات کے بعد کافر مومن کا صاف طور امتیاز ہو جائے گایہاں تک کہ مومن کافر سے کہے گا کہ اے کافر! میرا حق ادا کر اور کافر مومن سے کہے گا اے مومن! میرا حق ادا کر۔ }
یہ روایت سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بھی مروی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ { یہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہو گا جب کہ آپ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے ہونگے۔ } لیکن اس کی اسناد صحیح نہیں ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ { سب سے پہلے جو نشانی ظاہر ہو گی وہ سورج کا مغرب سے نکلنا اور دابتہ الارض کا ضحی کے وقت آ جانا ہے۔ ان دونوں میں سے جو پہلے ہو گا اس کے بعد ہی دوسرا ہو گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2941]
صحیح مسلم شریف میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھ چیزوں کی آمد سے پہلے نیک اعمال کر لو۔ سورج کا مغرب سے نکلنا، دھویں کا آنا، دجال کا آنا، اور دابتہ الارض کا آنا تم میں سے ہر ایک کا خاص امر اور عام امر۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:.2947-128] یہ حدیث اور سندوں سے دوسری کتابوں میں بھی ہے۔
ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ { دابتہ الارض کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کی لکڑی اور سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہو گی۔ کافروں کی ناک پر لکڑی سے مہر لگائے گا اور مومنوں کے منہ انگوٹھی سے منور کر دے گا یہاں تک کہ ایک دستر خوان بیٹھے ہوئے مومن کافر سب ظاہر ہونگے۔ } ۱؎ [مسند طیالسی:2564:ضعیف]
ایک اور حدیث میں جو مسند احمد میں ہے، مروی ہے کہ { کافروں کے ناک پر انگوٹھی سے مہر کرے گا اور مومنوں کے چہرے لکڑی سے چمکا دے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:295/2:ضعیف]
ابن ماجہ میں سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر مکہ کے پاس ایک جنگل میں گئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک خشک زمین ہے جس کے اردگرد ریت ہے۔ فرمانے لگے یہیں سے دابتہ الارض نکلے گا۔ } سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس کے کئی سال بعد میں حج کے لیے نکلا تو مجھے لکڑی دکھائی دی جو میری اس لکڑی کے برابر تھی۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4066،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس کے چار پیر ہونگے صفا کے کھڈ سے نکلے گا بہت تیزی سے خروج کرے گا جیسے کہ کوئی تیز رفتار گھوڑا ہو لیکن تاہم تین دن میں اس کے جسم کا تیسرا حصہ بھی نہ نکلا ہو گا۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس کی بابت پوچھا گیا تو فرمانے لگے جیاد میں ایک چٹان ہے اس کے نیچے سے نکلے گا میں اگر وہاں ہوتا تو تمہیں وہ چٹان دکھا دیتا۔ یہ سیدھا مشرق کی طرف جائے گا اور اس شور سے جائے گا کہ ہر طرف اس کی آواز پہنچ جائے گی۔ پھر شام کی طرف جائے گا وہاں بھی چیخ لگا کر، پھر یمن کی طرف متوجہ ہوگا یہاں بھی آواز لگا کر شام کے وقت مکہ سے چل کر صبح کو عسفان پہنچ جائے گا۔ لوگوں نے پوچھا پھر کیا ہو گا؟ فرمایا پھر مجھے معلوم نہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ مزدلفہ کی رات کو نکلے گا۔ عزیر علیہ السلام کے ایک کلام کی حکایت ہے کہ سدوم کے نیچے سے یہ نکلے گا۔ اس کے کلام کو سب سنیں گے حاملہ کے حمل وقت سے پہلے گرجائیں گے، میٹھا پانی کڑوا ہو جائے گا دوست دشمن ہو جائیں گے حکمت جل جائی گی علم اٹھ جائے گا نیچے کی زمین باتیں کرے گی انسان کی وہ تمنائیں ہونگی کہ جو کبھی پوری نہ ہوں، ان چیزوں کی کوشش ہو گی جو کبھی حاصل نہ ہو۔ اس بارے میں کام کریں گے جسے کھائیں گے نہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے اس کے جسم پر سب رنگ ہونگے۔ اس کے دوسینگوں کے درمیان سوار کے لیے ایک فرسخ کی راہ ہو گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ یہ موٹے نیزے کی اور بھالے کی طرح کا ہو گا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بال ہونگے کھر ہونگے ڈاڑھی ہو گی دم نہ ہو گی۔ تین دن میں بمشکل ایک تہائی باہر آئے گا حالانکہ تیز گھوڑے کی چال چلتا ہو گا۔
سیدنا ابو زبیر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اس کا سر بیل کے سرکے مشابہ ہو گا آنکھیں خنزیر کی آنکھوں کے مشابہ ہونگی، کان ہاتھی جیسے ہوں گے، سینگ کی جگہ اونٹ کی طرح ہو گی، شتر مرغ جیسی گردن ہو گی، شیر جیسا سینہ ہو گا، چیتے جیسا رنگ ہو گا بلی جیسی کمر ہو گی مینڈے جیسی دم ہو گی اونٹ جیسے پاؤں ہونگے ہر دو جوڑ کے درمیان بارہ گز کا فاصلہ ہو گا۔
موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی اور سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ساتھ ہو گی ہر مومن کے چہرے پر اپنے عصائے موسوی سے نشان کرے گا جو پھیل جائے گا اور چہرہ منور ہو جائے گا اور ہر کافر کے چہرے پر خاتم سلیمانی سے نشانی لگا دے گا جو پھیل جائے گا اور اس کا سارا چہرہ سیاہ ہو جائے گا۔
اب تو اس طرح مومن کافر ظاہر ہو جائیں گے کہ خرید و فروخت کے وقت کھانے پینے کے وقت لوگ ایک دوسروں کو اے مومن اور اے کافر کہہ کر بلائیں گے۔ دابتہ الارض ایک ایک کا نام لے کر ان کو جنت کی خوشخبری یا جہنم کی بدخبری سنائے گا۔ یہی معنی ومطلب اس آیت کا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے اس کے جسم پر سب رنگ ہونگے۔ اس کے دوسینگوں کے درمیان سوار کے لیے ایک فرسخ کی راہ ہو گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ یہ موٹے نیزے کی اور بھالے کی طرح کا ہو گا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بال ہونگے کھر ہونگے ڈاڑھی ہو گی دم نہ ہو گی۔ تین دن میں بمشکل ایک تہائی باہر آئے گا حالانکہ تیز گھوڑے کی چال چلتا ہو گا۔
سیدنا ابو زبیر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اس کا سر بیل کے سرکے مشابہ ہو گا آنکھیں خنزیر کی آنکھوں کے مشابہ ہونگی، کان ہاتھی جیسے ہوں گے، سینگ کی جگہ اونٹ کی طرح ہو گی، شتر مرغ جیسی گردن ہو گی، شیر جیسا سینہ ہو گا، چیتے جیسا رنگ ہو گا بلی جیسی کمر ہو گی مینڈے جیسی دم ہو گی اونٹ جیسے پاؤں ہونگے ہر دو جوڑ کے درمیان بارہ گز کا فاصلہ ہو گا۔
موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی اور سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ساتھ ہو گی ہر مومن کے چہرے پر اپنے عصائے موسوی سے نشان کرے گا جو پھیل جائے گا اور چہرہ منور ہو جائے گا اور ہر کافر کے چہرے پر خاتم سلیمانی سے نشانی لگا دے گا جو پھیل جائے گا اور اس کا سارا چہرہ سیاہ ہو جائے گا۔
اب تو اس طرح مومن کافر ظاہر ہو جائیں گے کہ خرید و فروخت کے وقت کھانے پینے کے وقت لوگ ایک دوسروں کو اے مومن اور اے کافر کہہ کر بلائیں گے۔ دابتہ الارض ایک ایک کا نام لے کر ان کو جنت کی خوشخبری یا جہنم کی بدخبری سنائے گا۔ یہی معنی ومطلب اس آیت کا ہے۔